جس نے حج کے مہینوں (یعنی شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کی نو تاریخ) میں عمرہ کیا ہو، اور اسی سال حج بھی کیا ہو، وہ متمتع ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ عمرہ اور حج کے درمیان اپنے وطن واپس نہ جائے؛ کیونکہ وطن واپس جانے سے تمتع منقطع ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر وہ بعد میں حج کا احرام باندھتا ہے تو وہ مفرد شمار ہو گا۔
چنانچہ اگر وہ تمتع کرنا چاہتا ہو تو اس پر لازم ہے کہ حج سے پہلے دوبارہ عمرے کا احرام باندھے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’اگر کوئی شخص تمتع کا احرام باندھے اور مکہ پہنچے، تو اس پر لازم ہے کہ طواف کرے، سعی کرے اور سر کے بال چھوٹے کرے، اس طرح وہ عمرہ سے فارغ ہو جائے گا۔ اس کے بعد اسے جدہ، طائف، مدینہ یا کسی اور جگہ جانے کی اجازت ہے، اور اس سے اس کا تمتع منقطع نہیں ہوتا، حتیٰ کہ اگر وہ حج کا احرام باندھ کر واپس آئے تب بھی اس کا تمتع باقی رہے گا۔
لیکن اگر وہ اپنے وطن واپس چلا جائے اور وہاں سے حج کا احرام باندھ کر آئے تو اس کا تمتع منقطع ہو جاتا ہے۔ اور اگر وہ وطن واپس جانے کے بعد دوبارہ عمرہ کا احرام باندھ کر آئے، تو وہ پہلے عمرہ کے ساتھ متمتع نہیں ہو گا، بلکہ دوسرے عمرے کے ساتھ ہو گا، کیونکہ پہلا عمرہ وطن واپس جانے کی وجہ سے حج سے جدا ہو گیا تھا ۔
خلاصہ یہ کہ جو شخص متمتع ہو، وہ عمرہ اور حج کے درمیانی عرصے میں اپنے وطن یا کسی اور جگہ جا سکتا ہے؛ لیکن اگر وہ اپنے وطن واپس گیا، اور پھر حج کا احرام باندھ کر آیا، تو اس کا تمتع منقطع ہو جاتا ہے اور وہ مفرد ہو جاتا ہے۔
اور اگر وہ وطن کے علاوہ کسی اور جگہ گیا اور وہاں سے حج کا احرام باندھ کر آیا، تو وہ متمتع ہی رہے گا، اور اس پر ہدی واجب ہو گی جیسا کہ معروف ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’ اللقاء الشهري ‘‘(16/4)
اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا:
جس نے شوال میں عمرہ ادا کیا، پھر اپنے اہل خانہ کے پاس واپس چلا گیا، پھر حج کے لیے آیا اور مفرد کی نیت کی، تو کیا وہ متمتع شمار ہو گا اور کیا اس پر ہدی واجب ہے؟
انہوں نے جواب دیا:
’’اگر کسی نے شوال میں عمرہ ادا کیا، پھر اپنے اہل خانہ کے پاس واپس چلا گیا، پھر حج کے لیے آیا اور حج مفرد کی نیت کی، تو جمہور علماء کے نزدیک وہ متمتع نہیں ہے، اور اس پر ہدی لازم نہیں، کیونکہ وہ اپنے وطن واپس گیا تھا، پھر مفرد کی نیت سے آیا ہے۔ یہی موقف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی موقف ہے، اور یہی جمہور کا موقف ہے۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ متمتع ہو گا اور اس پر ہدی واجب ہے، کیونکہ اس نے ایک ہی سال میں حج اور عمرہ دونوں کو جمع کیا۔
مگر جمہور علماء کا کہنا ہے: اگر وہ اپنے وطن واپس جائے، یا بعض کے نزدیک نماز قصر کرنے کی مسافت جتنا سفر کرے اور پھر مفرد حج کرے، تو وہ متمتع نہیں ہے۔
اور ظاہر بات یہ ہے-واللہ اعلم-کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہی راجح ہے: کہ اگر وہ اپنے وطن واپس چلا گیا، تو وہ متمتع نہیں ہو گا اور اس پر کوئی قربانی نہیں ہے۔
اور اگر کوئی شخص حج کے لیے آیا اور عمرہ ادا کیا، پھر جدہ یا طائف میں مقیم رہا، حالانکہ وہ ان دونوں جگہوں کا رہائشی نہیں تھا، پھر حج کا احرام باندھا، تو وہ متمتع ہے۔ لہٰذا اس کا طائف، جدہ یا مدینہ جانا اسے متمتع ہونے سے خارج نہیں کرتا، کیونکہ وہ حج اور عمرہ دونوں کی ادائیگی کے ارادے سے آیا تھا، اور اس کا ان جگہوں پر جانا کسی ضرورت کے تحت تھا۔ اور اسی طرح جو شخص مدینہ زیارت کے لیے گیا، اس سے بھی وہ متمتع ہونے سے خارج نہیں ہوتا، جیسے کہ ظاہر اور راجح ہے۔ تو اس پر تمتع کی ہدی واجب ہے، اور اسے حج کے لیے اسی طرح سعی کرنا ہو گی جیسے عمرے کے لیے کی تھی۔‘‘ ختم شد
مجموع فتاویٰ شیخ ابن باز: (17/96)
اور اسی کتاب (فتاویٰ ابن باز 17/98) میں یہ بھی ہے کہ : ’’اگر وہ دوسرے سفر میں عمرہ کا احرام باندھ کر آیا، اور اس سے فارغ ہو کر مقیم رہا، یہاں تک کہ حج کیا، تو وہ متمتع ہے، اور پہلا عمرہ جمہور کے نزدیک اسے متمتع نہیں بناتا، بلکہ وہ دوسرے عمرے کے ساتھ متمتع شمار ہو گا جس کے بعد اس نے حج کیا۔‘‘
لہٰذا آپ کا جدہ (جو آپ کا وطن ہے) جانا تمتع کو منقطع کر دیتا ہے۔
اگر آپ تمتع کرنا چاہتے ہیں، تو حج سے پہلے ایک اور عمرہ ادا کریں، اور اس کے بعد حج تک جدہ واپس نہ جائیں۔
واللہ اعلم