قرآن و سنت کے دلائل سے یہ ثابت ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے اعمال کے نامے دیے جائیں گے۔ کوئی اپنا نامہ دائیں ہاتھ میں پکڑے گا اور کوئی اپنے بائیں ہاتھ میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے پکڑے گا۔
فرمانِ باری تعالی ہے:
فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَؤُوا كِتَابِيَهْ * إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ * فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ * فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ * قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ * كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ * وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَالَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ * وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ * يَالَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ … إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ (الحاقۃ: 19-33)
ترجمہ:’’پس جسے اس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا: آؤ میرا نامہ پڑھو! بے شک میں جانتا تھا کہ مجھے اپنا حساب ملنے والا ہے۔ تو وہ خوشحال زندگی میں ہو گا، بلند درجے کی جنت میں، جس کے خوشے قریب ہوں گے۔ (ان سے کہا جائے گا:) مزے سے کھاؤ اور پیو ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ دنوں میں کیے۔ اور جسے اس کا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا: کاش مجھے میرا نامہ نہ دیا جاتا اور میں اپنے حساب کو نہ جانتا۔ کاش وہ (موت) فیصلہ کن ہوتی۔ … بے شک وہ اللہ عظیم پر ایمان نہیں لاتا تھا۔‘‘
اور فرمایا:
فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ * فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا * وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُورًا * وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ * فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُورًا * وَيَصْلَى سَعِيرًا * إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا * إِنَّهُ ظَنَّ أَنْ لَنْ يَحُورَ (الانشقاق: 7-14)
ترجمہ: ’’پس جسے اس کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا گیا، اس سے آسان حساب لیا جائے گا، اور وہ خوش ہو کر اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جائے گا۔ اور جسے اس کا نامۂ اعمال پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا، وہ ہلاکت کو پکارے گا اور دہکتی آگ میں داخل ہو گا۔ بے شک وہ اپنے گھر والوں میں خوش تھا، بے شک وہ سمجھتا تھا کہ وہ کبھی واپس نہ لوٹے گا۔‘‘
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب مومن اپنا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں لے گا، اور کافر بائیں ہاتھ سے اپنی پیٹھ کے پیچھے سے اپنا نامہ اعمال وصول کرے گا۔
اس بات کی دلیل کہ بائیں ہاتھ والوں سے مراد کافر ہیں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ ترجمہ: ’’وہ اللہ عظیم پر ایمان نہیں لاتا تھا۔‘‘ اور فرمایا: إِنَّهُ ظَنَّ أَنْ لَنْ يَحُورَ ترجمہ: ’’وہ سمجھتا تھا کہ وہ اللہ کی طرف لوٹ کر واپس نہیں جائے گا۔‘‘ اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا هُمْ أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ترجمہ: ’’اور جنہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا وہی بدبخت ہیں۔‘‘ (البلد: 19)
امام قرطبی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر (20/65)میں لکھتے ہیں: ’’یعنی وہ اپنے اعمال نامے بائیں ہاتھ سے لیں گے۔‘‘ ختم شد
چنانچہ یہ بات صریح طور پر واضح ہو گئی ہے کہ بائیں ہاتھ سے نامہ اعمال وصول کرنا صرف کفار کے لیے خاص ہے۔
