فرشتوں کی تخلیق کی حکمت، اور ہدایتِ توفیق و ہدایتِ ارشاد میں فرق

1

سوال 146216

فرشتوں کو پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے؟ کیا وہ محض تخلیق کی لذت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں یا آزمائش اور جانچ کے لیے؟

اور جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو پیدا فرمایا تو کیا وہ اس کے انجام اور زمین میں اس کے مستقبل کو جانتا تھا؟ اور کیا اللہ تعالیٰ ابلیس کو اس ہدایت پر پیدا کرنے پر قادر نہ تھا جو اس کے لیے اس نے چاہی تھی؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

مسلمان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے رب تعالیٰ کے لیے وہ تمام اسماء، صفات اور افعال ثابت نہ مانے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ثابت فرمائے ہیں، اور اسی طرح وہ بھی جنہیں اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ثابت فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ثابت شدہ اسماء میں سے ایک نام ”الحکیم“ ہے، اور اس کی ثابت شدہ صفات میں سے ایک صفت ”حکمت“ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے کوئی مخلوق بے حکمت پیدا نہیں کی، اور کوئی شریعت بے حکمت مشروع نہیں فرمائی۔ یہ لازم نہیں کہ بندوں کی عقلیں ہمیشہ ان حکمتوں تک پہنچ جائیں؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندوں پر ان حکمتوں میں سے بعض کو ظاہر فرما دیتا ہے، اور بعض کو ان سے پوشیدہ رکھتا ہے، تاکہ ان کی آزمائش ہو، اور ان کی عبودیت اور اپنے رب کے سامنے تسلیم و رضا کا امتحان ہو۔

دوم:

اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر فرمایا کہ فرشتوں کو پیدا کرے، اور ان میں معصیت کی کوئی خواہش نہ ہو؛ بلکہ ان کی ساری ہمت رب العالمین کی اطاعت ہی میں صرف ہو۔ اس لیے دنیا میں نہ ان کے لیے امتحان ہے نہ ابتلا، اور آخرت میں نہ ان پر حساب ہے نہ سزا و جزا۔

ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی مخلوق کو مختلف اطوار پر پیدا فرمایا: فرشتوں کو ایسی عقلیں بنایا جن میں شہوات نہیں، اور نہ کوئی ایسی طبیعت جو ان سے اس کے خلاف تقاضا کرے جو مطلوب ہے؛ انہیں نورانی مادے سے پیدا کیا جو مذموم آثار اور ناپسندیدہ طبائع میں سے کسی چیز کا تقاضا نہیں کرتا۔ جانوروں کو شہوات کے ساتھ پیدا کیا مگر عقلیں نہیں دیں، اور جن و انس یعنی ثقلین کو پیدا کیا تو ان میں عقلیں، شہوات اور مختلف طبائع جمع کر دیں، جو اپنے مواد، صورتوں اور ترکیب کے اعتبار سے مختلف آثار کا تقاضا کرتی ہیں۔ یہی امتحان اور ابتلا والے ہیں، اور یہی ثواب و عقاب کے سامنے آنے والے ہیں۔ اگر اللہ سبحانہ چاہتا تو اپنی مخلوق کو ایک ہی فطرت پر بنا دیتا اور ان میں تفاوت نہ رکھتا؛ لیکن اس نے جو کچھ کیا وہ عین حکمت، ربوبیت کا تقاضا اور الوہیت کا مقتضیٰ ہے۔‘‘

(طريق الهجرتين، ص: 203)

ثالثاً:

معزز فرشتے اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہیں؛ مکرم بندے ہیں، اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے، اور جو حکم انہیں دیا جاتا ہے وہی بجا لاتے ہیں۔ ان کا رب تعالیٰ انہیں جس کام پر چاہتا ہے مامور فرماتا ہے۔ جب آپ ان وظائف اور اعمال کو جان لیں جو یہ معزز مخلوق انجام دیتی ہے تو یہی ان کی تخلیق کی حکمت ہے۔ ان اعمال اور وظائف کا خلاصہ تین امور میں ہے:

