امام کے بائیں جانب مقتدی کے کھڑے ہونے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
پہلی صورت:
مقتدی امام کے بائیں جانب کھڑا ہو، جبکہ امام کے دائیں جانب کوئی دوسرا مقتدی موجود نہ ہو۔ اس صورت میں حنابلہ کے نزدیک مقتدی کی نماز صحیح نہیں ہوتی۔
دوسری صورت:
مقتدی امام کے بائیں جانب کھڑا ہو، اور امام کے دائیں جانب ایک اور مقتدی موجود ہو۔ اس صورت میں امام کے بائیں جانب کھڑے ہونے والے مقتدی کی نماز صحیح ہے۔
ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اگر کوئی شخص امام کے بائیں جانب کھڑا ہو تو اگر امام کے دائیں جانب بھی کوئی شخص موجود ہو تو اس کی نماز صحیح ہے؛ کیونکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ اور اسود کے درمیان نماز پڑھائی، پھر جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے۔ کیونکہ عورتوں اور برہنہ لوگوں کی جماعت میں امام کا صف کے درمیان کھڑا ہونا مشروع ہے۔ لیکن اگر امام کے دائیں جانب کوئی نہ ہو تو امام کے بائیں جانب کھڑے ہونے والے کی نماز فاسد ہے، خواہ وہ اکیلا ہو یا ایک سے زیادہ افراد ہوں۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المغنی: (2/24)
اس مسئلے میں دوسرا قول یہ ہے کہ مذکورہ دونوں صورتوں میں مقتدی کی نماز صحیح ہے۔
ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اکثر اہلِ علم کا موقف یہ ہے کہ اکیلا مقتدی امام کے دائیں جانب کھڑا ہو؛ اور اگر وہ امام کے بائیں جانب کھڑا ہو تو اس نے سنت کی مخالفت کی۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المغنی: (2/24)
دائمی فتویٰ کمیٹی کے علمائے کرام فرماتے ہیں:
’’اگر مقتدی ایک ہو تو وہ امام کے دائیں جانب کھڑا ہوگا؛ کیونکہ صحیحین میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات ٹھہرا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی اٹھا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ نے میرے سر کے اگلے بال پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کر دیا۔ متفق علیہ
یہ حکم اس وقت ہے جب امام کی دائیں جانب خالی ہو، جیسا کہ حدیثِ ابن عباس میں ہے۔ لیکن اگر امام کے دائیں جانب پہلے سے ایک شخص صف میں کھڑا ہو تو دوسرے شخص کے لیے امام کے بائیں جانب کھڑے ہونے میں کوئی حرج نہیں، اور سب کی نماز صحیح ہے۔ تاہم سنت یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو دونوں مقتدی امام کے پیچھے کھڑے ہوں؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر اور جبار رضی اللہ عنہما کو، جب وہ آپ کے دائیں اور بائیں کھڑے ہوئے، حکم دیا کہ وہ آپ کے پیچھے کھڑے ہوں۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: فتاوى اللجنة الدائمة: (8/20)
لہٰذا اگر مسجد میں ایک سے زیادہ صفیں بنانے کی گنجائش ہو تو سنت یہ ہے کہ امام آگے کھڑا ہو اور مقتدی اس کے پیچھے صف بنائیں۔
اور اگر ایسا ممکن نہ ہو، مثلاً جگہ بہت تنگ ہو، تو بہتر یہ ہے کہ مقتدی امام کے دائیں جانب کھڑا ہو۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو بعد میں آنے والا مقتدی امام کے بائیں جانب کھڑا ہو سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
واللہ اعلم