جمعرات 14 ذو الحجہ 1445 - 20 جون 2024
اردو

بیمار والد کی صفائی ستھرائی کا طریقہ اور انہی کی وجہ سے جماعت اور جمعہ ترک کرنے کا حکم

289017

تاریخ اشاعت : 11-01-2024

مشاہدات : 960

سوال

میرے والد صاحب کو اللہ تعالی شفا یاب فرمائے دو سال قبل ان پر دماغی فالج کا حملہ ہوا، جس کی وجہ سے جسم کی بائیں جانب مکمل طور پر مفلوج ہو گئی، اور بولنے کی صلاحیت بھی جاتی رہی، تو میں نے اپنی نوکری چھوڑ کر ہر وقت اپنے والد کے ساتھ رہنے کی ٹھان لی کہ ان کے کھانے پینے اور طہارت کا میں ہی خیال کرتا ہوں، اس حوالے سے میرے کچھ سوالات ہیں: 1- استنجا وغیرہ کروانے کے لیے میں دستانے پہنتا ہوں تا کہ میرے ہاتھ صاف رہیں؛ کیونکہ استنجا وغیرہ کروانے کے بعد میں میلے دستانے اتار کر والد صاحب کو نیا پیمپر لگاتا ہوں، اور میرے ہاتھ میں پیشاب کی نالی بھی ہوتی ہے، دستانے پہنتے ہوئے میرے دل میں وسوسہ آتا کہ یہ کہیں والد کی خدمت سے ناک بھنو چڑھانے کے زمرے میں نہ آئے؛ کہیں اس پر مجھے اللہ تعالی سزا تو نہیں دے گا؟ 2-اگر میں وضو کی حالت میں والد صاحب کو لگی ہوئی پیشاب کی نالی ہاتھ لگائے بغیر چیک کروں ، لیکن میری نظر والد صاحب کے ستر پر پڑ جائے تو کیا میرا وضو ٹوٹ جائے گا؟ اور اگر پیشاب کی نالی درست کرتے ہوئے عضو تناسل کو ہاتھ لگ جائے، تو کیا مجھے قرآن پاک پڑھنے اور نوافل ادا کرنے کے لیے دوبارہ سے وضو کرنا ہو گا؟3-پہلے سال میں میرے والد محترم ہوش میں کم رہتے تھے، زیادہ تر وقت نیند کی حالت میں گزرتا تھا، اسی لیے وہ نماز بھی نہیں پڑھ سکتے تھے، اگر میں انہیں شامل کر کے جماعت بھی کرواتا تھا تو والد صاحب نماز میں ہی سو جاتے تھے، یا نماز توڑ دیتے تھے، لیکن اس سال ذہنی توازن پہلے سے بہتر ہو گیا ہے انہیں نماز کے اوقات کا علم ہونے لگا ہے، بلکہ اگر نماز کا وقت ہو جائے تو نیند سے بیدار بھی ہو جاتے ہیں، ہماری رہائش دوسری منزل پر ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ میں مسجد میں نماز پڑھنے کا بہت جذبہ رکھتا ہوں لیکن سیڑھیوں کی وجہ سے میں والد صاحب کو مسجد میں نہیں لے جا سکتا، مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میں انہیں اٹھا کر لے جاؤں اور کوئی مسئلہ نہ کھڑا ہو جائے، جس کی وجہ سے میں گھر میں ہی والد صاحب کے ساتھ با جماعت نماز ادا کرنے لگا ہوں، میں والد صاحب کی وجہ سے مسجد نہیں جا سکتا حتی کہ خطبہ جمعہ کے لیے ہم حرم کا خطبہ سنتے ہیں اور پھر گھر میں ہی نماز ظہر ادا کر لیتے ہیں۔ 4- کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میرے والد صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی تو میں والد صاحب کی وجہ سے عصر کی نماز وقت سے ایک آدھ گھنٹہ پہلے پڑھ لیتا ہوں، یا پھر ظہر اور عصر اکٹھی پڑھ لیتا ہوں، تو کیا اب میں مسجد میں یا والد صاحب کے پاس عصر کی نماز دوبارہ پڑھوں؟ 5- میرے والد صاحب کو کبھی کبھار قبض کی شکایت ہو جاتی ہے جو کہ اسی فالج کی وجہ سے ہے، تو مجھے پاخانے کے راستے میں موجود فضلے کو نکالنے کے لیے انگلی استعمال کرنی پڑتی ہے، تو کیا اس میں کوئی حرج ہے؟ میں پہلے مسجد جایا کرتا تھا، لیکن جب میں نماز سے واپس آتا تو میرے والد صاحب پریشانی میں رو رہے ہوتے تھے، جس کی وجہ سے میں مہینے مہینے ان کے پاس سے آگے پیچھے نہیں ہوتا تھا صرف اسی وجہ سے کہ ایسا نہ ہو کہ والد صاحب بیدار ہوں اور میری عدم موجودگی کی وجہ سے پریشان نہ ہوں؛ کیونکہ میرے والد صاحب میرے علاوہ کسی سے بھی کھانا پینا، لباس پہننا اور صفائی ستھرائی پر راضی ہی نہیں ہوتے۔ اس لیے میں نے بھی والد صاحب کے پاس رہتے ہوئے نماز اور قرآن کو حرزِ جان بنا لیا، میں نے دنیاوی تمام مصروفیات ترک کر دیں، ریاض شہر کے کچھ لوگوں سے میں نے رقم وصول کرنی ہے، اسی طرح میرے ذمے بھی کچھ لوگوں کے پیسے ہیں، تو ان میں سے کچھ لوگوں نے میرے حالات کو دیکھتے ہوئے صبر کیا اور کچھ نے پولیس کے پاس میرے خلاف پرچہ کٹوا دیا ہے، اور میں چھ ماہ سے پولیس کو مطلوب بھی ہوں، تو کیا میرے اس عمل کو لوگوں کے مال ہڑپ کرنے کے زمرے میں سمجھا جائے گا؟ کیونکہ میں نے اپنے ذمہ قرض ادا نہیں کیا تو مجھے اب یہ بھی ڈر لگنے لگا ہے کہ میری نماز اور تلاوت قرآن قبول ہی نہ ہوں۔ 6- کیا یہ جائز ہے کہ میں قرآن کریم کی تلاوت کر کے اس کا ثواب اپنے والدین کو ہبہ کر دوں؟ کیونکہ انہوں نے ہی مجھے پڑھایا لکھایا ہے، اور انہی کی محنت سے میں اس مقام پر پہنچا ہوں کہ قرآن کریم کی تلاوت مکمل کروں، یا پھر میں صرف دعاؤں پر ہی اکتفا کروں؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپ کے والد کو شفا یاب فرمائے اور عافیت سے نوازے، اور اللہ تعالی آپ کی جملہ مساعی پر آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔

نجاست کی صفائی کرتے ہوئے آپ دستانے پہنتے ہیں یہ اچھا عمل ہے؛ کیونکہ شرمگاہ کو ہاتھ لگانا حرام عمل ہے، اس لیے دستانے وغیرہ کی شکل میں حائل استعمال کرنا لازم ہے۔

جیسے کہ دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی: (25/283)میں ہے کہ:

"آپ معذور افراد کی خدمت کرتے ہیں اس پر آپ کو ان شاء اللہ اجر ضرور ملے گا کہ آپ ان کی جسمانی صفائی ستھرائی وغیرہ کا مکمل انتظام کر رہے ہیں، لیکن شرمگاہ کو ڈھانک کر رکھا جائے اور ہاتھ پر لفافہ یا جراب وغیرہ کوئی چیز چڑھا کر پھر ان کی جسمانی صفائی کی جائے۔" ختم شد

اگر والد محترم کی جسمانی صفائی کے لیے دستانہ پہننے کی وجہ سے ہچکچاہٹ ہے تو تب بھی اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ نجاست میں ہاتھ ڈالنے سے فطری طور پر ہچکچاہٹ پیدا ہوتی ہے، تو یہ فطری امر ہے۔

دوم:
آپ اپنے والد محترم کی شرمگاہ کی طرف نظر نہیں کر سکتے ، ہاں جب ضرورت ہو تو دیکھ سکتے ہیں، مثلاً: پیشاب کی نالی کو درست کرنا ہو تو یہ شرمگاہ دیکھے بغیر ممکن نہیں ہے۔

شرمگاہ پر نظر پڑنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

جبکہ صفائی کے بارے میں یہ ہے کہ: آپ ستر کو ڈھانپ کر رکھتے ہوئے صفائی کی بھر پور کوشش کریں ، اور نجاست پردے کے نیچے سے دستانے وغیرہ پہن کر دھوئیں، جیسے کہ پہلے بھی گزر چکا ہے کہ براہ راست شرمگاہ کو ہاتھ لگانا درست نہیں ہے۔

