اگر آپ ہمارے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بشریت پر ایمان رکھتے ہیں تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کھاتے پیتے تھے، سوتے جاگتے تھے، عورتوں سے ہم بستری فرماتے تھے، قضاءِ حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تھے، اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بشریت کے لوازم میں سے یہ بھی ہے کہ آپ سے کبھی بھول چوک بھی ہو سکتی ہے، اور کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ اولیٰ یا زیادہ مناسب کام کی بجائے جائز لیکن کوئی کم درجے کا عمل کر بیٹھیں۔ بلکہ جمہور علماء نے یہ بات ذکر کی ہے کہ انبیاء علیہم السلام صغیرہ گناہوں سے معصوم نہیں، اور اس بارے میں دلائل بھی وارد ہیں۔
تفصیل کے لیے سوال نمبر (7208)، (42216) ملاحظہ کریں۔
کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں پڑھا:
عَبَسَ وَتَوَلَّى (1) أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى (2) وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى (3) أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرَى (4) أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَى (5) فَأَنْتَ لَهُ تَصَدَّى (6) وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّى (7) وَأَمَّا مَنْ جَاءَكَ يَسْعَى (8) وَهُوَ يَخْشَى (9) فَأَنْتَ عَنْهُ تَلَهَّى (عبس: 1–10)
ترجمہ: ’’اس نے منہ پھیر لیا اور رخ موڑ لیا، اس بنا پر کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا تھا۔ اور آپ کو کیا خبر شاید وہ پاک صاف ہو جاتا، یا نصیحت حاصل کر لیتا تو وہ نصیحت اسے فائدہ دیتی۔ رہا وہ شخص جو بے پروا ہے، تو آپ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ پاک نہ بھی ہو تو آپ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اور وہ جو آپ کے پاس دوڑتا ہوا آیا اور وہ ڈرتا بھی ہے، تو آپ اس سے بے توجہی برتتے ہیں۔‘‘
یہ صریح عتاب ہے اللہ کی طرف سے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے، اس وجہ سے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ایک نابینا صحابی کے بارے کے ساتھ اس معیار کا تعامل نہیں فرمایا جو ان کا حق بنتا تھا، حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ آپ اس کی طرف توجہ فرماتے اور اس کی عزت افزائی فرماتے۔
اسی طرح کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں پڑھا:
عَفَا اللَّهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ (التوبة: 43)
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کیا کہ آپ نے انہیں اجازت کیوں دے دی؟! یہاں تک کہ آپ پر سچے لوگ ظاہر ہو جاتے اور آپ جھوٹوں کو جان لیتے۔‘‘
علامہ سعدی رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’یعنی: اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کیا اور آپ کے اس عمل کو بخش دیا جو آپ نے کیا۔‘‘ (تیسیر الکریم الرحمن: ص 338)
یہ آیت اس بات میں واضح عتاب لیے ہوئے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان منافقین کو اجازت دے دی تھی جو جہاد سے پیچھے رہنا چاہتے تھے، یہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کی مثالیں ہیں، جس کے تقاضوں میں بھول، خطا اور غضب شامل ہیں، اگرچہ یہ امور آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے نہایت کم مواقع پر صادر ہوئے۔ یہ صورتِ حال اُس شخص کے برعکس ہے جس پر یہ کیفیات غالب آ جاتی ہیں، یا یہ اس کی مستقل عادت بن جاتی ہیں، اور وہ اپنے تمام معاملات میں، یا ان کے زیادہ تر حصے میں، محض طبعی تقاضوں کے تابع ہو کر چلتا ہے۔
اس حقیقت کو سمجھنا آپ کے سوال اور اشکال کا جواب سمجھنے میں بہت مدد گار ہے؛ خصوصاً جب آپ اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ یہ اشکال آپ کو ان آیات کے بارے میں کیوں پیدا نہیں ہوا؟ کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس کوئی نابینا ہدایت کا طالب آئے اور آپ اس سے اعراض کر جائیں تو آپ پر کوئی ملامت نہیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے بھی ایسا ہوا تھا؟!
بلکہ ہم تو کہیں گے کہ آپ پر ملامت ہو گی، اور گناہ بھی ہو گا، اور آپ کو ہرگز یہ حق نہیں کہ آپ ابنِ ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے واقعے سے اپنے عمل کو جائز ٹھہرائیں۔
اسی طرح آپ کی مثال اس شخص کی سی ہو جائے گی جو کسی ممنوع فعل میں مبتلا ہو کر کہے کہ آدم علیہ السلام نے بھی تو شجرہ ممنوعہ سے کھایا تھا!!
یا کوئی آدمی کسی کی جان لے لے اور دلیل یہ لائے کہ موسیٰ علیہ السلام نے بھی تو ایک شخص کو گھونسا مار کر قتل کر دیا تھا!!