پہلا:
اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی تمجید، تعظیم اور تسبیح کرنا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ
’’وہ رات دن تسبیح کرتے رہتے ہیں، ذرا سستی نہیں کرتے۔‘‘ [الأنبياء: 20]

اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی زبان سے فرمایا:
وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ ۝ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ
’’اور یقیناً ہم ہی صفیں باندھنے والے ہیں، اور یقیناً ہم ہی تسبیح کرنے والے ہیں۔‘‘ [الصافات: 165-166]

سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(’’میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، اور وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان چرچرا رہا ہے، اور اسے چرچرانا ہی چاہیے؛ اس میں چار انگلیوں کی جگہ بھی ایسی نہیں مگر وہاں کوئی فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے لیے سجدے میں رکھے ہوئے ہے۔‘‘)

اسے ترمذی (2312) اور ابن ماجہ (4190) نے روایت کیا ہے، اور البانی نے ’’صحیح ترمذی‘‘ میں اسے حسن قرار دیا ہے۔

دوسرا:
اپنے رب کے حکم اور اس کی تفویض کے مطابق اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کی بادشاہی کے امور انجام دینا۔

چنانچہ بعض فرشتے عرش اٹھانے پر مامور ہیں، اور ان کی تعداد آٹھ ہے۔ بعض وحی پہنچانے پر مامور ہیں، بعض جنت کے نگہبان ہیں، بعض جہنم کے داروغہ ہیں، بعض رزق کی تقسیم پر مقرر ہیں، اور اسی طرح بہت سے عظیم امور ہیں جن پر رب سبحانہ وتعالیٰ نے انہیں مامور فرمایا ہے۔

تیسرا:
اپنے رب کے حکم اور اس کی تفویض کے مطابق بنی آدم کے امور انجام دینا۔

چنانچہ بعض فرشتے بنی آدم کی حفاظت کرتے ہیں، بعض ان کے اعمال لکھتے ہیں، بعض روحیں قبض کرنے پر مامور ہیں، بعض قبر میں میت سے سوال کرنے پر مقرر ہیں، بعض اہل ایمان کے لیے استغفار کرتے ہیں، اور اسی طرح انسان سے متعلق بے شمار عظیم ذمہ داریاں ان کے سپرد ہیں۔

سوال نمبر (843) کا جواب بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے، اور فرشتوں سے متعلق تفصیلی معلومات کے لیے شیخ ڈاکٹر عمر سلیمان الاشقر حفظہ اللہ کی کتاب ’’عالم الملائكة الأبرار‘‘ مفید اور جامع کتاب ہے۔

رابعاً:

اور جہاں تک آپ کے اس قول کا تعلق ہے کہ: ”کیا جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو پیدا کیا تو وہ اس کے انجام اور زمین میں اس کے مستقبل کو جانتا تھا؟“ تو سب سے پہلے یہ جان لیجیے کہ بندے کا اسلام درست نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس بات پر ایمان نہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو ہو چکا، جو ہو گا، اور جو نہیں ہوا اگر ہوتا تو کس طرح ہوتا۔ جو شخص اس میں سے کسی چیز میں شک کرے وہ اللہِ عظیم کے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔

کیا آپ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں پڑھتے:

عَالِمِ الْغَيْبِ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
’’وہ غیب کا جاننے والا ہے، آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر کوئی چیز بھی اس سے اوجھل نہیں، نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی، مگر وہ سب ایک واضح کتاب میں درج ہے۔‘‘ [سبأ: 3]

اور یہ فرمان:

لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا
’’تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اور یہ کہ اس نے ہر چیز کو اپنے علم کے احاطے میں لے رکھا ہے۔‘‘ [الطلاق: 12]

اور یہ فرمان:

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ
’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے؟‘‘ [المجادلة: 7]

اور یہ فرمان:

هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
’’وہی اول ہے، وہی آخر ہے، وہی ظاہر ہے، وہی باطن ہے، اور وہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔‘‘ [الحديد: 3]

پھر تم ان آیات، اور ان جیسی سینکڑوں آیات اور سینکڑوں احادیث سے کہاں غافل ہو؟!