اور اگر فرض کریں کہ آلہ تناسل اور مقعد وغیرہ کو براہ راست ہاتھ لگ جائے تو یہ صحابہ و تابعین اور دیگر اہل علم میں بہت سے علمائے کرام کے ہاں جن میں امام مالک، شافعی، اور احمد بھی شامل ہیں ، یہ ناقض وضو ہے۔

سوم:
اگر آپ کے والد محترم کو نماز کے وقت کا علم ہوتا ہے، تو پھر انہیں نماز لازما پڑھنا ہو گی، وہ کسی صورت میں نماز ترک نہیں کر سکتے۔

اگر آپ کی عدم موجودگی میں والد صاحب کی دیکھ بھال کرنے والا موجود ہو تو آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ مسجد میں نماز با جماعت ادا کریں۔

لیکن محض والد صاحب کا پریشان ہونا اس بات کی اجازت کا باعث نہیں بن سکتا کہ آپ مسجد میں جا کر با جماعت نماز ادا نہ کریں۔

لیکن اگر ایک دو بار والد صاحب کے پریشان ہونے پر آپ نے نوٹ کیا کہ والد صاحب کی پریشانی بڑھتی چلی جا رہی ہے اور یہ پریشانی اور بے چینی عمومی حالات سے بہت زیادہ ہے تو پھر ہمیں امید ہے کہ آپ پر کوئی حرج نہیں ہے کہ آپ با جماعت نماز کے لیے مسجد جانے کی بجائے والد صاحب کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیں، لیکن ساتھ یہ کوشش جاری رکھیں کہ آپ انہیں مسجد میں نماز با جماعت ادا کرنے کے لیے راضی کرنے کی کوشش کرتے رہیں، کہ ضرورت پڑنے پر آپ کو اپنے سے دور جانے کی اجازت دے دیں، مثلاً: نماز با جماعت کے لیے مسجد جانے کی اجازت دیں، یا دیگر انسانی ضروریات کے لیے جانے دیں، تاہم اس بات کا خیال رکھیں کہ جب آپ ان کے پاس نہ ہوں تو کوئی اور آپ کی جگہ پر موجود ہونا چاہیے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (8918 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔
اسی طرح اگر آپ کی جگہ پر والد صاحب کا خیال رکھنے والا ہو تو آپ کے لیے جمعہ ترک کرنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر آپ کے جانے کے بعد ان کے پاس کوئی نہیں ہو گا تو پھر آپ کو جمعہ ترک کرنے کی اجازت ہے اور آپ اپنے والد کے ہمراہ ظہر کی نماز ادا کریں گے۔

آپ کے والد کو جمعہ ترک کرنے کے اس وقت اجازت ہو گی جب انہیں مسجد جانے میں بہت زیادہ مشقت کا سامنا ہو۔

جیسے کہ "كشاف القناع" (1/ 495) میں ہے کہ:

"مریض کو جمعہ اور با جماعت نماز ترک کرنے کے لیے معذور سمجھا جائے گا؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم جس وقت بیمار ہوئے تو مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے نہیں گئے بلکہ فرمایا: ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ متفق علیہ۔۔۔ اسی طرح اس شخص کو نماز با جماعت اور جمعہ ترک کرنے کی اجازت ہے جسے اپنے دوست یا عزیز کی وفات کا خدشہ ہو اور وہ ان کے پاس بھی نہ ہو [تو نماز کے لیے جانے کی بجائے قریب المرگ کے پاس پہنچے] یا وہ مریض ہوں تو ان کی دیکھ بھال کے لیے ان پاس رہے کہ اگر مریض کے پاس کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے [تو اسے نماز با جماعت اور جمعہ سے غیر حاضری کی اجازت ہے] ایک بار سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو سعید بن زید کی دیکھ بھال کے لیے بلایا گیا ، حالانکہ آپ اس وقت جمعہ کی تیاری کے لیے خوشبو دار دھواں لے رہے تھے، تو آپ سعید بن زید کے پاس گئے جمعہ کے لیے نہیں گئے۔

اس کی شرح میں کہا ہے کہ: ہمیں اس مسئلے میں کسی کے اختلافی موقف کا علم نہیں ہے۔" ختم شد

الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

"میرا بیٹا بیمار ہے اور ہسپتال میں داخل ہے، میں تین ماہ سے اس کے ساتھ ہسپتال میں ہوں، اس سارے عرصے میں میں نماز جمعہ کے لیے حاضر نہیں ہو سکا؛ کیونکہ میرا بیٹا چھوٹا ہے اور اسے میری ضرورت ہے، تو اس کا کیا حکم ہے؟
تو انہوں نے جواب دیا: جب تک آپ کے بیٹے کو آپ کی ضرورت ہے تو اس وقت تک آپ پر کچھ نہیں ہے؛ کیونکہ مریض کی دیکھ بھال کی ضرورت ایسا امر ہے جس کی وجہ سے مریض کی دیکھ بھال کرنے والے پر جمعہ اور نماز با جماعت ساقط ہو جاتی ہے، لیکن اگر آپ کے نماز کے لیے جانے کے دورانیے میں کوئی مریض کی دیکھ بھال کرنے والا موجود ہو تو پھر نماز با جماعت ساقط نہیں ہو گی۔" ختم شد
"فتاوى نور على الدرب" (8/ 2)

چہارم:
مشقت کی صورت میں مریض کے لیے ظہر اور عصر، اسی طرح مغرب اور عشا کی نماز جمع تقدیم یا جمع تاخیر کر کے ادا کرنا جائز ہے۔

جیسے کہ "كشاف القناع" (2/5) میں ہے کہ:
"دو نمازوں کو جمع کرنے کے بارے میں فصل: ظہر اور عصر کو دونوں میں سے کسی ایک نماز کے وقت میں جمع کرنا جائز ہے، اسی طرح مغرب اور عشا کو دونوں میں سے کسی ایک کے وقت میں جمع کرنا جائز ہے، لہذا چار نمازیں ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو سکتی ہیں: ظہر اور عصر، مغرب اور عشا۔ یعنی جوڑے کی ہر نماز دوسری نماز کے وقت میں جمع ہو سکتی ہے، اگر پہلی نماز کے وقت میں دوسری پڑھیں تو اسے جمع تقدیم کہتے ہیں، اور اگر دوسری نماز کے وقت میں پہلی پڑھیں تو اسے جمع تاخیر کہتے ہیں، اس طرح نماز جمع کرنے کی اجازت کی 8 صورتیں ہیں: ۔۔۔ دوسری صورت یہ ہے کہ: مریض کو اکیلا چھوڑنے کی وجہ سے کمزوری اور مشقت برداشت کرنی پڑے گی، اور استحاضہ والی بیماری کی صورت میں عورت کو نمازیں جمع کرنے کی اجازت ثابت ہے، جبکہ امام احمد نے یہ دلیل دی ہے کہ مرض ، سفر سے زیادہ شدید مشقت والا ہے [لہذا اگر سفر میں نماز جمع ہو سکتی ہے تو مرض میں بالاولی ہو سکتی ہے۔] امام احمد نے سورج غروب ہونے کے بعد سنگھی لگوائی پھر رات کا کھانا کھایا اور پھر مغرب اور عشا کی نماز جمع کر کے ادا کی۔" ختم شد

پنجم:
جب ضرورت ہو تو والد کی مقعد میں انگلی ڈال کر فضلہ نکالنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ کوئی دستانہ وغیرہ پہنا ہوا ہو۔

ششم:
آپ نے جو حقوق ادا کرنے ہیں ان کی ادائیگی میں سستی کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں ظلم پایا جا رہا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان بھی ہے کہ: (غنی شخص کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔) اس حدیث کو بخاری: (2400) اور مسلم: (1564) نے روایت کیا ہے۔

اور آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ ان حقوق کی ادائیگی کے لیے بھر پور کوشش کریں چاہے اس کے لیے آپ اپنی طرف سے کسی کو نمائندہ بنا دیں۔

ہفتم:
والدین کو ایصال ثواب کا مسئلہ مختلف فیہ ہے، افضل یہ ہے کہ آپ ایسا نہ کریں، آپ والدین کے لیے کثرت سے دعائیں کریں۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (46698 ) اور (20996 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

پھر چونکہ والدین نے ہی آپ کو پڑھایا لکھایا، اور قرآن کریم حفظ کرنے کی بھر پور ترغیب دی، تو اس لیے امید ہے کہ والدین کو بھی آپ کی ساری تلاوت قرآن کا ثواب ملتا رہے گا؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (جس شخص نے کسی ہدایت والے کام کی دعوت دی، تو داعی کو اس ہدایت پر عمل کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا، اور عمل کرنے والوں کے اجر میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔ جس شخص نے کسی گناہ والے کام کی دعوت دی، تو داعی کو اس گناہ پر عمل کرنے والوں کے گناہ کے برابر گناہ ملے گا، اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔) مسلم: (4831)

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپ کے والد کو عافیت سے نوازے اور آپ کو بھر پور ثواب اور نیکیاں عطا فرمائے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب