مخصوص جگہ خشک ہو جانے پر طہارت حاصل ہو جاتی ہے، خواہ خشکی تھوڑی دیر کے لیے ہو، اور کیا حائضہ عورت پر اس نماز کی قضا لازم ہے جس کا وقت حیض آنے سے پہلے داخل ہو چکا ہو؟

سوال 338863

مجھے پانچ دن تک خون کی صورت میں حیض آتا ہے، پھر دو دن صرف مٹیالا اور زردی رہتی ہے۔ اس دوران کبھی مجھے کچھ وقت کے لیے جفوف (بالکل خشک ہو جانا) بھی نظر آتا ہے، پھر ہلکی سی کدورت اور زردی آ جاتی ہے۔ میں ایک موقف پر عمل کرتی رہی ہوں جس میں پڑھا تھا کہ جفوف کے بعد ایک دن یا آدھا دن انتظار کیا جا سکتا ہے تاکہ طہارت کی تصدیق ہو جائے، اور یہ کہ عادت کے دنوں میں آنے والی کدورت اور زردی بھی حیض ہی شمار ہوتی ہے۔ پھر ان دو دنوں کے بعد وہ چیز آتی تھی جسے میں قصۃِ بیضاء (یعنی سفید رطوبت )سمجھتی تھی، چنانچہ میں غسل کر لیتی تھی۔ میں وسوسے سے بچنے کے لیے اسی پر عمل کرتی رہی، اور ان لوگوں کی بات کو نظر انداز کرتی رہی جو محض جفوف ہوتے ہی غسل کے قائل تھے؛ اس لیے کہ مجھے یہ قول اختلافی معلوم ہوتا تھا۔ میں نے اس وقت وسوسے کے ساتھ اس مسئلے میں تحقیق کی اور اپنی کوشش کے مطابق اسی نتیجے پر پہنچی۔

لیکن کئی برسوں کے بعد، اسی مہینے مجھے یہ بات زیادہ راجح محسوس ہوئی کہ یہ طریقہ درست نہیں تھا، اور یہ کہ میں محض جفوف کے ساتھ ہی پاک ہو جاتی ہوں۔ تو کیا اب مجھ پر ہر حیض کے دو دنوں کی چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا لازم ہے؟

اور مجھے حال ہی میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگر عورت پر کسی نماز کا وقت داخل ہو چکا ہو اور اس کے بعد اسے حیض آ جائے، تو پاک ہونے کے بعد اسے وہ نماز ادا کرنی ہوتی ہے۔ لیکن مجھے اس کی تعداد بالکل یاد نہیں، اور نہ ہی میں اس کا اندازہ کر سکتی ہوں۔ یہ بھی واضح رہے کہ میں نے پہلے وسوسے کی وجہ سے کچھ نمازیں قضا کی تھیں، جس کے نتیجے میں مجھے گھٹنے کے مسائل لاحق ہو گئے۔ تو کیا ان دونوں سابقہ صورتوں میں قضا نہ کرنے والے قول پر عمل کرنا میرے لیے جائز ہے؟

اور اگر میں ان صورتوں میں قضا کرنے کا موقف اختیار کروں، تو کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں موجودہ نماز کھڑے ہو کر ادا کروں، اور فوت شدہ نمازوں میں گھٹنے کی حفاظت کے لیے کرسی پر بیٹھ کر سجدہ کروں، کیونکہ اگر میں دونوں کو کھڑے ہو کر ادا کروں تو میرے گھٹنے کو نقصان پہنچتا ہے؟

اور طہارت کی تصدیق کے لیے جفوف کی کتنی مدت کا پایا جانا ضروری ہے؟

جواب کا متن

اول: جمہور فقہاء کے قول کے مطابق حیض سے طہارت کا حصول جفوف یعنی خشکی کے ذریعے

جمہور فقہاء کے قول کے مطابق حیض سے طہارت مخصوص جگہ کے خشک ہونے سے حاصل ہو جاتی ہے، سوائے اس قول کے جو امام مالک رحمہ اللہ سے ان عورتوں کے بارے میں منقول ہے جو سفید رطوبت دیکھتی ہیں، کہ وہ مخصوص جگہ کے خشک ہونے سے پاک نہیں ہوتیں۔

