اول:
آپ کا یہ سوال اس بات کی نہایت عمدہ اور واضح دلیل ہے کہ آپ ایک معلّمہ، رہنمائی کرنے والی اور داعیہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کو پورے شعور، اخلاص اور احساسِ امانت کے ساتھ نبھا رہی ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کو، آپ کی بلند ہمتی کو اور آپ کی مخلصانہ کوششوں کو قبول فرمائے اور ان میں برکت عطا کرے۔
یقیناً اسکول میں معلّم اور معلّمہ ایک امانت دار کی حیثیت میں ہوتے ہیں، اور جن ذمہ داریوں پر انہیں مامور کیا گیا ہے اُن کے بارے میں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ بھی ہیں؛ یعنی طلبہ کو خیر کی نصیحت کرنا، درست راہ دکھانا، اور محبت و حکمت کے ساتھ اُن کا ہاتھ تھام کر اُن کاموں کی طرف لے جانا جن میں اُن کی دنیا و آخرت کی بھلائی اور نفع ہو۔ اسی حقیقت کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے توجہ دلائی ہے۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: (تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا(۔ اس حدیث کو امام بخاری (853) اور امام مسلم (1829) نے روایت کیا ہے۔
اگر معلّمین اور معلّمات سب آپ ہی کی طرح اس ذمہ داری کا گہرا احساس رکھیں، آپ جیسی سنجیدہ فکر اور یہ پاکیزہ خواہش دل میں بسا لیں کہ بچوں کو واقعی دین سے جوڑا جائے، تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک صالح اور با کردار نسل تیار ہو سکتی ہے، اور ایک ایسی پاکیزہ بنیاد قائم ہو سکتی ہے جو آنے والے وقتوں میں خیر و بھلائی کے ثمرات پیدا کرے گی۔
دوم:
مسلمان پر لازم ہے کہ وہ تعلیم، نصیحت اور دوسروں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتا رہے، واضح رہے کہ نصیحت کار اور رہنما شخص نتیجے کا ذمہ دار نہیں ہوتا ، اور نہ ہی اس کا اس بات پر مواخذہ ہو گا کہ لوگوں نے اس کی بات کو قبول کیوں نہیں کیا، اس حوالے سے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ
ترجمہ: ’’رسول پر تو صرف تبلیغ کر دینا ہی لازم ہے‘‘، سورۃ المائدہ، آیت 99۔
اسی طرح دعوت کی کامیابی کثرتِ تعداد یا زیادہ پیروکاروں سے ناپی نہیں جاتی؛ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں، تو کسی اکیلے نبی کے ساتھ یا دو نبیوں کے ساتھ چند لوگ تھے، اور کسی نبی کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا۔) اسے امام بخاری (5378) اور امام مسلم (220) نے روایت کیا ہے۔
لہٰذا مدعو افراد کی طرف سے فوراً عمل نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ دعوت ناکام ہو گئی یا اس میں کوئی کمی رہ گئی۔ بسا اوقات کوئی ایک بات، کوئی نصیحت یا کوئی موعظت کچھ عرصہ گزرنے کے بعد بھی اپنا اثر دکھا دیتی ہے۔
اسی حقیقت کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اشارہ فرمایا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: (یہ دین وہاں تک ضرور پہنچے گا جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کچے اور پکے ہر گھر تک اس دین کو ضرور داخل فرما ئے گا؛ یا تو کسی باعزت کو عزت عطا کر کے، جس کے ذریعے اللہ اسلام کو سربلندی دے گا، یا کسی ذلیل کو ذلت میں ڈال کر، جس کے ذریعے اللہ کفر کو ذلیل کرے گا۔) اسے امام احمد (28/155) نے روایت کیا ہے، اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ صحیحہ (3) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی زندگی میں اس پیش گوئی کی تکمیل کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔
لہذا دعوت کی کامیابی کے لیے یہ شرط نہیں کہ انسان اس کے اثرات فوراً اور اپنی زندگی ہی میں محسوس کرے۔
ہم ہر استاد اور معلّم کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے اور ان کی تربیت کے لیے درج ذیل طریقہ کار اختیار کرے:
الف۔ گھر اور اسکول کے درمیان مضبوط رابطہ قائم ہونا ضروری ہے۔
