تازہ ترین جوابات
خواتین سے مصافحہ کرنے کا حکم
اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان رکھنے والے کسی بھی مرد کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی ایسی عورت سے ہاتھ ملائے جو اس کے لیے حلال نہ ہو یا اس کے محرم رشتہ داروں میں شامل نہ ہو؛ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اگر تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی ماری جائے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو ہاتھ لگائے جو اس کے لیے حلال نہ ہو۔) مصافحہ حتیٰ کہ کپڑے کے اوپر سے بھی جائز نہیں، اور اس بارے میں جو حدیث آئی ہے وہ ضعیف ہے۔محفوظ کریںمحض ذاتی مطالعہ پر اکتفا کرنے کے منفی اثرات
محفوظ کریںاجنبی عورت سے مرد کا مصافحہ کرنا
محفوظ کریںکیا سابقہ کمپنی کے ڈیٹا سے نئی ملازمت کی جگہ پر فائدہ اٹھانا جائز ہے؟
محفوظ کریںنبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا غضب ناک ہونا آپ کی بشریت کا تقاضا ہے۔
محفوظ کریںتعزیت کے موقع پر کہے جانے والے بہترین کلمات
تعزیت کا مقصد مصیبت زدہ کو صبر کی تلقین کرنا ہے، اور اس کے لیے شریعت میں کوئی خاص الفاظ مقرر نہیں کیے گئے۔ بہتر یہ ہے کہ وہ الفاظ کہے جائیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعزیت کے موقع پر ارشاد فرمائے، جیسے: { إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ}’’بیشک اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا، اور اسی کا ہے جو اس نے دیا، اور ہر چیز کی اس کے ہاں ایک مقرر مدت ہے، لہٰذا تم صبر کرو اور اجر کی امید رکھو‘‘۔ عام طور پر کہے جانے والے تعزیتی الفاظ یہ ہیں: {عَظَّمَ اللهُ أَجْرَكَ، وَأَحْسَنَ اللهُ عَزَاءَكَ، وَغَفَرَ لِمَيِّتِكَ، أَلْهَمَكَ اللهُ صَبْرًا، وَأَجْزَلَ لَنَا وَلَكَ بِالصَّبْرِ أَجْرًا } ’’اللہ تعالیٰ آپ کا اجر عظیم فرمائے، آپ کے غم میں آسانی فرمائے، آپ کے مُردے کو بخش دے، اور آپ کو صبر عطا فرمائے، اور ہمیں اور آپ کو اس صبر پر اجر جزیل عطا فرمائے۔محفوظ کریںبیک وقت بیوی کے ساتھ بیوی کی خالہ یا پھوپھی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا۔
محفوظ کریںہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم تمام نبیوں اور رسولوں سے افضل اور اللہ تعالیٰ کے حبیب ہیں
محفوظ کریںسونے سے پہلے وضو کرنے کے فضائل سے متعلق احادیث کی صحت
محفوظ کریںاللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتابوں کی تعداد
مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابوں پر ایمان رکھے۔ جن کتابوں کی تفصیل معلوم نہیں، ان پر اجمالی ایمان لایا جائے اور جن کی تفصیل معلوم ہے، ان پر تفصیلی ایمان لایا جائے۔ ان کتابوں کی تعداد کے بارے میں قطعی علم کسی کو نہیں ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ جہاں تک سوال میں مذکور حدیث کا تعلق ہے، تو اس کی کوئی ایسی سند نہیں جو قابلِ اعتماد ہو۔محفوظ کریں
یوم عرفہ اور عید الاضحی کیلئے منتخب
جوابات