کیا ہاتھ یا پاؤں کو پانی کے برتن میں ڈالنے سے وضو ہو جاتا ہے؟

سوال 226947

کیا وضو اور غسل اس صورت میں درست ہوں گے کہ میں اپنے ہاتھ یا پاؤں پانی سے بھرے ہوئے کسی برتن میں ڈال دوں اور پانی ان ہاتھوں اور پاؤں کو لگ جائے؟ اور کیا یہ کافی ہے کہ آدمی پہلے اپنے ہاتھوں کو پانی سے بھگو لے، پھر انہی گیلے ہاتھوں کو باقی اعضائے پر پھیر لے؟

جواب کا خلاصہ

ہاتھ کو گیلا کر کے اپنے وضو والے عضو پر پھیرنا اس عضو کو دھونا نہیں کہلاتا ، بلکہ دھونے کے لیے ضروری ہے کہ عضو کو دھوتے ہوئے پانی مکمل عضو پر  پانی سے باہر بہہ جائے ۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:
وضو اور غسل اس طرح بھی درست ہے کہ کوئی شخص اپنے عضو کو پانی کے برتن میں ڈبو دے۔ یہ عمل  بھی ’’غسل‘‘ کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے لیے پانی کے ساتھ اعضا کو ملنا شرط نہیں ہے۔ نیز اہل علم رحمہم اللہ کے صحیح قول کے مطابق ہاتھ یا پاؤں کو پانی میں ڈبونے سے پانی کی طہارت بھی زائل نہیں ہوتی۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اگر کسی نے اپنا عضو پانی میں ڈبو دیا تو یہ کافی ہے، کیونکہ یہ  بھی ’غسل‘ کہلاتا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المجموع:(1/493)

شیخ عبدالرحمن سعدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’جہاں تک اس پانی کا تعلق ہے جو (وضو یا غسل) کے دوران رفعِ حدث کے لیے استعمال میں لایا گیا ہو، تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص برتن سے باہر سے پانی لیتا رہا، تو برتن میں باقی رہنے والا پانی — خواہ کم ہو یا زیادہ — بالاتفاق ’’ طَہور‘‘خود بھی پاک  رہتا  اور دوسرے کو پاک کرنے والا بھی رہتا ہے۔
لیکن اگر وہ خود اسی پانی میں وضو یا غسل کر رہا ہو، تو اگر پانی زیادہ ہو تو بالاتفاق پاک ’’ طَہور‘‘رہتا ہے، اور اگر پانی کم ہو تو بعض کے نزدیک وہ پاک تو ہوتا ہے لیکن پاک کرنے والا نہیں رہتا، مگر صحیح قول یہی ہے کہ وہ بدستور خود بھی پاک  ہے اور دوسری چیز کو پاک کرنے والا بھی ہے، کیونکہ اس پانی کے طہور ہونے کے خلاف کوئی معتبر دلیل موجود نہیں۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’ إرشاد أولى البصائر والألباب ‘‘ ص (16-17)

دوم:
غسل اور مسح کے درمیان فرق یہ ہے کہ جس عضو کو ’’غسل‘‘  دینا مقصود ہو  اس عضو پر پانی کا بہنا شرط ہوتا ہے، جبکہ ’’مسح‘‘ میں پانی کا بہنا شرط نہیں ہوتا صرف تر ہاتھ سے عضو کو چھو لینا کافی ہوتا ہے، اس میں عضو پر پانی نہیں ڈالا جاتا یا نہ ہی بہایا جاتا ہے  جیسے سر یا موزوں پر مسح کے لیے کیا جاتا ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’مصنّف (امام ابو اسحاق الشیرازی) کا کہنا ہے کہ وضو میں پانی کا اعضا پر بہنا شرط ہے، اور یہ اس بات کی صریح دلیل ہے جس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ جب تک پانی عضو پر نہ بہے، وضو صحیح نہیں ہوتا، اور صرف چھو جانے یا گیلا کرنے سے وضو نہیں ہوتا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المجموع: (1/308)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جب کہا جائے ’چہرہ دھونا‘ تو اس سے ’مسح‘ خارج ہو جاتا ہے، لہٰذا لازم ہے کہ چہرہ دھویا جائے۔ اگر کوئی ہاتھ کو پانی سے تر کرے اور پھر چہرے پر پھیر لے تو یہ غسل نہیں کہلائے گا، کیونکہ غسل کا مطلب ہے کہ پانی عضو پر بہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الشرح الممتع: ( 1/183)

واللہ اعلم

حوالہ جات

وضو

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android