سورج اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، اللہ تعالی نے سورج کا ایک مدار بنایا ہے جس مدار میں یہ سورج گھوم رہا ہے، اور سورج کا ایک مکمل نظام تشکیل دیا سورج اس نظام سے ذرہ نہیں ہٹتا، اسی نظام کے تحت سورج روزانہ بلا ناغہ مشرق کی سمت سے طلوع ہوتا ہے، ، چنانچہ جب اللہ تعالی اس دنیا کو ختم کرنے کا فیصلہ فرما لے گا اور قیامت قائم ہونی ہو گی تو اللہ تعالی سورج کو حکم دے گا کہ وہ طلوع ہونے کی سمت کی بجائے غروب ہونے کی سمت سے طلوع ہو، تو جیسے ہی سورج مغرب کی سمت سے طلوع ہو گا اور لوگ اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر لیں گے تو ایمان لانے کا دعوی کریں گے اور قیامت پر یقین کریں گے، لیکن اس وقت کسی کا ایمان لانا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا، صرف اسی کو فائدہ ہو گا جو اس گھڑی سے پہلے ایمان لا چکا ہو گا۔
فرمانِ باری تعالی ہے:
هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا
ترجمہ: کیا یہ اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا پروردگار آئے یا اس کی کوئی نشانی (معجزہ) آئے؟ جس دن کوئی ایسے معجزے رونما ہو گئے تو اس وقت کسی کا ایمان لانا اسے کچھ فائدہ نہ دے گا جو اس سے پیشتر ابھی تک ایمان نہ لایا ہو گا یا اپنے ایمان کی حالت میں نیکی کے کام نہ کیے ہوں گے۔ [الانعام: 158]
اسی طرح ایک حدیث جسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک سورج اپنے غروب ہونے کی جگہ سے طلوع نہ ہو جائے۔ تو جیسے ہی دھرتی پر موجود لوگ سورج کو مغرب سے طلوع ہوتا دیکھیں گے تو ایمان لے آئیں گے۔ اور یہ وہی وقت ہو گا جب کسی ایسی جان کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گاجو اس سے پہلے ایمان نہیں لائی تھی۔) اس حدیث کو امام بخاری: (4635) اور مسلم : (157) نے روایت کیا ہے۔
اللہ تعالی نے سورج کی چلنے کی سمت اور سورج کے محکم نظام کے تحت اپنے مدار میں حرکت کرنے کے بارے میں فرمایا کہ یہ اللہ کے حکم کے تحت چل رہا ہے جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
ترجمہ: اور سورج اپنے لیے بنائے گئے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے، یہ نظام اس اللہ کا بنایا ہوا ہے جو بڑا زبردست، سب کچھ جاننے والا ہے ۔ [یس: 38]
اس آیت کریمہ کی تفسیر حدیث مبارکہ میں وارد ہوئی ہے، چنانچہ صحیح بخاری: (3199) میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے جب سورج غروب ہوا تو ان سے پوچھا کہ: ( تم کو معلوم ہے یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟) تو ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ : (یہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے پہنچ کر پہلے سجدہ کرتا ہے ۔ پھر دوبارہ طلوع ہونے کی اجازت چاہتا ہے اور اسے اجازت دے دی جاتی ہے ۔ اور وہ دن بھی قریب ہے ، جب سورج سجدہ کرے گا تو اس کا سجدہ اللہ تعالی کی طرف سے قبول نہ کیا جائے گا اور اجازت چاہے گا لیکن اسے اللہ تعالی کی طرف سے اجازت نہ دی جائے گی۔ بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جا ۔ چنانچہ اس دن سورج اپنے غروب ہونے کی جگہ سے طلوع ہو گا یہی بات اللہ تعالی کے اس فرمان میں موجود ہے: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ترجمہ: اور سورج اپنے لیے بنائے گئے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے، یہ نظام اس اللہ کا بنایا ہوا ہے جو بڑا زبردست، سب کچھ جاننے والا ہے ۔ [یس: 38]
علامہ طحاوی حنفی رحمہ اللہ اپنی مشہور و معروف کتاب عقیدہ طحاویہ میں لکھتے ہیں کہ:
"ہم قیامت کی نشانیوں پر ایمان رکھتے ہیں، دجال کے رونما ہونے پر بھی ایمان رکھتے ہیں، ایسے ہی ہمارا ایمان ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام آسمان سے زمین پر تشریف لائیں گے، اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ ایک دن سورج اپنے غروب ہونے کی جگہ سے طلوع ہو گا۔" ختم شد
الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"سورج اور چاند اسی طرح اپنے اپنے مدار میں بڑے ہی منظم، محکم اور محیر العقول نظام کے تحت چل رہے ہیں، اور ہر ایک چیز وقت مقررہ تک اپنے مدار میں گھوم رہی ہے، تا آں کہ اللہ تعالی اس دنیا کو فنا کرنے کا حکم جاری فرمائے گا، اس طرح سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہو گا، جیسے کہ صحیح بخاری میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی روایت میں موجود ہے۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے سابقہ روایت ذکر فرمائی۔
اس کے بعد مزید کہا کہ: اس حدیث میں بالکل واضح ترین دلیل ہے کہ سورج بذات خود بھی چل رہا ہے، اور یہی بات اللہ تعالی کے متعدد فرامین سے بھی واضح ہوتی ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ترجمہ: اور سورج اپنے لیے بنائے گئے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے ۔[یس: 38] اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ترجمہ: اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا، ان میں سے ہر ایک مقررہ مدت تک کے لیے چل رہا ہے۔ [لقمان: 29] اور ایک جگہ تو سب اجرام فلکیہ کے بارے میں بتلاتے ہوئے فرمایا: وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ ترجمہ: اور ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیر رہا ہے۔ [یس: 40] تو یہ سب دلائل اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں کہ سورج ٹھہرا ہوا ساکن ہے گھوم نہیں رہا، اور ان دلائل کی روشنی میں اس دعوے کو باطل قرار دینا اور جھٹلانا لازم ہے۔" ختم شد
مجموع فتاوی و رسائل الشیخ ابن عثیمین: (6/195)
حاصل کلام یہ ہے کہ: قیامت قائم ہونے کی علامات متعدد ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سورج مشرق کی بجائے مغرب کی سمت سے طلوع ہو، جب یہ نشانی رونما ہو جائے گی تو جلد ہی قیامت بپا ہو گی، اور اس کے بعد کوئی کافر ایمان لائے تو اسے اس کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔
واللہ اعلم