نمازوں کو جمع اور انہیں قصر ادا کرنے کے درمیان کئی فرق ہیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
اوّل: تعریف
قصر کا مطلب یہ ہے کہ سفر کی حالت میں چار رکعت والی نماز کو دو رکعت ادا کیا جائے۔
جبکہ جمع سے مراد یہ ہے کہ نمازی ظہر اور عصر کو، یا مغرب اور عشاء کو ایک ہی وقت میں ادا کرے، خواہ پہلی نماز کے وقت میں—جسے ’’جمعِ تقدیم‘‘ کہا جاتا ہے—یا دوسری نماز کے وقت میں—جسے ’’جمعِ تاخیر‘‘ کہا جاتا ہے۔
دوم: شرعی حکم
علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسافر کے لیے نماز قصر کرنا پوری نماز پڑھنے سے افضل ہے؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے تمام اسفار میں نماز قصر فرمائی، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے سفر میں پوری نماز پڑھنا ثابت نہیں ہے۔
حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہا، تو آپ سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، اور ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔‘‘ اسے امام بخاری (1102)نے روایت کیا ہے ۔
بلکہ فقہائے احناف اس بات کے قائل ہیں کہ مسافر پر نماز قصر کرنا واجب ہے، جبکہ جمہور علماء کا صحیح موقف یہ ہے کہ قصر سنتِ مؤکدہ ہے، اور پوری نماز ادا کرنے سے افضل ہے۔
ملاحظہ ہو: ’’الإجماع‘‘ لابن المنذر (27)، ’’المغنی‘‘ (1/382)، ’’الموسوعۃ الفقہیۃ‘‘ (27/274)۔
اور جہاں تک نمازوں کو جمع کرنے کا تعلق ہے، تو علماء کا اس پر اتفاق صرف حاجی کے لیے عرفات اور مزدلفہ میں نمازیں جمع کرنے پر ہے، چنانچہ بعض علمائے کرام نے ان دونوں مقامات کے علاوہ جمع کی اجازت کا سرے سے انکار کیا ہے۔
تاہم درست بات وہی ہے جس کی طرف جمہور علمائے کرام گئے ہیں کہ عذر کے پائے جانے کی صورت میں نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے، کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے عرفات اور مزدلفہ کے علاوہ بھی ثابت ہے۔
سوم: نمازیں جمع اور قصر کرنے کی اجازت کا باعث بننے والے اسباب
نمازوں کو جمع کرنے کی اجازت دینے والے اسباب، قصر کے اسباب سے زیادہ وسیع ہیں۔ چنانچہ جمع ہر مسافر کے لیے جائز ہے، اور مقیم کے لیے بھی اس صورت میں جائز ہے جب ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے میں مشقت پیش آتی ہو، جیسے مرض، یا بارش کی حالت میں، یا ایسا شخص جو کسی ایسے کام میں مشغول ہو جسے مؤخر کرنا ممکن نہ ہو، مثلاً امتحان دینے والا طالب علم، یا جراحی عمل انجام دینے والا ڈاکٹر، اور اس جیسی دیگر صورتیں۔
جبکہ قصر صرف سفر کی حالت ہی میں جائز ہے، اس کے علاوہ کسی اور حالت میں قصر کی اجازت نہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ’’مجموع الفتاوی‘‘ (22/293) میں فرماتے ہیں:
’’قصر کا سبب خاص طور پر سفر ہے، اور سفر کے علاوہ کسی حالت میں قصر جائز نہیں۔ جبکہ نمازیں جمع کرنے کے لیے سبب حاجت اور عذر ہے؛ چنانچہ جب حاجت پیش آئے تو مختصر یا طویل ہر طرح کے سفر میں نمازوں کو جمع کیا جا سکتا ہے، اسی طرح بارش وغیرہ کی وجہ سے، بیماری وغیرہ کی وجہ سے، اور دیگر اسباب کی بنا پر بھی جمع جائز ہے، کیونکہ اس کا مقصد امت سے تنگی اور مشقت کو دور کرنا ہے۔‘‘ ختم شد
اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ ’’اللقاء الشهری‘‘ (60/11) میں فرماتے ہیں:
’’جمع، قصر سے زیادہ وسیع ہے۔‘‘ یعنی نمازیں جمع کرنے کے اسباب قصر کرنے کے اسباب سے زیادہ ہیں۔
واللہ اعلم