خامساً:

اور آپ کا یہ کہنا کہ: ”کیا اللہ تعالیٰ ابلیس کو اس ہدایت پر پیدا کرنے پر قادر نہ تھا جو اس کے لیے اس نے چاہی تھی؟“ یہ بھی آپ کی طرف سے عجیب بات ہے؛ اگر آپ مسلمان ہیں تو پھر ایک عاجز رب پر ایمان کیسے لے آئے؟ اور پھر اس رب پر کیسے ایمان لائے جس نے فرشتوں کو فرمانبردار بندے پیدا فرمایا، سو ان کے بارے میں وہی ہوا جو اللہ تعالیٰ نے چاہا؟

ہم جواب کے آغاز میں آپ کے لیے بیان کر چکے ہیں کہ ابلیس اور آدم کی تخلیق فرشتوں کی تخلیق سے کس طرح مختلف ہے؛ بلکہ اے سائل! یہی بات تمہیں اللہ جل جلالہ کی کامل قدرت اور اس کی عظیم بادشاہی کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اس نے اپنی مخلوق میں سے ایسی مخلوق پیدا فرمائی جو پلک جھپکنے کے برابر بھی اس کی نافرمانی نہیں کرتی، بلکہ ہمیشہ اس کی اطاعت گزار ہے؛ اور وہ فرشتے ہیں۔ اس نے ایسی مخلوق بھی پیدا فرمائی جو کبھی اس کے حکم کی اطاعت نہیں کرتی، بلکہ نافرمان، کافر اور اس کے حکم کی مخالف ہے؛ اور وہ شیاطین ہیں۔ اور اس نے ایسی مخلوق پیدا فرمائی جس میں دونوں وصف جمع ہیں: ایمان اور کفر، اطاعت اور معصیت؛ اور وہ بنی آدم ہیں۔

یہ سب اللہ ہی کی مخلوق ہیں۔ اگر وہ چاہتا تو سب کو ایک ہی ملت، ایک ہی خلقت اور ایک ہی دین پر بنا دیتا؛ لیکن اس کی حکمت اور قدرت نے اسی تنوع کا تقاضا کیا۔ وہ اپنے ہر فعل، ہر قول اور ہر خلق پر قابلِ حمد ہے، سبحانہ:

لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ
’’وہ اپنے کاموں کے بارے میں باز پرس کا مستحق نہیں، جبکہ لوگوں سے باز پرس کی جائے گی۔‘‘ [الأنبياء: 23]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’وہ سبحانہ ہر چیز کا خالق، اس کا رب اور مالک ہے۔ جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے اس میں اس کی حکمتِ بالغہ، نعمتِ سابغہ، اور عام و خاص رحمت ہے۔ وہ اپنے افعال کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا اور لوگ پوچھے جائیں گے؛ یہ محض اس کی قدرت اور غلبے کی بنا پر نہیں، بلکہ اس کے علم، قدرت، رحمت اور حکمت کے کمال کی بنا پر ہے۔‘‘
(مجموع الفتاوى: 8/79)

سادساً:

جان لیجیے کہ جو شخص بھی سیدھے راستے سے بھٹکا، اس کے پاس ہدایت آ چکی تھی؛ مگر اسی نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا اور اس کی پیروی سے تکبر کیا۔ پس ہدایتِ دلالت و ارشاد ان تک پہنچ چکی، اور اللہ تعالیٰ نے اسی کے ذریعے ان پر حجت قائم کر دی؛ لیکن انہوں نے اس کے سامنے جھکنے اور اس کی پیروی کرنے سے انکار کیا، تو ان سے گمراہی صادر ہوئی۔ یوں اللہ کی ہدایت اور اس کا بیان مخلوق کے لیے عام ہوا، اور اس کی حجت ان پر قائم ہو گئی۔

