’’ یہ فاصلہ عرف کے اعتبار سے قریب شمار ہوتا ہے، اس لیے واجب ہے کہ تم پانی تک جاؤ اور اسی سے وضو کرو، اور اگر غسل واجب ہو تو غسل بھی کرو۔ اس صورت میں تیمم جائز نہیں ہے؛ کیونکہ دس منٹ یا 15 منٹ کا فاصلہ قریب شمار ہوتا ہے، دور یا دشوار نہیں مانا جاتا۔ لہٰذا اس فاصلے کو عذر بنا کر وضو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ چاہے تم کام پر ہو یا سفر میں، تم پر لازم ہے کہ پانی تک پہنچو اور شرعی طریقے سے وضو کرو، اور اگر جنابت ہو تو غسل کر کے نماز ادا کرو۔ یہ فاصلہ تیمم کے جواز کا عذر نہیں ہے کیونکہ عرف کے مطابق یہ قریب ہے۔ ‘‘ ختم شد
سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ
ماخوذ از: ’’فتاویٰ نور علی الدرب‘‘ (2/653)