جبکہ جو مومن اطاعت گزار ہو اور عذاب سے محفوظ ہو، وہ اپنا نامہ اعمال دائیں ہاتھ سے وصول کرے گا۔ اس پر بھی قرآن کی آیات دلالت کرتی ہیں کہ آسان حساب سے مراد کیا ہے؟ اس سے مراد یہ ہے کہ صرف اعمال دکھا دیے جائیں گے، تفصیلی محاسبہ اور جرح نہیں ہو گی۔ اور جس سے تفصیلی حساب اور جرح کی گئی تو وہ عذاب میں گرفتار ہو گا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جس سے باریک بینی سے حساب لیا گیا وہ عذاب میں مبتلا ہوا یا ہلاک ہو گیا۔‘‘ (بخاری :6172، مسلم : 2876)
اسی طرح صفوان بن محرز مازنی رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھامے چلے جا رہے تھے کہ ایک شخص نے آ کر آپ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ’’نجویٰ‘‘ کے بارے میں کیا فرماتے ہوئے سنا تھا؟ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اللہ تعالیٰ مومن کو قریب کرے گا، اس پر اپنا پردہ ڈالے گا اور اسے چھپا کر پوچھے گا: کیا تو فلاں گناہ کو جانتا ہے؟ کیا تو فلاں گناہ کو جانتا ہے؟ وہ کہے گا: جی ہاں اے رب۔ جب وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر لے گا اور سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا تو اللہ فرمائے گا: میں نے دنیا میں تیرے یہ گناہ چھپائے رکھے تھے اور آج میں تجھے معاف بھی کرتا ہوں، پھر اسے نیکیوں کا نامہ اعمال دیا جائے گا۔‘‘ [سنن ابن ماجہ میں الفا ظ یہ ہیں کہ: اسے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔] جبکہ کافروں اور منافقوں کو بر سر عام انہیں پکارا جائے گا اور کہا جائے گا: ’’ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالی سے جھوٹ بولا۔‘‘ (بخاری 2441، مسلم 2768، ابن ماجہ 183)
جہاں تک گناہگار موحدین کا تعلق ہے جو جہنم میں داخل ہوں گے پھر نکالے جائیں گے، تو اس بارے میں علما کا اختلاف ہے کہ وہ کس ہاتھ میں نامہ اعمال وصول کریں گے:
- چنانچہ بعض کا موقف ہے کہ: وہ اپنا نامہ دائیں ہاتھ میں لیں گے۔
- بعض کا موقف ہے کہ : وہ بائیں ہاتھ میں لیں گے۔
جیسے کہ امام سفارینی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’کافر اپنا نامہ اعمال بائیں ہاتھ سے اپنی پیٹھ کے پیچھے سے لے گا۔ اور گناہ گار مومن اپنا نامہ اعمال بائیں ہاتھ سے سامنے سے لے گا۔ مومن مطیع اپنا نامہ اعمال دائیں ہاتھ سے سامنے سے لے گا۔ اور امام ماوردی رحمہ اللہ نے پختگی سے کہا ہے کہ مشہور بات یہ ہے کہ جو فاسق بغیر توبہ مرے وہ بھی اپنا نامہ دائیں ہاتھ میں لے گا۔ اس کے بعد انہوں نے اس مسئلے میں توقف اختیار کرنے کا موقف بھی ذکر کیا اور پھر کہا: اس موقف کا کوئی قائل نہیں ہے کہ فاسق شخص اپنا نامہ اعمال بائیں ہاتھ سے وصول کرے گا۔
مالکی فقیہ یوسف بن عمر رحمہ اللہ نے کہتے ہیں: عقیدہ توحید پر فوت ہونے والے نافرمانوں کے بارے میں اختلاف ہے، چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ: وہ دائیں ہاتھ سے نامہ اعمال وصول کریں گے اور بعض نے کہا بائیں ہاتھ سے۔ اور جنہوں نے کہا کہ وہ دائیں ہاتھ سے لیں گے، ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ یہ جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہو گا تاکہ یہ اس بات کی علامت ہو کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے، اور بعض نے کہا کہ یہ جہنم سے نکلنے کے بعد ہو گا۔ واللہ اعلم‘‘ ختم شد
(لوامع الأنوار البهية 2/183)
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: ’’گناہگار مومن اپنا نامہ اعمال کس ہاتھ میں لے گا؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’وہ اپنا نامہ اعمال دائیں ہاتھ سے لے گا۔‘‘ (الأسئلة الملحقة بشرح السفارينية ص 500)
پس ظاہر یہی ہے- واللہ اعلم - کہ بائیں ہاتھ سے نامہ اعمال لینا صرف کافروں کے ساتھ خاص ہے۔
لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ نیک اعمال کی کوشش کرے اور گناہوں سے بچے تاکہ وہ اہلِ یمین میں شامل ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں انہی میں شامل فرمائے۔
واللہ اعلم