کیا نکاحِ متعہ ولی اور گواہوں کے ساتھ صحیح ہو جاتا ہے؟

سوال 348783

میں نے انٹرنیٹ پر ایک شخص کا مضمون پڑھا جو اپنے آپ کو اہلِ سنت میں سے ظاہر کرتا ہے، پھر مجھے معلوم ہوا کہ یہ شبہ دراصل شیعوں کی طرف سے ہے۔ اس نے یہ دعویٰ کیا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ متعہ کے نکاح کو اس صورت میں جائز سمجھتے تھے جب اس پر عادل گواہ موجود ہوں۔ اس نے اس پر یہ روایت دلیل کے طور پر پیش کی: ’’لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ متعہ کرتے ہیں اور اس پر عادل گواہ نہیں بناتے؟ اگر وہ اسے واضح نہ کریں تو میں ان پر حد جاری کروں گا۔‘‘ حالانکہ یہ روایت ضعیف ہے، اس میں ایک مجہول راوی موجود ہے۔

اس نے ’’مصنف عبد الرزاق‘‘ کی ایک روایت سے بھی استدلال کیا جس میں گواہ مقرر کرنے کی بات ہے، روایت یہ ہے:
’’ابن جریج، عطا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: سب سے پہلے میں نے صفوان بن یعلیٰ سے متعہ کا ذکر سنا۔ انہوں نے مجھے بتایا، یعلیٰ سے، کہ عمرو بن حریث نے ایک عورت سے متعہ کیا، اس عورت کا نام بھی جابر نے لیا تھا، لیکن میں بھول گیا ہوں۔ وہ عورت حاملہ ہو گئی، یہ بات عمر تک پہنچی، تو انہوں نے اسے بلوایا اور اس سے پوچھا، اس نے کہا: جی ہاں۔ عمر نے کہا: کس کو گواہ بنایا؟ عطا کہتے ہیں: مجھے اب یاد نہیں ہے کہ اس عورت نے اپنی والدہ کا ذکر کیا تھا یا والدہ کے ولی کا۔ اس پر عمر نے کہا: ان کے علاوہ کسی اور کو کیوں نہ گواہ بنایا؟ راوی کہتا ہے: انہیں اندیشہ ہوا کہ کہیں معاملہ زیادہ گھمبیر نہ ہو۔‘‘

اس روایت کی سند صحیح ہے، کیونکہ ابن جریج، عطا سے تدلیس نہیں کرتے۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے یہ پوچھا کہ اس نکاح پر کون گواہ تھا، اور انہوں نے اس فعل پر نکیر نہیں کی۔ تو کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ وہ متعہ کے نکاح کو گواہوں کے ساتھ جائز سمجھتے تھے؟

لیکن اس کے مقابلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی سے یہ بات منقول ہے، جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ’’جب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے لوگوں سے خطاب فرمایا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں متعہ کی اجازت تین دن کے لیے دی، پھر اسے حرام قرار دے دیا۔ اللہ کی قسم! مجھے کسی شخص کے بارے میں بھی پتہ چل گیا کہ وہ شادی شدہ ہے اور متعہ کر رہا ہے تو میں اسے پتھروں سے رجم کر دوں گا، الا یہ کہ وہ میرے پاس چار گواہ لے آئے جو یہ گواہی دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے متعہ حرام کرنے کے بعد دوبارہ حلال کر دیا تھا۔‘‘

اس کے علاوہ آپ رضی اللہ عنہ کے چچا زاد صحابی سیدنا سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ کے واقعے سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے جو فتحِ مکہ کے موقع پر پیش آیا، جس میں نہ ولی کا ذکر ہے اور نہ گواہوں کا۔

میرا سوال یہ ہے:
کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ متعہ کے نکاح کو اس صورت میں جائز سمجھتے تھے جب اس پر عادل گواہ ہوں، کیونکہ انہوں نے مصنف عبدالرزاق کی روایت میں اس پر نکیر نہیں کی بلکہ صرف گواہوں کے بارے میں سوال کیا؟
اور ان کے اس قول ’’انہیں اندیشہ ہوا کہ دوسرا شخص مشتبہ نہ ہو‘‘ کا کیا مطلب ہے؟

جواب کا خلاصہ

نکاحِ متعہ دراصل وقتی نکاح ہوتا ہے، اور وقتی نکاح تمام اہلِ علم کے نزدیک حرام اور باطل ہے۔ اس کی حرمت پر اجماع بھی نقل کیا گیا ہے، خواہ وہ ولی اور گواہوں کے ساتھ ہو یا ان کے بغیر۔

متعلقہ جوابات

جواب کا متن

نکاحِ متعہ کا حکم

نکاحِ متعہ دراصل وقتی (مؤقت) نکاح ہے، اور جمہور اہلِ علم کے نزدیک یہ حرام اور باطل ہے۔ اس کی حرمت پر اجماع بھی نقل کیا گیا ہے، خواہ وہ ولی اور گواہوں کے ساتھ ہو یا ان کے بغیر۔

