19,665

کیا شوال کے چھ روزے مسلسل رکھنے ضروری ہیں

سوال: 7858

کیا شوال کے چھ روزوں میں تتابع شرط ہے یعنی وہ مسلسل رکھنے چاہییں یا یہ ممکن ہے کہ ان میں فرق بھی کیا جاسکتا ہے ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ دو دو کرکے رکھوں کیونکہ ہفتہ کے آخر میں مجھے دو چھٹیاں ہوتی ہیں ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اس میں تسلسل شرط نہیں لھذا اگر وہ ایک ایک یا پھر تسلسل کے ساتھ بھی رکھے تو اس میں کوئي حرج نہیں ، لیکن اس میں جتنی جلدی کرے اتنا ہی افضل اوربہتر ہوگا ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

خیر اوربھلائی میں سبقت کیا کرو ۔

اورایک مقام پرکچھ اس طرح فرمایا :

اپنے رب کی مغفرت وبخشش کی طرف جلدی کرو ۔

اورموسی علیہ السلام نے کہا :

اے رب میں نے تیری رضا کے لیے جلدی کی ہے

اوراس لیے بھی کہ تاخیر کرنے میں آفات اورمشاکل پیدا ہوسکتی ہیں ، شوافع اوربعض حنابلہ کا مسلک یہی ہے ۔

لیکن اگر روزہ رکھنے میں جلدی نہ بھی کی جائے بلکہ پورے مہینہ میں چھ روزے رکھنے میں کوئي حرج والی بات نہیں ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

ہمارے اصحاب کا کہنا ہے : اس حدیث کی بنا پرشوال کے چھ روزے رکھنے مستحب ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ : شوال کے چھ روزے شروع میں ہی مسلسل رکھنے مستحب ہیں لیکن اگر اس میں تسلسل نہ بھی رکھا جائے اورآخرشوال تک مؤخر کردیۓ جائيں تو یہ بھی جائز ہے ۔

ایسا کرنے سے وہ اس سنت پر عمل پیرا ہوگا ، اوراس حدیث کے عموم اوراطلاق پر عمل ہوجائے گا ، اس میں کوئي اخلاف نہیں ، امام احمد اورداود رحمہم اللہ تعالی کا یہی کہنا ہے ۔ دیکھیں المجموع شرح المھذب ۔

واللہ اعلم .

حوالہ جات

ماخذ

الشيخ محمد صالح المنجد

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android