ایک نوجوان لوگوں سے ملنے میں خوف محسوس کرتا ہے

سوال 21865

میں ایک مسلمان نوجوان ہوں۔ عام طور پر لوگوں سے خوف محسوس کرتا ہوں، اور یہ خوف مجھے تنہائی پسند بنا دیتا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات میں حق پر ہوتے ہوئے بھی اپنے حق کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ مجھے ڈر لگتا ہے۔ اسی طرح اکثر میں دوسروں سے اس خوف کی وجہ سے بچتا ہوں کہ کہیں ان کی میرے بارے میں رائے بری نہ ہو۔ کیا اس کا کوئی حل ہے؟ اور کیا یہ میرے ایمان میں کمی شمار ہو گی؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

ایمان واجبات چھوڑنے اور حرام کام کرنے سے کم ہوتا ہے۔ لہٰذا جب تک آپ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کر رہے ہیں اور اس کی حرمتوں کا لحاظ رکھتے ہیں تو لوگوں سے الگ تھلگ رہنا یا ان سے خوف محسوس کرنا بذاتِ خود آپ کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ البتہ اگر یہی خوف آپ کو کسی واجب کام کی ادائیگی سے روک دے تو اس صورت میں آپ گناہ گار ہوں گے؛ مثلاً یہ خوف آپ کو مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے سے روک دے، یا ایسے منکرات کے انکار سے مانع ہو جنہیں آپ اپنی زبان یا ہاتھ سے روک سکتے ہوں، یا نصیحت کے مستحق شخص کو ایسی نصیحت کرنے سے باز رکھے  جو آپ پر لازمی ہو چکی ہے۔

آپ کے لیے مناسب نہیں کہ ان خوفوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیں یا انہیں قبول کر کے بیٹھ رہیں، بلکہ ان کے اسباب تلاش کریں اور ان کے علاج کی کوشش کریں۔ اس سلسلے میں ایک بات آپ کے لیے مدد گار ہو سکتی ہے، اور وہ یہ کہ آپ یقین رکھیں کہ کوئی مخلوق اپنے لیے بھی نفع و نقصان کی مالک نہیں۔ بلکہ اگر پوری امت جمع ہو کر آپ کو کوئی فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ آپ کو صرف اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر سب لوگ مل کر آپ کو نقصان پہنچانا چاہیں تو وہ آپ کو صرف اسی قدر نقصان پہنچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے حق میں مقدر کر رکھا ہے؛ قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے۔

چنانچہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہیں، اور وہی اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے، اسی سے امید رکھی جائے، اسی کی رغبت و رہبت دل میں ہو۔ لوگوں کی مذمت کی حقیقت میں کوئی قدر و قیمت نہیں، اور ایک مومن کے لیے یہی کافی ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو، اگرچہ تمام لوگ اس سے ناراض ہوں۔

جو شخص اللہ تعالیٰ کے حکم پر ثابت قدم رہے اور ذات باری تعالی ہی کا سہارا  لے، وہی شخص معزز ترین ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عزت اپنے مومن بندوں کے لیے لکھ دی ہے، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ
’’اور عزت تو اللہ ہی کے لیے ہے، اور اس کے رسول کے لیے، اور مومنوں کے لیے۔‘‘ [المنافقون: 8]

مومن کے قول، فعل اور تمام رویوں میں اس عزت کے آثار ظاہر ہونے چاہییں؛ وہ حق بات کھل کر کہے، اس کا اعلان کرے، نصیحت کرے، یاد دہانی کرائے، وعظ کرے، اللہ کے لیے راضی ہو اور اسی کے لیے ناراض ہو، اور جب اللہ کی حرمتیں پامال کی جائیں تو اس کے چہرے پر غصے اور ناگواری کے آثار نمایاں ہوں۔

یہ کیفیت اس وقت مکمل ہوتی ہے جب انسان اپنی زندگی کے مقصد اور اس میں اپنے کردار کو پہچان لے؛ کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کے دین کی تبلیغ، اور اپنی استطاعت کے مطابق اسے پھیلانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ سب کچھ لوگوں سے میل جول اور ان کی اذیتوں پر صبر کے بغیر ممکن نہیں، خصوصاً رشتہ داروں اور قرابت داروں کے معاملے میں۔ ترمذی (1307) اور ابن ماجہ (4032) میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ مومن جو لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی اذیتوں پر صبر کرتا ہے، اس مومن سے بہتر ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے اور ان کی اذیتوں پر صبر نہیں کرتا۔‘‘ اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع میں (6651) کے تحت صحیح قرار دیا ہے۔

اس کے لیے ابتدائی قدم یہ ہو گا کہ آپ نیک اور صالح دوستوں کی صحبت اختیار کرنے سے آغاز کریں، جن کے ساتھ آپ کو اُنس حاصل ہو، جن سے آپ کو اطمینان ہو، جو لوگوں سے متعلق آپ کے خوف اور اندیشوں پر قابو پانے میں آپ کی مدد کریں، یہ دوست ایسے ہوں جن میں آپ کو  ایسی سچی اخوت، اچھا برتاؤ، بامقصد زندگی اور نیک نیتی ملے جو شاید آپ اپنے ارد گرد کے لوگوں میں نہیں پا رہے۔

اور ہم آپ کو یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ نفسیاتی امراض کے کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں، ممکن ہے وہ آپ کے مسئلے کے مناسب حل میں آپ کی مدد کرے۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کو توفیق عطا فرمائے اور صحیح راہ پر قائم رکھے۔

حوالہ جات

نفسیاتی اور سماجی مسائل

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android