ایک شخص گھبراہٹ اور خود اعتمادی کی کمی میں مبتلا ہے، اور اس مسئلے کے علاج کے لیے دعوت کے میدان میں لوگوں کے سامنے آنا چاہتا ہے۔

سوال: 194318

میں شدید پریشانی اور گھبراہٹ کا شکار ہوں، اس کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ یہ مجھے بہتر انداز میں عبادت کرنے سے روکتی ہے، اور اسی وجہ سے شادی بھی نہیں کر پا رہا، کیونکہ مجھ میں خود اعتمادی کی کمی ہے اور میں لوگوں کے ساتھ میل جول کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
کیا اگر میں مسجد میں لوگوں کے سامنے کھڑا ہو کر ان کو دعوت دوں تاکہ اس گھبراہٹ کا علاج ہو سکے، تو یہ عمل حرام ہو گا یا حلال؟ کیونکہ میری نیت دعوت دینا نہیں بلکہ اپنی گھبراہٹ کا علاج کرنا ہے۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

سب سے پہلے ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کو ایک نیک اور دین دار بیوی عطا فرمائے، جو آپ کی دینی و دنیاوی زندگی میں آپ کی مدد گار بنے ۔

یہ بات یقینی ہے کہ دنیا میں مسلمان کو پیش آنے والی ہر تکلیف، ہر آزمائش اور ہر بیماری محض اللہ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ یہ دنیا مومن کے لیے دارالامتحان ہے۔ اگر کوئی بندہ صبر کرتا ہے، اس تکلیف کو اللہ کی رضا کے ساتھ قبول کرتا ہے اور اس پر اجر کی نیت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا بدلہ بے انتہا بڑا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، حتیٰ کہ اگر ایک چھوٹا سا کانٹا بھی چبھ جائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کی کوئی خطا معاف فرما دیتا ہے‘‘ (صحیح بخاری: 5641، صحیح مسلم: 2573)۔

لہٰذا یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ اس کمزوری کو قبول کر کے اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ بلکہ آپ کو چاہیے کہ اس کے اسباب پر غور کریں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی حقیقت یہ ہے کہ ساری مخلوق نہ اپنے لیے نفع رکھتی ہے نہ نقصان۔ اگر ساری دنیا اس لیے جمع ہو جائے کہ آپ کو کوئی فائدہ دے، تو وہ صرف وہی فائدہ دے سکتی ہے جو اللہ نے آپ کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ اور اگر سب مل کر آپ کو نقصان پہنچانا چاہیں، تو پھر بھی اتنا ہی نقصان دے سکتے ہیں جتنا اللہ نے آپ پر لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے ہیں، تقدیریں طے ہو چکی ہیں، اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں۔

لہٰذا آپ کے خوف، امید، چاہت اور ڈر کا اصل مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہونا چاہیے۔ جو بندہ اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہتا ہے، اسی سے جڑ جاتا ہے اور اسی کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے، وہی سب سے زیادہ باعزت انسان ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب میں اعلان فرما دیا ہے: وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ ترجمہ: ’’عزت تو صرف اللہ کے لیے ہے، اس کے رسول کے لیے ہے اور مومنوں کے لیے ہے‘‘۔(المنافقون: 8)

اب اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر دین کی بات کرنا آپ کے اندرونی خوف کو ختم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ آپ اس کے اہل ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ ایک اہم نصیحت یہ ہے کہ آپ اپنی نیت کو درست کریں۔ آپ کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آپ اللہ کی رضا کے لیے دعوت دے رہے ہیں، نہ کہ محض اپنی گھبراہٹ کا علاج کرنے کے لیے؛ کیونکہ حقیقی شفا دینے والا صرف اللہ ہے۔ اگر آپ اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کریں گے، اس کے حکم پر عمل کریں گے اور اس سے مدد طلب کریں گے تو وہی آپ کے دل کو سکون اور علاج عطا کرے گا۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ دعوت ہمیشہ خطبہ دینے یا وعظ کرنے کی شکل میں نہیں ہوتی۔ آپ نیک اور مخلص لوگوں کی صحبت اختیار کریں، ان کے ساتھ رہیں، ان کے ساتھ اچھے تعلقات بنائیں، یہ بھی گھبراہٹ اور خوف کم کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔

عملی نصیحتیں:

  1. اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ اور اچھا گمان رکھیں، اسی کی پناہ میں آئیں اور اسی پر توکل کریں۔ یہی چیز دل کی بے چینی کو دور کرتی ہے اور سکون پیدا کرتی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا: وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ترجمہ: ’’اور جو اللہ پر ایمان لاتا ہے، اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے‘‘۔(التغابن: 11)

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’جس نے اپنا دل اپنے رب کے سامنے جھکا دیا، اسے سکون اور راحت نصیب ہوئی۔ اور جس نے دل کو لوگوں کے درمیان مشغول کر دیا، وہ ہمیشہ بے سکونی اور اضطراب کا شکار رہا‘‘ ختم شد
ماخوذ از: (الفوائد 1/98)۔

دعا کو مضبوطی سے تھام لیں۔ یہ مومن کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ دعا مصیبت کو روک دیتی ہے، نازل ہونے کے بعد اس کو ہلکا کر دیتی ہے، یا بالکل ختم کر دیتی ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’جو شخص سچائی کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرے، دعا میں بار بار اصرار کرے، اور کثرت سے سوال کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے، اس کی امید پوری کرتا ہے اور اس پر دنیا و آخرت کی بھلائیوں کے دروازے کھول دیتا ہے‘‘ ختم شد
ماخوذ از: (الجواب الكافي: 4)
آپ کو چاہیے کہ دعا کے لیے خاص اوقات کو اختیار کریں: رات کا آخری پہر، جمعے کے دن عصر کے بعد، اذان و اقامت کے درمیان، اور سجدے کی حالت۔

  1. یہ یقین رکھیں کہ آپ کی یہ کیفیت قابلِ علاج ہے۔ یہ گھبراہٹ اور کمزوری ہمیشہ کے لیے نہیں، بلکہ علاج اور مشق سے بہتر ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے آپ کی سچی خواہش اور عملی جدوجہد ضروری ہے۔
  2. ایسی تربیتی اور رہنمائی دینے والی کتابوں کا مطالعہ کریں جو آپ کو وقت کی تنظیم، فیصلے کرنے، گھبراہٹ پر قابو پانے، اور لوگوں کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے کی مہارت سکھاتی ہیں۔
  3. کسی ماہرِ نفسیات معالج سے ضرور رجوع کریں، خاص طور پر وہ جو دیندار اور صالح ہوں۔ ان شاء اللہ ان کی رہنمائی آپ کے لیے مفید ہو گی اور آپ کو عملی علاج ملے گا۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android