چنانچہ ابن قدامہ رحمہ اللہ ’’المغنی‘‘ (7/178) میں فرماتے ہیں:
’’(نکاحِ متعہ جائز نہیں) نکاحِ متعہ کا مطلب یہ ہے کہ عورت سے ایک مقررہ مدت کے لیے نکاح کیا جائے، جیسے یہ کہا جائے: میں نے اپنی بیٹی کا نکاح تم سے ایک مہینے کے لیے، یا ایک سال کے لیے، یا موسم ختم ہونے تک، یا حاجیوں کی آمد تک کر دیا۔ اور اس جیسی کوئی بھی محدود مدت کے لیے نکاح کیا جائے خواہ مدت معلوم ہو یا مجہول۔ ہر حالت میں یہ نکاح باطل ہے۔ اس پر امام احمد نے صراحت کی ہے، چنانچہ انہوں نے فرمایا: نکاحِ متعہ حرام ہے۔۔۔اور یہ صحابہ کرام اور فقہائے عظام کا موقف ہے۔
اور جن صحابہ کرام سے اس کی حرمت منقول ہے ان میں عمر، علی، ابن عمر، ابن مسعود، اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ اسی طرح ابن عبد البر کہتے ہیں: نکاحِ متعہ کی حرمت پر امام مالک، اہلِ مدینہ، اہلِ عراق میں ابو حنیفہ، اہلِ شام میں اوزاعی، اہلِ مصر میں لیث، امام شافعی، اور تمام اہل اثر اس پر متفق ہیں۔‘‘ ختم شد

سوال میں وارد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اثر کی توضیح

سوال میں مذکور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اثر کو عبد الرزاق نے ’’المصنف‘‘ (14021) میں روایت کیا ہے، حضرت یعلیٰ سے، کہ معاویہ نے طائف میں ایک عورت سے متعہ کیا، تو اس عورت نے اس پر نکیر کی۔ ہم ابن عباس کے پاس گئے اور بعض نے یہ بات ان سے بھی ذکر کر دی ، تو انہوں نے کہا: ہاں۔ لیکن میرے دل کو اطمینان نہ ہوا یہاں تک کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما آئے تو ہم ان کے بھی گھر گئے۔ لوگوں نے ان سے کئی مسائل پوچھے، پھر متعہ کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: ’’ہاں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں، اور ابو بکر اور عمر کے دور میں متعہ کرتے تھے، یہاں تک کہ عمر کی خلافت کے آخری زمانے میں عمرو بن حریث نے ایک عورت سے متعہ کیا — جابر نے اس کا نام بتایا تھا، مگر میں بھول گیا — وہ عورت حاملہ ہو گئی، یہ بات عمر تک پہنچی، تو انہوں نے اسے بلوایا اور اس سے پوچھا۔ اس عورت نے متعہ کا اقرار کرتے ہوئے کہا: جی ہاں۔ اس پر عمر نے فرمایا: کس کو گواہ بنایا؟ عطا کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں، عورت نے کہا: میری ماں یا اس کا ولی۔ عمر نے فرمایا: ان دونوں کے علاوہ کسی اور کو کیوں نہ گواہ بنایا؟ راوی کہتے ہیں: انہیں اندیشہ ہوا کہ کہیں معاملہ زیادہ گھمبیر نہ ہو۔‘‘

ابن عبد البر نے بھی ’’التمہید‘‘ (10/114) میں اسے عبد الرزاق کی طرف منسوب کرتے ہوئے اس لفظ کے ساتھ نقل کیا ہے:
’’عورت نے کہا: میری ماں اور اس کا بیٹا، یا اس کا بھائی اور اس کا بیٹا۔ عمر نے فرمایا: ان کے علاوہ کیوں نہ کسی اور کو گواہ بنایا؟ پھر انہوں نے اس سے منع کر دیا۔‘‘

اور مسلم (1405) میں ابو الزبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا:
’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور ابو بکر کے زمانے میں، اور عمر کے ابتدائی دور میں، چند دن کے لیے کھجور اور آٹے کی ایک مٹھی کے عوض متعہ کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ عمر نے عمرو بن حریث کے معاملے میں اس سے منع کر دیا۔‘‘

ظاہر یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گواہوں کے بارے میں سوال اس لیے کیا تھا تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ یہ معاملہ زنا ہے یا نکاحِ متعہ؟ اور اس پر ان کا یہ قول دلالت کرتا ہے: ’’ انہیں اندیشہ ہوا کہ کہیں معاملہ زیادہ گھمبیر نہ ہو۔ ‘‘
جب یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ نکاحِ متعہ ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کر دیا۔

اور ان کے قول: ’’ان کے علاوہ کسی اور کو گواہ کیوں نہ بنایا؟‘‘ میں اس بات کی وضاحت ہے کہ نکاح میں عورت کی گواہی معتبر نہیں ہوتی۔

واضح ہوا کہ اس اثر میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ اگر متعہ گواہوں کے ساتھ ہو تو جائز ہو جاتا ہے، یا اگر دو مرد گواہ ہوں تو درست ہو جاتا ہے، بلکہ اس میں متعہ اور زنا کے درمیان فرق واضح کرنا، اور صحیح نکاح میں مرد گواہوں کی شرط کی تعلیم اور رہنمائی مقصود ہے۔

مزید فائدے کے لیے سوال نمبر: (20738) کے جواب ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

باطل نکاح

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android