شیخ ابو عمر الدبیان اپنی کتاب ’’موسوعۃ الطہارۃ‘‘ (7 / 37) میں فرماتے ہیں:
’’چوتھا مبحث: حائضہ عورت کے لیے طہارت کی علامت:
چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ جب حیض بند ہو جائے تو عورت مطلقاً پاک ہو جاتی ہے، خواہ اس کے بعد سفید رطوبت نکلے یا نہ نکلے۔ یہ حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا مذہب ہے۔
اور ایک قول یہ ہے کہ اگر عورت ان میں سے ہو جو سفید رطوبت دیکھتی ہیں، تو وہ اس وقت تک پاک نہیں ہوتی جب تک سفید رطوبت نہ دیکھ لے، اور اگر وہ ان میں سے ہو جو اسے نہیں دیکھتیں، تو اس کی طہارت مخصوص جگہ کے خشک ہونے سے ہو جاتی ہے۔ یہی بات امام مالک رحمہ اللہ سے ’’المدونۃ‘‘ میں صراحت کے ساتھ منقول ہے۔۔۔

اور ایک قول یہ ہے کہ طہارت کی دو علامتیں ہیں: جفوف (یعنی بالکل خشک ہو جانا، کہ خون، کدورت اور زردی کا مکمل طور پر بند ہو جانا) اور قصۃِ بیضاء یعنی سفید رطوبت کا جاری ہونا ، تو عورت ان میں سے جو بھی دیکھ لے، وہی اس کی طہارت کی علامت ہو گی، خواہ عورت کی عادت قصۃِ بیضاء کے ذریعے پاک ہونے کی ہو یا جفوف کے ذریعے۔ یہ قول امام مالک رحمہ اللہ کے شاگرد ابن حبیب کا ہے۔‘‘ مختصراً ختم شد
مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر (317771) ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

دوم: عورت کے لیے جب جفوف حاصل ہو جائے تو یہ حیض سے پاکی ہے

جفوف کے لیے کوئی متعین زمانی حد مقرر نہیں ہے، لہٰذا جتنا بھی جفوف حاصل ہو جائے، وہ عورت کے لیے طہارت شمار ہو گی؛ خواہ اس کی مدت صرف ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو۔ پھر اگر اس کے بعد دوبارہ خون آ جائے تو وہ حیض شمار ہو گا، اور اس صورت میں جفوف ایک عارضی طہارت ہو گی۔

اور اگر جفوف عادت کے آخری ایام میں حاصل ہو، تو یہ بات اور بھی زیادہ واضح اور ظاہر ہے؛ چنانچہ یہی عورت کی طہارت ہو گی۔

امام نووی رحمہ اللہ ’’المجموع‘‘ (2 / 543) میں فرماتے ہیں:
’’حیض کے ختم ہونے اور طہارت کے پائے جانے کی علامت یہ ہے کہ خون کا نکلنا، اور زردی اور کدورت کا نکلنا بند ہو جائے، پس جب یہ سب بند ہو جائے تو عورت پاک ہو جاتی ہے، خواہ اس کے بعد سفید رطوبت نکلے یا نہ نکلے۔‘‘ ختم شد

