جب تک کوئی شخص حالتِ احرام میں ہو، اس کے لیے خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا جائز نہیں، اور نہ ہی حرم کی حدود میں شکار کرنا جائز ہے چاہے کوئی حالتِ احرام میں ہو یا نہ ہو۔ البتہ جس شخص نے عمرہ یا حج کا احرام باندھ رکھا ہو، اس کے لیے سمندر کے جانوروں کا شکار جائز ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَيَبْلُوَنَّكُمْ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنْ الصَّيْدِ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَخَافُهُ بِالْغَيْبِ فَمَنْ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ . يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّداً فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنْ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْياً بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَاماً لِيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِهِ عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ وَمَنْ عَادَ فَيَنتَقِمُ اللَّهُ مِنْهُ وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ . أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعاً لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُماً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ ایسے شکار کے ذریعہ تمہاری آزمائش کرے گا جو تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہو۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ کون غائبانہ طور پر اللہ سے ڈرتا ہے۔ پھر اس کے بعد بھی جس نے (اللہ کی حدود سے) تجاوز کیا، اس کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے [94] اے ایمان والو! تم حالت احرام میں شکار نہ مارو۔ اور جس نے دیدہ دانستہ شکار مارا تو اس کا بدلہ مویشیوں میں سے اسی شکار کے ہم پلہ جانور ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں اور یہ جانور کعبہ لے جا کر قربانی کیا جائے۔ یا چند مسکینوں کو کھانا کھلانا یا اس کے برابر روزے رکھنا اس کا کفارہ ہے۔ یہ اس لیے کہ وہ اپنے کام کی سزا چکھے۔ جو کچھ اس حکم سے پہلے ہو چکا اسے اللہ نے معاف کر دیا اور جو اب اس کا اعادہ کرے گا اللہ اس سے بدلہ لے گا اور اللہ تعالیٰ غالب ہے بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے۔ [95] تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے۔ تم بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو اور قافلے والے زاد راہ بھی بنا سکتے ہیں۔ البتہ جب تک حالت احرام میں ہو تو خشکی کا شکار تمہارے لیے حرام کیا گیا ہے اور اللہ (کے احکام کی خلاف ورزی کرنے) سے بچتے رہو جس کے حضور تم جمع کئے جاؤ گے ۔ [المائدہ: 94 - 96]
شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کے فرمان: أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ ترجمہ: ’’تمہارے لیے سمندر کا شکار حلال کیا گیا‘‘ کا ظاہر عموم اس بات کو شامل ہے کہ سمندری شکار حج یا عمرہ کے محرم کے لیے جائز ہے، اور حقیقت میں ایسا ہی ہے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حالتِ احرام میں شکار کو صرف خشکی کے شکار تک محدود رکھا، اپنے اس فرمان میں: وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُماً ترجمہ: ’’اور تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا جب تک تم احرام کی حالت میں ہو‘‘۔ اس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ سمندر کا شکار محرم پر حرام نہیں، جیسا کہ آیت کا ظاہر بھی یہی ہے۔‘‘
اور انہوں نے مزید فرمایا:
’’علمائے کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ حج یا عمرے کے محرم کے لیے خشکی کا شکار کرنا حرام ہے۔
اور یہ اجماع ایسے جنگلی جانوروں پر ہے جو کھائے جاتے ہیں، جیسے ہرن، غزال اور اسی طرح کے دیگر جانور...
اور تمام علمائے کرام کا اس بات پر بھی اجماع ہے کہ جس جانور کو محرم نے شکار کیا ہو، وہ خود اس محرم کے لیے بھی کھانا جائز نہیں، نہ کسی دوسرے محرم کے لیے، اور نہ ہی کسی غیر محرم حلال کے لیے ؛کیونکہ احرام کی حالت میں کیا گیا شکار مردار کے حکم میں ہوتا ہے۔‘‘ ختم شد
أضواء البيان: (2/ 117-118)
واللہ اعلم