اگر اسکول میں بچے کی تعمیر ہو اور گھر میں اسے ڈھا دیا جائے، یا گھر سنوارے اور اسکول اس کے برخلاف چلے، تو مطلوبہ نتیجہ ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے طلبہ کے سرپرستوں اور والدین سے مسلسل رابطہ ناگزیر ہے۔ مثال کے طور پر: اگر معلّم بچوں کو نماز کی پابندی کی ترغیب دے، تو ضروری ہے کہ گھر والے بھی اس پر نظر رکھیں، انہیں نماز کے وقت کی یاد دہانی کروائیں اور عملی تعاون کریں۔
اسی طرح اگر معلّم بچے کو کھانے کے آداب سکھائے، جیسے بسم اللہ کہنا اور دائیں ہاتھ سے کھانا، تو والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر میں بھی اس کی نگرانی کریں۔ یہی اصول دیگر آداب اور شرعی احکام پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
ب۔ ایمانی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے، اور بچے کے دل میں ایمان کی اندرونی طاقت (دینی شعور اور اللہ تعالی کی نگرانی کے احساس) کو مضبوط کیا جائے، کیونکہ یہی چیز اسے خود بخود عمل پر آمادہ کرتی ہے۔
ج۔ سچی کہانیوں اور واقعات کے ذریعے تربیت کی جائے، اور بچوں کے دلوں میں انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرام اور تابعین سمیت سلف صالحین سے محبت پیدا کی جائے، نیز انہیں ان عظیم شخصیات کی اقتدا کی طرف راغب کیا جائے۔ یہ اسلوب طلبہ کے دلوں پر اثر ڈالنے کے مؤثر ترین طریقوں میں سے ہے۔
د۔ عملی نمونے اور کردار کے ذریعے تربیت کی جائے، چنانچہ معلّم اور معلّمہ کا طلبہ کے سامنے سچائی، امانت داری، شائستہ گفتگو اور اچھے اخلاق کے ساتھ نظر آنا ان کے دلوں پر نہایت گہرا مثبت اثر ڈالتا ہے۔ آخر ایک طالب علم اپنے معلّم کی اس نصیحت کو کیسے قبول کرے کہ وہ سچ بولے اور وعدہ پورا کرے، جب کہ معلّم خود اپنی باتوں میں جھوٹ بولے یا وعدہ کر کے پورا نہ کرے؟!
ھ۔ عملی مشق کے ذریعے تربیت دی جائے، مثلاً بچوں کے سامنے نماز ادا کرنا، ان کے سامنے وضو کر کے دکھانا—اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ عبادات اپنی ہیئت اور عملی صورت کے ساتھ ان کے ذہنوں میں نقش ہو جاتی ہیں، اور وہ انہیں صرف سن کر نہیں بلکہ دیکھ کر سیکھتے ہیں۔
یہ تمام طریقے باہم مل کر بچے کی شخصیت، اس کے ایمان اور اس کے عمل پر دیرپا اور مثبت اثر ڈالتے ہیں۔
اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ معلّم سب سے پہلے کن امور کو طلبہ کے دلوں میں راسخ کرے، تو اس کی ترتیب یوں ہونی چاہیے:
ا۔ ارکانِ ایمان
یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، یومِ آخرت پر، اور اچھی یا بُری تقدیر پر ۔
ان عقائد کو بچوں کے فہم اور ذہنی سطح کے مطابق سادہ انداز میں پیش کیا جائے، مثالیں دی جائیں، اور بات کو دہرانے کا اہتمام کیا جائے، تاکہ مفہوم ان کے دل و دماغ میں اچھی طرح بیٹھ جائے۔
ب۔ بنیادی عبادات سے متعلق احکام
خصوصاً نماز کے احکام، اس کے ساتھ وضو کی تعلیم، نیز طہارت کے آداب اور صفائی ستھرائی کی ترغیب۔
ج۔ عمومی اخلاق و آداب
جیسے اچھی بات کہنا اور بُری زبان سے بچنا، والدین سے محبت اور ان کی اطاعت، بڑوں کا احترام، دوستوں کے ساتھ حسنِ سلوک، اور اسی طرح کے دیگر اخلاقی آداب، جو بچے کی شخصیت کو متوازن اور خوش اخلاق بناتے ہیں۔
د۔ بُری عادات اور غلط رویّوں سے خبردار کرنا
مثلاً گالی گلوچ کرنا، جھوٹ بولنا، دوسروں کو ایذا دینا، یا ان پر زیادتی کرنا وغیرہ؛ تاکہ بچہ ابتدا ہی سے اچھے اور بُرے کی تمیز سیکھ لے۔
اور سب سے اہم اوصاف جن سے ایک مربّی اور معلّم کا آراستہ ہونا ضروری ہے: صبر، جہدِ مسلسل ، اور مایوسی سے دوری؛ کیونکہ تربیت ایک تدریجی عمل ہے، جو وقت اور حوصلہ مانگتا ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کی مدد فرمائے، آپ کو کامیابی عطا کرے، اور آپ کی ہمت و محنت پر آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے۔
واللہ اعلم