اور بہوتی رحمہ اللہ ’’کشاف القناع‘‘ (1 / 212) میں فرماتے ہیں:
’’ اگر عورت اپنی عدت کے دوران ہی پاک ہو جائے، اور ایسی خالص طہارت حاصل ہو کہ روئی (قطن) رکھنے پر اس میں کوئی تبدیلی نہ آئے، چاہے یہ مدت بہت ہی کم کیوں نہ ہو، تو اس کے لیے پورا ایک دن گزرنا شرط نہیں ہے۔ ایسی صورت میں وہ پاک شمار ہو گی، غسل کرے گی؛ کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: "جب عورت طہارت دیکھ لے تو اسے غسل کر لینا چاہیے۔" اور وہ نماز پڑھے گی، اور وہ تمام کام کرے گی جو پاک عورتیں کرتی ہیں؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے حیض کو اذیت قرار دیا ہے، تو جب یہ اذیت ختم ہو گئی تو حیض بھی ختم ہو جائے گا۔ اور غسل کے بعد اس کے ساتھ جماع کرنا بھی مکروہ نہیں ہے، بلکہ وہ دیگر پاک عورتوں کی طرح ہے۔‘‘ ختم شد

سوم: کسی مخصوص حکم میں ائمہ کے معتبر اقوال میں سے کسی قول پر عمل کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟

اگر آپ نے اس قول پر عمل کیا کہ عورت کی طہارت سفید رطوبت دیکھنے سے ہوتی ہے، تو یہ ایک معتبر قول ہے، جیسا کہ پہلے امام مالک رحمہ اللہ سے منقول ہو چکا ہے؛ اس پر عمل کرنے میں آپ پر کوئی حرج نہیں، اور نہ ہی آپ پر کسی نماز کی قضا لازم ہے۔

بلکہ اگر آپ نے ذاتی طور پر یہ عمل کیا ہوتا کسی کا موقف سن کر نہیں، اور اس مدت کا انتظار کیا، اس گمان کے ساتھ کہ یہی آپ پر واجب ہے، اور یہ کہ آپ اس سے پہلے پاک نہیں ہوتیں، تو اس صورت میں بھی آپ پر کسی نماز کی قضا لازم نہیں آتی، اور اس تاویل کی بنا پر آپ معذور شمار ہوں گی۔

چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اسی بنیاد پر اگر کوئی شخص واجب طہارت اس لیے چھوڑ دے کہ اس تک نص نہیں پہنچی، مثلاً وہ اونٹ کا گوشت کھاتا ہو اور وضو نہ کرتا ہو، پھر بعد میں اس تک نص پہنچے اور اس پر وضو کا واجب ہونا واضح ہو جائے، یا وہ اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھتا ہو، پھر بعد میں اس تک نص پہنچے اور حکم واضح ہو جائے، تو کیا اس پر گزشتہ نمازوں کا اعادہ لازم ہو گا؟ اس بارے میں دو قول ہیں، جو امام احمد سے منقول دو روایات ہیں۔

اور اسی کی نظیر یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگائے اور نماز پڑھ لے، پھر بعد میں اس پر یہ بات واضح ہو جائے کہ شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو واجب ہو جاتا ہے۔

اور ان تمام مسائل میں صحیح بات یہ ہے کہ اعادہ واجب نہیں؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے خطا اور نسیان کو معاف فرما دیا ہے، اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا
ترجمہ:’’اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کسی رسول کو نہ بھیج دیں۔‘‘ سورۃ الإسراء، آیت 15
پس جس شخص تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا کوئی معین حکم نہ پہنچا ہو، اس پر اس کے وجوب کا حکم ثابت نہیں ہوتا۔

اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے عمر اور عمار رضی اللہ عنہما میں سے کسی کو بھی اعادہ کا حکم نہیں دیا، جب دونوں جنابت کی حالت میں تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے نماز نہیں پڑھی، اور عمار رضی اللہ عنہ نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر نماز ادا کر لی۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کو بھی اعادہ کا حکم نہیں دیا، جب وہ جنابت کی حالت میں تھے اور کئی دن تک نماز نہیں پڑھتے رہے۔ اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جن لوگوں نے اس وقت تک کھانا کھایا جب تک ان پر سفید دھاگے اور سیاہ دھاگے کا فرق واضح نہ ہوا، انہیں بھی قضا کا حکم نہیں دیا گیا، اور نہ ہی ان لوگوں کو قضا کا حکم دیا گیا جنہوں نے تحویل کعبہ کے بعد بھی لا علمی میں بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔

اور اسی باب میں یہ مسئلہ بھی داخل ہے کہ مستحاضہ عورت اگر ایک مدت تک نماز نہ پڑھے، وہ یہ سمجھتی رہی ہو کہ اس پر نماز واجب نہیں، تو اس پر قضا واجب ہونے کے بارے میں دو قول ہیں؛ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس پر اعادہ نہیں، جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ سے منقول ہے؛ اس لیے کہ وہ مستحاضہ عورت جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا: ’’مجھے ایسا شدید اور غیر معمولی حیض آتا ہے جس نے مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے‘‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے آئندہ کے لیے واجب امور کا حکم دیا، اور اس سے گزشتہ نمازوں کی قضا کا مطالبہ نہیں فرمایا۔

اور میرے نزدیک تواتر کے ساتھ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ دیہات اور شہروں میں بہت سے مرد اور عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو بالغ ہو جاتی ہیں، مگر یہ نہیں جانتیں کہ ان پر نماز واجب ہے، بلکہ جب عورت سے کہا جاتا ہے: نماز پڑھو، تو وہ کہتی ہے: جب میں بڑی ہو جاؤں گی اور بوڑھی بن جاؤں گی تب پڑھوں گی! اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نماز کا خطاب صرف بڑی عمر کی عورت کے لیے ہے۔ اور بعض مشائخ کے پیروکاروں، یعنی صوفیہ میں بھی بہت سے گروہ ایسے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ ان پر نماز واجب ہے؛ تو صحیح قول کے مطابق ایسے لوگوں پر بھی گزشتہ نمازوں کی قضا واجب نہیں ہوتی۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’مجموع الفتاویٰ‘‘ (21 / 101–102)

چہارم: اس عورت کا حکم جسے نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد حیض آ جائے اور وہ نماز ادا نہ کر سکے

جس عورت کو نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد حیض آ جائے اور وہ نماز ادا نہ کر سکے، تو کیا اس پر پاک ہونے کے بعد وہ نماز ادا کرنا لازم ہے جس کا وقت اس پر حیض آنے سے پہلے داخل ہو چکا تھا؟

اس مسئلے میں مشہور اختلاف پایا جاتا ہے۔

چنانچہ بعض فقہاء کا کہنا ہے کہ اگر عورت نے تکبیرِ تحریمہ کے برابر وقت پا لیا ہو، پھر اسے حیض آ جائے، تو اس پر اس نماز کی قضا لازم ہو گی، اور یہ مذہب حنابلہ کا ہے۔

’’زاد المستقنع‘‘ میں کہا گیا ہے:
’’اور اگر کوئی مکلف شخص کسی نماز کے وقت میں تکبیرِ تحریمہ کے برابر وقت پا لے، پھر وہ [بے ہوشی وغیرہ کی وجہ سے] مکلف نہ رہے، یا عورت کو حیض آ جائے، پھر دوبارہ [ہوش میں آنے کی وجہ سے] مکلف بنے یا وہ حیض سے پاک ہو جائے، تو یہ دونوں اس نماز کی قضا دیں گے۔‘‘ ختم شد
اور بعض فقہاء نے یہ شرط لگائی ہے کہ عورت حیض آنے سے پہلے اتنا وقت پا لے جو پوری نماز ادا کرنے کے لیے کافی ہو، یہ شافعیہ کا مذہب ہے۔

اور بعض کا کہنا ہے کہ اس پر قضا اس وقت لازم ہو گی جب وہ پاک حالت میں اس حد تک باقی رہے کہ نماز ادا کرنے کے لیے وقت باقی نہ بچے، پھر اسے حیض آ جائے، تو اس صورت میں قضا لازم ہو گی۔ یہ حنفیہ میں سے زفر کا قول ہے، اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا اختیار کردہ قول بھی یہی ہے۔

