وضو کے بغیر کے موزوں (یا جرابوں) پر مسح کرنے کا حکم

سوال 129778

میں ایک مدت تک نماز پڑھتے ہوئے موزوں (جرابوں) پر مسح کرتا رہا ہوں، لیکن میں یہ شرط بھول گیا تھا کہ موزے اس حالت میں پہنے جائیں کہ پہلے وضو کیا ہوا ہو۔ اس بات کا علم ہونے کے بعد اب میں موزے صرف وضو کی حالت میں ہی پہنتا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے: کیا مجھے وہ نمازیں اور روزے قضا کرنا لازم ہیں جو میں نے اس حالت میں ادا کیے جب میں نے موزے بغیر وضو کے پہنے ہوئے تھے؟ پھر مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ ان نمازوں کی تعداد کتنی ہے۔

جواب کا خلاصہ

اگر معاملہ ویسا ہی ہے جیسا آپ نے بیان کیا ہے کہ آپ نے لاعلمی کی بنا پر جرابوں پر مسح کیا، حالانکہ آپ نے انہیں وضو کے بغیر پہنا تھا، تو اہلِ علم کے ایک گروہ کے موقف کے مطابق آپ پر قضا لازم نہیں۔ البتہ اگر آپ کے لیے قضا ممکن ہو تو قضا کرنا بہتر اور زیادہ احتیاط والا عمل ہے۔

متعلقہ جوابات

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

موزے یا جرابوں پر مسح کے لیے چند شرطیں ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ انہیں طہارت کی حالت میں پہنا گیا ہو۔ اس کی دلیل سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے: جب وہ وضو کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے موزے اتارنا چاہتے تھے تاکہ پاؤں دھو دیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (انہیں چھوڑ دو! میں نے انہیں وضو کی حالت میں پہنا تھا۔) پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان پر مسح فرمایا۔ اسے بخاری (206) اور مسلم (274) نے روایت کیا ہے۔

اگر معاملہ ویسا ہی ہے جیسا آپ نے بیان کیا ہے کہ آپ نے لاعلمی کی بنا پر جرابوں پر مسح کیا، حالانکہ آپ نے انہیں وضو کے بغیر پہنا تھا، تو اہلِ علم کے ایک گروہ کے موقف کے مطابق آپ پر قضا لازم نہیں۔ البتہ اگر آپ کے لیے قضا ممکن ہو تو قضا کرنا بہتر اور زیادہ احتیاط والا عمل ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اس بنا پر اگر کسی نے واجب طہارت ترک کر دی، اس وجہ سے کہ اس تک متعلقہ نص نہیں پہنچی تھی—مثلاً وہ اونٹ کا گوشت کھاتا رہا اور وضو نہیں کرتا تھا، پھر اسے نص پہنچی اور تب جا کر اسے وضو واجب ہونے کا علم ہوا؛ یا وہ اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھتا رہا، پھر اسے نص پہنچی اور حکم واضح ہوا—تو کیا اس پر گزشتہ نمازوں کی اعادہ لازم ہے؟ اس میں دو قول ہیں، دونوں ہی امام احمد سے الگ الگ مروی ہیں۔
اسی کی نظیر یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے اور نماز پڑھ لے، پھر بعد میں اس پر مسِّ ذکر سے وضو کے وجوب کا علم ہو۔
اور ان تمام مسائل میں صحیح بات یہ ہے کہ اعادہ واجب نہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خطا اور نسیان کو معاف فرما دیا ہے، اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا ترجمہ:’’اور ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں۔‘‘ سورۃ الإسراء، آیت: 15۔
چنانچہ جس شخص تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا کوئی حکم کسی خاص مسئلے میں نہ پہنچا ہو، اس پر اس حکم کا وجوب ثابت نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے عمر اور عمار رضی اللہ عنہما کو—جب وہ جنابت کی حالت میں تھے، عمر نے نماز نہیں پڑھی اور عمار نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر نماز پڑھ لی—دونوں میں سے کسی کو نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ اسی طرح ابو ذر رضی اللہ عنہ کو بھی اعادہ کا حکم نہیں دیا، جب وہ جنابت کی حالت میں ہوتے اور کئی دن نماز نہیں پڑھتے تھے۔ اور صحابہ کرام میں سے جنہوں نے کھایا پیا یہاں تک کہ ان پر سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے واضح ہو گیا، انہیں بھی قضا کا حکم نہیں دیا؛ جیسے کہ ان لوگوں کو بھی قضا کا حکم نہیں دیا گیا جنہوں نے تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد لا علمی میں بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔

اور اسی قاعدے کے تحت یہ مسئلہ بھی آتا ہے: مستحاضہ عورت اگر ایک مدت تک نماز نہ پڑھے، اس گمان کی بنا پر کہ اس پر نماز واجب نہیں۔تو اس پر قضا لازم ہے یا نہیں؟ اس میں اہلِ علم کے دو قول ہیں۔
ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ اس پر قضا لازم نہیں، جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ وغیرہ سے منقول ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مستحاضہ عورت جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: (مجھے نہایت شدید، بڑی اور غیر معمولی حیض آتی ہے، جس نے مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے۔) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آئندہ کے لیے جو احکام لازم تھے وہ بتائے، مگر گزشتہ نمازوں کی قضا کا حکم نہیں دیا۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’مجموع الفتاوى‘‘ (21/101)

ان امور کا علم حاصل کرنا مسلمان پر لازم ہے جن پر مسلمان کی عبادت اور معاملات کی صحت موقوف ہے؛ کیونکہ یہ علم اس کے ذمے فرض علم ہے۔ اس کو چھوڑ دینا گناہ اور معصیت ہے۔ اسی بنا پر—جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا—آپ کے لیے زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ آپ ان نمازوں کی قضا کر لیں۔ اور اگر آپ کو نمازوں کی تعداد معلوم نہیں، تو جس تعداد کا غالب گمان ہو اسی کے مطابق نمازیں ادا کریں۔

اور اگر آپ نے بلوغت کے بعد ایک مدت تک نماز اور روزہ چھوڑے رکھے ہوں، تو آپ پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کریں؛ اور آپ پر چھوڑی ہوئی نمازوں اور روزوں کی قضا لازم نہیں، البتہ آپ کو چاہیے کہ نفل نمازوں اور نفل روزوں کا کثرت کے ساتھ اہتمام کریں۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کی توبہ قبول فرمائے۔

مزید فائدے کے لیے ان جوابات : (9640)، (12796) کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

موزوں اور جرابوں پر مسح

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android