ڈیجیٹل دعوتی سرگرمیوں کے لیے صوتی مؤثرات یعنی ’’ ساؤنڈ ایفیکٹس ‘‘ (Sound Effects) استعمال کرنے کا حکم

سوال: 229732

میں آن لائن دعوتی میدان میں کام کرتا ہوں۔ مجھے ویڈیو بناتے ہوئے بہت دشواری پیش آتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ویڈیو ٹیکنالوجی بہت آگے بڑھ چکی ہے اور اس میں موسیقی اور صوتی مؤثرات (Sound Effects)کا استعمال ایک اہم عنصر بن چکا ہے جو جذبات ابھارنے میں معاون ہوتے ہیں، اور کسی مخصوص سوچ کو پروان چڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ ویڈیوز میں دینی اعتبار سے کون سے صوتی اثرات (Sound Effects)استعمال کرنا جائز ہیں؟ مثلاً وہ آوازیں جو قدرتی ہوں لیکن انہیں فلٹر لگا کر بہتر اور خوبصورت بنا دیا گیا ہو۔ میری خواہش ہے کہ آپ مجھے جائز حدود بتائیں تاکہ میں انہیں استعمال کر سکوں۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:
موسیقی اور آلاتِ موسیقی کا استعمال اور ان کو سننا حرام ہے۔ اس بارے میں کتاب و سنت کی نصوص میں واضح دلائل موجود ہیں۔ نیز اس مسئلے کی تفصیلات سوال نمبر (5000) کے جواب میں گزر چکی ہیں۔

دوم:
وہ پس منظر یا صوتی اثرات (Sound Effects)جن میں انسانی آواز یا دیگر آوازوں کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ وہ آلاتِ موسیقی کی آواز سے مشابہ لگیں، ان کا حکم بھی موسیقی ہی کا ہے اور وہ حرام ہیں۔ اس لیے کہ ان میں اور موسیقی میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ شریعت کے اعتبار سے اصل اثر اور ظاہری صورت دونوں چیزیں دیکھی جاتی ہیں، لہٰذا آلاتِ موسیقی کی نقالی کرنا بھی جائز نہیں۔ خصوصاً جب اس کا اثر بھی وہی ہو جو حقیقی موسیقی سے پیدا ہوتا ہے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (91142) کا جواب ملاحظہ کریں۔

اسی طرح ہماری ویب سائٹ پر "بِیٹ بکس"(Beatbox) کے بارے میں بھی تفصیلی جواب دیا جا چکا ہے، یہ دراصل موسیقی کی آوازیں نکالنے کی ایک صورت ہے جس میں کوئی آلہ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف انسانی منہ کے ذریعے مختلف سازوں کی آوازیں پیدا کی جاتی ہیں۔ اس کا حکم بھی موسیقی ہی کے حکم کے مانند ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آلاتِ موسیقی کی حرمت ان کی ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لہو و لعب کی وجہ سے ہے جو ان سے پیدا ہوتا ہے۔ تو جب یہی لہو و لعب کسی اور ذریعے سے پیدا ہو تو اس کا حکم بھی وہی ہو گا۔

شریعت مماثل چیزوں کے حکم میں فرق نہیں کرتی، اس لیے یہ درست نہیں کہ شریعت ایک آواز کو حرام قرار دے اور دوسری ویسی ہی آواز کو مباح رکھے۔ یہ آوازیں موسیقی کی مانند ہیں، یہاں تک کہ بعض اوقات ماہرینِ صوت کے لیے بھی ان آوازوں اور اصل موسیقی میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

شیخ عبد العزیز الطریفی حفظہ اللہ سے ان انسانی آوازوں کے بارے میں پوچھا گیا جو موسیقی سے مشابہ ہوتی ہیں، یہ تمام آوازیں انسانی منہ ہی سے نکالی جاتی ہیں لیکن نتیجہ حقیقی موسیقی جیسا ہی ہوتا ہے، تو آپ نے جواب دیا:
’’جنہیں آج کل "صوت سازی" کہا جاتا ہے اور یہ موسیقی کی دھن جیسی ہوتی ہیں، تو چاہے یہ دھن کسی آلے کے ذریعے بجائی جائیں، یا انسانی منہ سے نکالی جائیں، یا کسی جدید ٹیکنالوجی مثلاً کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے بنائی جائیں، سب کا نتیجہ ایک ہی ہے۔

ہم یہ کہتے ہیں کہ جو چیز باطل کے مشابہ ہو وہ خود بھی باطل ہے۔ شریعت نے بطور مثال نشہ آور چیزوں کو حرام کیا ہے۔ اصل میں یہ حرمت انگور اور کھجور کی شراب پر تھی، لیکن اگر وہی علت کسی دوسری جدید نشہ آور چیز میں پائی جائے تو اس کا حکم بھی وہی ہو گا، کیونکہ عقل کو ماؤف کرنے والا اثر ہی علت ہے۔

اسی طرح اگر یہ صوت سازی اپنی دھن کے ساتھ موسیقی کے مشابہ ہوں تو وہ حقیقت میں موسیقی ہی ہیں، چاہے وہ کسی الیکٹرانک آلے کے ذریعے پیدا کی گئی ہوں، یا مثلاً گٹار، ڈھول یا کسی اور آلے سے نکالی گئی ہوں۔ ہم کہتے ہیں کہ نتیجہ سب کا ایک ہی ہے۔

بعض لوگ اپنی آواز سے ایسی دھن پیدا کرتے ہیں، انہیں ایسی آواز یا نقل کرنے کی صلاحیت عطا کی گئی ہوتی ہے جس سے وہ موسیقی کی مانند لگتی ہیں، گویا وہی ہیں۔ تو کیا یہ بھی محرمات میں شمار ہو گی؟ جی ہاں، ہم کہتے ہیں کہ اصل میں یہ حرام ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ جو چیز باطل کے مشابہ ہو وہ بھی باطل ہے۔ شریعت مماثل چیزوں کے درمیان فرق نہیں کرتی، یہ شرعی اصول ہے۔ پس جو چیز اس کام کی طرف لے جائے جس سے شریعت نے منع فرمایا ہے، اس سے بھی روکا جائے گا۔ یہ ان اصولوں میں سے ہے جن پر علما فتویٰ دیتے ہوئے عمل کرتے رہتے ہیں۔ ‘‘ ختم شد

البتہ پانی کے بہنے کی آواز، ہوا کے چلنے کی آواز، جانوروں کی آوازیں جیسے گھوڑے کی ہنہناہٹ یا پرندوں کی چہچہاہٹ، انسان کے رونے یا ہنسنے کی آواز، توپ اور گولہ بارود کے دھماکے، گاڑیوں کی آواز، اشیاء کے گرنے یا شیشہ ٹوٹنے کی آواز وغیرہ — یہ سب اگر قدرتی ہوں یا جدید ٹیکنالوجی سے تیار کی گئی ہوں — ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ سب جائز ہیں۔

لیکن یہ بات ضرور ملحوظ رکھنی چاہیے کہ ان آوازوں کو قرآنِ مجید کی تلاوت کے پس منظر میں استعمال نہ کیا جائے، کیونکہ اللہ کے کلام کے ساتھ پورا وقار، تعظیم اور مکمل خاموشی اختیار کرنا واجب ہے۔ اس حوالے سے ہم نے تفصیلات سوال نمبر: (145931) کے جواب میں بیان کی ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android