خواتین سے مصافحہ کرنے کا حکم

سوال 21183

میں چاہتا ہوں کہ مرد کے عورت سے مصافحہ کرنے کے حکم اور اس بارے میں چاروں ائمہ کے اقوال اور جمہور علماء کا موقف تفصیل سے بیان کریں۔

جواب کا خلاصہ

اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان رکھنے والے کسی بھی مرد کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی ایسی عورت سے ہاتھ ملائے جو اس کے لیے حلال نہ ہو یا اس کے محرم رشتہ داروں میں شامل نہ ہو؛ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  (اگر تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی ماری جائے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو ہاتھ لگائے جو اس کے لیے حلال نہ ہو۔)  مصافحہ حتیٰ کہ کپڑے کے اوپر سے بھی جائز نہیں، اور اس بارے میں جو حدیث آئی ہے وہ ضعیف ہے۔

جواب کا متن

خواتین سے مصافحہ کرنے کا حکم

اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان رکھنے والے کسی بھی مرد کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کے ساتھ ہاتھ ملائے جو اس کے لیے حلال نہ ہو یا اس کے محرم رشتہ داروں میں شامل نہ ہو؛ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔

چنانچہ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اگر تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی گاڑ دی جائے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو ہاتھ لگائے جو اس کے لیے حلال نہ ہو۔) اس روایت کو علامہ طبرانی نے معجم الکبیر: (486) میں روایت کیا ہے، اور علامہ البانی نے اس حدیث کو "صحیح الجامع" (5045) میں صحیح قرار دیا ہے۔

صرف یہی اکیلی حدیث ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ انسان کو اس عمل سے روک دے اور اس اطاعت پر قائم رکھے جس کا اللہ تعالیٰ ہم سے مطالبہ فرماتا ہے؛ کیونکہ عورتوں کو چھونے سے فتنہ اور بے حیائی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: "جب مومن عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ہجرت کر کے آتیں تو ان کا امتحان اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق لیا جاتا:يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ  ترجمہ: ’’ اے نبی! جب تمہارے پاس مومن عورتیں آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گی، چوری نہیں کریں گی اور زنا نہیں کریں گی ۔‘‘ (سورۃ الممتحنہ: 12) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جو عورتیں اس بات کا اقرار کرتیں، وہ امتحان میں کامیاب سمجھی جاتیں۔ اور جب وہ عورتیں اپنی زبان سے اس بات کا اقرار کرتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے: (جاؤ، میں نے تم سے بیعت کر لی۔) اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو ہاتھ نہیں لگایا، بلکہ صرف زبانی بیعت لیتے تھے۔  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مزید فرماتی ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے صرف اسی چیز کا اقرار لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا،  اور کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں پکڑا۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم عورتوں سے بیعت لیتے وقت ہوئے فرماتے تھے: (میں نے زبانی کلامی ہی تم سے بیعت لے لی  ہے۔) اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔

جناب عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خواتین سے بیعت لینے کے بارے میں بتایا کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی کسی عورت کو ہاتھ نہیں لگایا، آپ بیعت لیتے وقت جب کسی عورت سے عہد لیتے اور وہ عورت عہد دے دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم اسے فرماتے : تم چلی جاؤ، میں نے تم سے بیعت لے لی ہے۔ " صحیح مسلم: (1866)

اگر یہ حال معصوم یعنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ہے جو کہ تمام انسانوں میں سب سے افضل اور قیامت کے دن اولادِ آدم  کے سردار بھی ہیں، اور وہ کبھی بھی عورتوں کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے حتی کہ بیعت لیتے ہوئے بھی حالانکہ بیعت کا اصل طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی جاتی ہے ، تو پھر دوسرے مردوں کا کیا حال ہونا چاہیے؟  انہیں تو اس حوالے سے مزید محتاط ہونا چاہیے!!

سیدہ امیمہ بنت رقیقہ کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:( میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔) اسے نسائی: 4181، اور ابن ماجہ: 2874 نے روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح الجامع: 2513 میں صحیح قرار دیا ہے۔

کیا کپڑے کے اوپر سے مصافحہ جائز ہے؟

کپڑے کے اوپر سے بھی خواتین کے ساتھ مصافحہ کرنا جائز نہیں ہے۔ اس بارے میں جو حدیث آئی ہے وہ ضعیف ہے۔

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم عورتوں سے کپڑے کے نیچے سے مصافحہ کرتے تھے۔
اس روایت کو  طبرانی  نے الاوسط میں : (2855) بیان کیا ہے۔
پھر اس روایت کے متعلق علامہ ہیثمی کہتے ہیں: اس  حدیث کو طبرانی نے معجم الکبیر اور معجم الاوسط میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں عتاب بن حرب  نامی راوی ہے ، جو  کہ ضعیف ہے۔ مجمع الزوائد:( 6/39)

ولی الدین عراقی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول  یعنی: ’’ نبی صلی اللہ علیہ و سلم عورتوں سے صرف زبانی بیعت لیتے تھے ۔‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں سے بیعت میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان کا ہاتھ نہیں پکڑتے تھے اور نہ ہی ان سے مصافحہ کرتے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ مردوں کی بیعت ہاتھ پکڑ کر اور مصافحہ کے ساتھ ہوتی تھی، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو بیان کیا وہی معروف ہے۔

بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں سے بیعت لینے کے لیے ایک برتن میں پانی منگوایا، اس میں اپنا ہاتھ ڈالا اور پھر عورتوں نے بھی اپنے ہاتھ اس پانی میں ڈالے! کچھ کہتے ہیں کہ: آپ نے کپڑے کے اوپر سے مصافحہ کیا، اور آپ کے ہاتھ پر قطری کپڑا تھا! اور بعض کہتے ہیں کہ : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کی طرف سے عورتوں سے مصافحہ کرتے تھے!
حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بات درست نہیں، خاص طور پر آخری بات۔ بھلا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسا کام کیسے کر سکتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خود نہیں کیا؟ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: طرح التثریب: (7/45)

شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ ظاہر یہی ہے کہ اس (یعنی کپڑے کے اوپر سے خواتین سے مصافحہ) سے مطلقاً منع کیا جائے، کیونکہ ممانعت سے متعلقہ وارد حدیث عام ہے، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ : (میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا)، اور یہ ممانعت اس لیے بھی ہے کہ اس سے اسبابِ فتنہ کے دروازے بند کیے جائیں۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: حاشیہ مجموعہ رسائل فی الحجاب والسفور، صفحہ 69۔

بوڑھی خواتین سے مصافحہ کرنے کا حکم

بوڑھی عورت سے بھی مصافحہ کرنا حرام ہے، کیونکہ نصوص عام ہیں۔ بوڑھی خواتین سے مصافحہ کرنے کے جواز میں جو روایت ہے وہ ضعیف ہے:

چنانچہ علامہ زیلعی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بیان کیا جاتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ بوڑھی عورتوں سے مصافحہ کر لیا کرتے تھے،  میں (زیلعی) کہتا ہوں کہ: یہ روایت بھی غریب ہے۔"
ماخوذ از: نصب الرایہ: (4/240)

جبکہ ابن حجر رحمہ اللہ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ :
"مجھے یہ روایت ملی ہی نہیں۔"
ماخوذ از: الدراية في تخريج أحاديث الهداية: (2/225)

خواتین سے مصافحہ کرنے کے حوالے سے فقہائے اربعہ کا موقف :

اس حوالے سے ائمہ اربعہ کا موقف درج ذیل ہے:

1- فقہائے احناف:
علامہ ابن نجیم  رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کسی مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ عورت کے چہرے یا ہاتھ کو چھوئے، چاہے شہوت کا اندیشہ نہ بھی ہو، کیونکہ یہ حرام ہے اور پھر اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔" ختم شد
ماخوذ از: البحر الرائق: (8/219)

2- فقہائے مالکیہ:
علامہ محمد بن احمد (علیش) رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اجنبی مرد کے لیے اجنبی عورت کے چہرے یا ہاتھ کو چھونا جائز نہیں، اس لیے ان دونوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بغیر کسی حائل (رکاوٹ) کے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ رکھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: 'نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی عورت سے ہاتھ پر ہاتھ رکھوا  کر بیعت نہیں لی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم عورتوں سے صرف زبانی بیعت لیتے تھے۔' ایک اور روایت میں ہے: 'آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم عورتوں سے صرف زبانی بیعت لیتے تھے۔'" ختم شد
ماخوذ از: منح الجلیل شرح مختصر خلیل: (1/223)

3- فقہائے شافعیہ:
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"(اجنبی )عورت کو کسی بھی حالت میں چھونا جائز نہیں۔" ختم شد
ماخوذ از: المجموع: (4/515)

ولی الدین عراقی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’ اس میں اس بات کی دلیل بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت میں آنے والی عورتوں کے علاوہ کبھی کسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا، نہ بیعت میں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی عصمت اور فتنے سے مکمل پاکیزگی کے باوجود ایسا نہیں کیا تو دوسروں کے لیے تو بدرجہ اولیٰ اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ظاہر یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس سے اس لیے رکے رہتے تھے کہ یہ آپ پر حرام تھا؛ اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے خاص بھی شمار نہیں کیا گیا۔ ہمارے اور دیگر فقہائے کرام  نے کہا ہے کہ اجنبی عورت کو چھونا حرام ہے، چاہے وہ جسم کا ستر نہ بھی ہو جیسے چہرہ وغیرہ۔ اگرچہ فقہائے کرام  نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ بغیر شہوت اور فتنے کے خوف کے اجنبی عورت کو دیکھنا جائز ہے یا نہیں، لیکن چھونے کی حرمت دیکھنے کی حرمت سے زیادہ مؤکد ہے۔ اور یہ حرمت اس وقت ہے جب اس کی کوئی ضرورت نہ ہو، اگر ضرورت ہو جیسے علاج، پٹی باندھنا، خون نکالنا، دانت نکالنا، آنکھ میں دوا ڈالنا وغیرہ اور کوئی عورت یہ کام نہ کر سکے تو مرد اجنبی کو ضرورت کے تحت یہ کام کرنے کی اجازت ہے۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: طرح التثریب: (7/45-46)

4- فقہائے حنابلہ:
ابن مفلح رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"امام احمد سے پوچھا گیا کہ کیا مرد عورت سے مصافحہ کر سکتا ہے؟ فرمایا: نہیں، امام احمد نے اس حوالے سے سخت موقف اپنایا۔  پھر پوچھا گیا: کپڑے کے اوپر سے؟ فرمایا: پھر بھی نہیں۔۔۔
حرمت کا موقف الشیخ تقی الدین کا اختیار کر دہ ہے، اور انہوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ جب دیکھنا جائز نہیں ہے تو ہاتھ لگانا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟" ختم شد
ماخوذ از: الآداب الشرعية: (2/257)

واللہ اعلم

حوالہ جات

سلام کرنے کے آداب
مرد و عورت کے درمیان تعلقات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android