اسی طرح کی اور بھی بہت سی باطل اور مردود تاویلات تک بات جا پہنچتی ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنی کتاب میں ہمارے لیے بیان فرمایا ہے، وہی ایسے شخص کے لیے وبالِ جان بن جاتا ہے؛ اور یہ سب رسولوں اور انبیاء علیہم السلام کی بشریت کے مسئلے کو غلط طور پر سمجھنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
اور شاید ہمارے حق میں یہ بات بھی ادب کے خلاف ہو کہ ہم رسولوں اور انبیائے کرام علیہم السلام کی اس قسم کی لغزشوں کی ٹوہ میں پڑیں، یا جان بوجھ کر انہیں جمع کریں اور ان کا تذکرہ کثرت سے کرنے لگیں۔ یہاں تک کہ ابن العربی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے:
’’آج ہم میں سے کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس بات کو بیان کرے (یعنی آدم علیہ السلام کی نافرمانی کو)، مگر اس صورت میں کہ ہم اسے اللہ تعالیٰ کے اپنے بیان کے ضمن میں ذکر کریں، یا اس کے نبی کے فرمان کے تحت لائیں۔ لیکن کوئی شخص خود اپنی طرف سے اسے بیان کرنے لگے، تو یہ ہمارے لیے اپنے حقیقی والدین کے بارے میں بھی جائز نہیں، جو ہم جیسے ہی تھے؛ تو پھر ہمارے اس پہلے، عظیم تر، زیادہ معزز اور مقدم نبی کے بارے میں یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے، جن کا عذر اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا، ان کی توبہ قبول کی اور انہیں بخش دیا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: أحكام القرآن از ابن العربی: (3/259)
اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ان واقعات کو اس لیے بیان نہیں کیا کہ انہیں عار دلائی جائے، یا امت کو ان کی ان لغزشوں پر عمل کی اجازت دی جائے، کہ کوئی کہے: مجھے بھی غصہ کرنے کا حق حاصل ہے جیسے کہ اللہ کے نبی کو بھی غصہ آیا تھا!!
بلکہ اصل قدوہ اور نمونہ اس کے بعد کی کیفیت میں ہے: کہ انبیاء غلطی کے بعد کس درجے کی اطاعت، انابت، خشوع، توبہ اور اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔
امام جوینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ہمارا دینی موقف یہ ہے کہ انبیاء کا صغیرہ گناہوں سے معصوم ہونا واجب نہیں، اور قرآنی آیات میں بیان ہونے والے واقعات میں انبیائے کرام کی کچھ لغزشیں بیان ہوئی ہیں، لیکن انبیائے کرام نے اپنی عمریں انہی لغزشوں پر استغفار میں گزار دیں۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: غياث الأمم، ص( 94)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام کو بعض گناہوں سے اس لیے آزمائش میں ڈالا تاکہ ان کی درجات توبہ کے ذریعے بلند ہوں، اور انہیں اللہ کی محبت اور اس کے فرح (خوشی) کا مقام حاصل ہو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، اور پاکیزہ رہنے والوں کو پسند کرتا ہے، اور توبہ کرنے والے کی توبہ پر بہت زیادہ خوش ہوتا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: مجموع الفتاوى (20/89)
چنانچہ نہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا غضب محلِ اقتدا ہے، اور نہ ان کی بشری لغزشیں۔ بلکہ محلِ اقتدا وہ ہے جو آپ ان حالات کے بعد اپنے رب کے لیے عبادت و اطاعت کے طور پر انجام دیتے ہیں۔
اسی طرح اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ امت یہ سمجھ جائے کہ کامل مطلق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے گناہوں کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ انہیں عار دلائے؛ بلکہ اس لیے کہ ان اللہ تعالی کی نعمتِ عفو و مغفرت واضح ہو جائے، اور اس لیے بھی کہ کوئی شخص اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: تفسیر سمعانی: ( 3/22)
پھر آپ یہ بھی واضح ہو جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا غضب، جن پر ہوتا تھا، وہ ان کے حق میں رحمت، اجر اور صدقہ بن جاتا تھا، جیسا کہ آپ کے سوال میں مذکور حدیث میں ہے پھر اور اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی سچا ہے کہ:
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ، عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ، حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ، بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (التوبة: 128)
ترجمہ: ’’یقیناً تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے، جس پر تمہاری تکلیف شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے انتہائی خواہش مند ہے، اور مومنوں پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔‘‘
اور اس مرحلے پر آپ یہ بات بھی بخوبی سمجھ لیتے ہیں کہ اس غضب اور اُن احادیثِ نبویۂ شریفہ کے درمیان کوئی تعارض نہیں جو غضب سے خبردار کرتی ہیں، اور نہ ہی یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُن غالب اور نمایاں طرزِ عمل کے خلاف ہے جن میں آپ نے حلم، عفو اور درگزر کو اختیار فرمایا، یہاں تک کہ اُن سخت ترین دشمنوں کے ساتھ بھی جو اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی میں نہایت قساوت اور شدّت کا مظاہرہ کرتے تھے۔
اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں کوئی اشکال باقی نہیں رہتا جس میں وہ بیان کرتی ہیں کہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں دو آدمی حاضر ہوئے اور آپ سے کوئی بات کہی، مجھے معلوم نہیں وہ کیا بات تھی، لیکن اس بات سے وہ دونوں آپ کو ناراض کر گئے۔ تو آپ نے ان پر لعنت کی اور ان دونوں کو برا کہا، جب وہ نکل کر چلے گئے تو میں نے عرض کی: کوئی شخص بھی جسے کوئی خیر ملی ہو (وہ) ان دونوں کو نہیں ملی۔ آپ نے فرمایا: (وہ کیسے؟) کہا: میں نے عرض کی: آپ نے ان کو لعنت کی اور برا کہا۔ آپ نے فرمایا: (کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اپنے رب سے شرط کی ہوئی ہے؟ میں نے کہا ہوا ہے کہ : اے اللہ! میں تو ایک بشر ہوں، پس جس مسلمان پر بھی میں نے لعنت کی یا اسے برا کہا، تو اسے اس کے حق میں پاکیزگی اور اجر کا باعث بنا دینا)‘‘۔ اسے مسلم (2600) نے روایت کیا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر (147389) اور (139912) ملاحظہ کریں۔
واللہ اعلم