اور اس کے قریب مالکیہ کا مذہب ہے، جنہوں نے کہا ہے کہ اگر وقت میں اتنی گنجائش باقی ہو جو ایک رکعت کے لیے کافی ہو، تو اس نماز کی قضا واجب ہو گی۔

اور ایک قول یہ بھی ہے کہ مطلقاً اس پر قضا واجب نہیں، خواہ حیض وقت کے شروع میں آئے یا آخر میں۔ یہ حنفیہ کا مذہب ہے، اور مالکیہ کے مذہب میں ایک روایت ہے، اور یہی ابن حزم کا مذہب ہے۔

مزید ملاحظہ ہو: ’’موسوعۃ الطہارۃ‘‘ (7 / 159)۔

اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"جن اہلِ علم کا یہ موقف ہے کہ عورت پر نماز لازم نہیں ہوتی جب تک اس کا وقت تنگ نہ ہو جائے، ان کی دلیل یہ ہے کہ شریعت نے انسان کو اجازت دی ہے کہ وہ نماز کو اس کے وقت کے آخری حصے تک مؤخر کر سکتا ہے۔ لہٰذا اگر اس دوران کوئی رکاوٹ (مثلاً حیض) پیش آ جائے، تو وہ ایسے وقت میں پیش آئی ہے جس تک نماز کو مؤخر کرنا جائز تھا، اس لیے وہ عورت نہ کوتاہی کرنے والی شمار ہوگی اور نہ ہی گناہگار، بلکہ اس نے وہی کیا جو اس کے لیے شرعاً جائز تھا۔

مزید یہ کہ عورتوں کے حیض کے معاملات میں یہ صورتِ حال بار بار پیش آتی ہے، لیکن کہیں یہ منقول نہیں کہ اگر کسی عورت کو نماز کے وقت کے درمیان حیض آ جائے تو اسے اس نماز کی قضا کا حکم دیا گیا ہو۔ اور اصولی طور پر بھی اصل یہی ہے کہ انسان کا ذمہ بری ہوتا ہے جب تک اس پر کسی چیز کے لازم ہونے کی واضح دلیل نہ ہو۔

یہ دلیل نہایت قوی ہے۔

اسی بنیاد پر یہ کہا جائے گا کہ اگر کسی پر سے شرعی ذمہ داری ختم ہو جائے (جیسے حیض آ جانا)، یا وقت کے ایسے حصے میں رکاوٹ پیدا ہو جائے جس میں نماز کو مؤخر کرنا جائز تھا، تو اس نماز کی قضا لازم نہیں ہو گی۔ ہاں، اگر کوئی احتیاط کے طور پر قضا کر لے تو یہ بہتر ہے، لیکن اگر نہ کرے تو وہ گناہگار نہیں ہو گا۔

مزید وضاحت یہ ہے کہ اگر کسی نے نماز کے وقت میں اتنا حصہ پا لیا تھا کہ وہ اس میں نماز ادا کر سکتا تھا (یعنی وقت اتنا باقی تھا کہ باقاعدہ نماز پڑھی جا سکتی تھی)، تو ایسی صورت میں وہ نماز اس کے ذمہ لازم ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر وقت کشادہ تھا اور وہ ابھی نماز ادا کیے بغیر تھا، اور اسی دوران کوئی مانع (جیسے حیض) آ گیا، تو چونکہ اس کے لیے نماز کو مؤخر کرنا جائز تھا، اس لیے اس پر کوئی گناہ نہیں، اور نہ ہی اس نماز کی قضا لازم ہوگی۔

البتہ دوسرا قول (یعنی احتیاطاً قضا کو لازم قرار دینا) زیادہ احتیاط پر مبنی ہے۔" ختم شد
ماخوذ از: ’’الشرح الممتع‘‘ (2 / 131)

پس اس بنا پر، اگر آپ اس حالت میں قضا کر لیں تو یہ زیادہ احتیاط والا عمل ہے، اور اگر قضا نہ کریں تو آپ پر کچھ لازم نہیں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

حیض اور نفاس
نماز کے اوقات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android