پس اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت اور اپنے بیان کو مخلوق تک پہنچا دیا اور اپنی حجت ان پر پوری کر دی، جیسا کہ فرمایا:

قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
’’کہہ دیجیے: فیصلہ کن حجت تو اللہ ہی کے لیے ہے، پھر اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔‘‘ [الأنعام: 149]

ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اللہ سبحانہ نے خبر دی کہ اس کی حجت ان پر اس کے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے، اور اس بیان کے ذریعے قائم ہے کہ ان کے لیے کیا نفع بخش ہے اور کیا نقصان دہ؛ نیز انہیں ایمان لانے پر قادر بنایا، اپنے اوامر و نواہی کی معرفت دی، اور انہیں سماعتیں، بصارتیں اور عقلیں عطا فرمائیں۔ اس طرح اس کی حجتِ بالغہ ان پر ثابت ہو گئی، اور اس کی مشیت و قضا کے مقابل ان کی باطل حجت مٹ گئی۔ پھر اس نے اپنے اس فرمان سے حجت کی تکمیل بیان فرمائی: فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ ؛ یعنی اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔‘‘

یہ اس بات کو متضمن ہے کہ وہی ربوبیت، بادشاہی اور اپنی مخلوق میں تصرف میں منفرد ہے؛ اس کے سوا کوئی رب نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی معبود ہے۔ پھر وہ اس کے ساتھ کسی اور معبود کی عبادت کیسے کرتے ہیں؟! پس تقدیر اور مشیت کا اثبات اس کی حجتِ بالغہ کی تکمیل میں سے ہے، اور یہ کہ سارا معاملہ اللہ ہی کے لیے ہے، اور اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔ قضا و قدر اور نافذ مشیت توحید کے عظیم دلائل میں سے ہیں؛ لیکن ظالم منکروں نے انہیں شرک پر اپنی دلیل بنا لیا، تو اللہ کی حجت ہی غالب و کامل ہوئی، اور ان کی حجت باطل و مردود ٹھہری۔ وباللہ التوفیق۔‘‘
(شفاء العليل، ص: 35)

اور اے سائل! ہم آپ کو شرعی علم حاصل کرنے کی نصیحت کرتے ہیں، اور یہ کہ اپنے دین اور اپنے رب عزوجل کے قرب سے متعلق نفع بخش باتیں سیکھیں۔ اپنا وقت قرآن کریم کے حفظ میں لگائیں، اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا کثرت سے مطالعہ کریں، اور اس امت کے سلف اور علمائے کرام کے حالات پڑھیں؛ آپ ان شاء اللہ اس میں بہت خیر دیکھیں گے۔ عمر کے لمحات اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں کہ انہیں بے فائدہ چیزوں میں ضائع کیا جائے، اور زندگی اتنی محدود ہے کہ اسے ایسے کاموں میں صرف کیا جائے جو اس دن نقصان پہنچا سکتے ہیں جب ہم اپنے رب تعالیٰ سے ملیں گے۔

اور ہماری سب سے بڑی نصیحت یہ ہے کہ اس سب کے ساتھ ساتھ رات دن کے اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کریں، اور اس کی اطاعت میں خوب کوشش کریں؛ کیونکہ شیطان وسوسہ ڈالنے والا، پیچھے ہٹ جانے والا ہے۔ جب آپ اللہ کو یاد کرتے ہیں تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور آپ کے مقابل کمزور پڑ جاتا ہے، اور جب آپ اس کے ذکر سے غافل ہوتے ہیں تو وہ آپ کے سامنے آ جاتا ہے اور آپ کو وسوسوں اور خیالات میں مشغول کر دیتا ہے۔

واللہ اعلم۔

حوالہ جات

فرشتوں پرایمان

ماخذ: 

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے

متعلقہ جوابات

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

App StoreGoogle Play