تقسیمِ وراثت میں اختلاف، ترکہ کی تقسیم کے طریقے، کون لوگ وارث ہوتے ہیں، اور تقسیم وراثت سے پہلے کس چیز کی ادائیگی ضروری ہے؟

سوال 140167

تقسیمِ ترکہ کا مسئلہ ہمیشہ سے مجھے الجھن میں ڈالتا رہا ہے۔ پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ ترکہ کی تقسیم کا صرف ایک ہی طریقہ اور ایک ہی قول ہے، لیکن جب میں نے انٹرنیٹ سے "تقسیمِ ترکہ" کی ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کی تو مجھے معلوم ہوا کہ اس میں کئی فقہی مذاہب ہیں اور ترکہ تقسیم کرنے کے متعدد طریقے ہیں۔ اسی ایپ کے ذریعے مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ وارثوں کی مختلف اقسام ہوتی ہیں: جیسے بھائی، اولاد، بیویاں وغیرہ۔ اب میں درج ذیل امور کو کتاب و سنت کی دلیل کے ساتھ جاننا چاہتا ہوں:

1- کیا واقعی ترکہ کے حساب کے متعدد طریقے اور اسالیب ہیں؟
2- کیا قرآن میں مذکور اصناف کے علاوہ بھی کچھ دیگر طبقات ہیں جو ترکہ کے مستحق ہوتے ہیں؟
3- ترکہ تقسیم کرتے وقت کون سی ترجیحات کو پیش نظر رکھا جاتا ہے؟ براہِ کرم تفصیل بیان کریں۔
4- درج ذیل مسئلے کا حساب کیسے کیا جائے گا:
ایک شخص فوت ہوا اور اس نے ایک ملین ڈالر ترکے میں چھوڑے۔ اس کے وارث یہ ہیں: تین بیویاں، پانچ بیٹے، چھ بیٹیاں، پہلی بیوی سے دو سوتیلے بیٹے، تیسری بیوی سے تین سوتیلی بیٹیاں، میت کے والدین، دو بھائی، تین بہنیں، باپ کی طرف سے ایک سوتیلا بھائی اور ایک سوتیلی بہن، ماں کی طرف سے ایک سوتیلا بھائی اور دو سوتیلی بہنیں، نیز اس کے نانا، نانی، دادا اور دادی (ماں اور باپ دونوں کی طرف سے)۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

علماءِ کرام کے درمیان ترکہ اور وراثت کی تقسیم کے مسائل میں اختلاف بہت کم ہے؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ کریم میں ہر مستحق کا حصہ خود بیان فرما دیا ہے۔ بظاہر سائل کی مراد یہ نہیں، بلکہ وہ ترکہ تقسیم کرنے کے طریقوں میں اختلاف کی بات کر رہا ہے، اور یہ بات درست ہے۔ یہ مختلف طریقے دراصل حساب کے طریقے میں اختلاف ہیں، جبکہ آخری نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے، یعنی ہر وارث کو اس کا حصہ بغیر کسی کمی بیشی کے دے دیا جاتا ہے۔

عمومی طور پر ترکہ دو قسموں میں تقسیم ہوتا ہے:

  1. وہ چیزیں جنہیں شمار کیا جا سکتا ہے یا عدد اور حصوں کے اعتبار سے تقسیم کیا جا سکتا ہے، جیسے نقد رقم، ماپی جانے والی اور تولی جانے والی اشیاء وغیرہ۔
  2. وہ چیزیں جنہیں اس طریقے سے تقسیم نہیں کیا جا سکتا، جیسے چھوٹا مکان، جانور یا گاڑی۔

پہلی قسم: اس کی تقسیم کے کئی طریقے ہیں، جن میں سے ایک مشہور اور آسان طریقہ یہ ہے کہ ہر وارث کا حصہ معلوم کیا جائے، پھر اس حصے کو کل ترکہ سے ضرب دیا جائے، پھر حاصل کو اصلِ مسئلہ، یا اس کے عَول یا تصحیح پر تقسیم کیا جائے، اور اس تقسیم کا نتیجہ اس وارث کا حصہ ہو گا۔

دوسری قسم: اگر ترکہ ایسی چیزوں پر مشتمل ہو جنہیں گنا نہیں جا سکتا، تو ان کی تقسیم کے طریقوں میں سے ایک ’’ تناسب کا طریقہ ‘‘ہے۔ اس میں ہر وارث کے حصے کو کسر کے اوپر والا عدد بنایا جاتا ہے، اور اصلِ مسئلہ، یا عَول، یا تصحیح کو کسر کے نیچے والا عدد قرار دیا جاتا ہے، پھر ہر وارث کو اسی تناسب کے مطابق ترکہ دیا جاتا ہے۔

اس کی تفصیل کے لیے کتاب: "السير الحثيث نحو تسهيل قسمة المواريث" (ص 206–221) ملاحظہ کریں۔

دوم:

جہاں تک ان طبقات کا تعلق ہے جو ترکہ میں وارث بنتے ہیں، تو انہیں درج ذیل اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

الف: اصحابِ فروض، یعنی وہ لوگ جن کے حصے شریعت میں مقرر ہیں، اور وہ یہ ہیں:

  1. ماں
  2. ماں کی طرف سے بھائی
  3. ماں کی طرف سے بہن
  4. شوہر
  5. بیوی
  6. نانی
  7. دادی

ب: ایک وہ قسم جو صرف عصبہ کی صورت وارث بنتی ہے۔
عصبہ کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ جن کا حصہ مقرر نہیں ہوتا بلکہ وہ بغیر کسی تعیین کے باقی مال کے وارث بنتے ہیں، اور وہ یہ ہیں:

  1. بیٹا
  2. پوتا، خواہ کتنی ہی نیچے کی نسل میں ہو
  3. سگا بھائی
  4. باپ کی طرف سے بھائی
  5. سگے بھائی کا بیٹا
  6. باپ کی طرف سے بھائی کا بیٹا
  7. سگا چچا
  8. باپ کی طرف سے چچا
  9. سگے چچا کا بیٹا
  10. باپ کی طرف سے چچا کا بیٹا

ج: ایک قسم وہ ہے جو کبھی اصحاب الفروض اور کبھی عصبہ کی صورت میں وارث بنتی ہے، بلکہ بعض اوقات دونوں کو جمع بھی کرتی ہے، اور یہ صرف دو ہیں:

  1. باپ
  2. دادا

د: ایک قسم وہ ہے جو کبھی اصحاب الفروض اور کبھی عصبہ کی صورت میں وارث بنتی ہے، لیکن دونوں کو جمع نہیں کرتی، اور یہ چار ہیں، اور سب عورتیں ہیں:

  1. ایک یا زیادہ بیٹیاں
  2. ایک یا زیادہ پوتیاں
  3. ایک یا زیادہ سگی بہنیں
  4. ایک یا زیادہ باپ کی طرف سے بہنیں

سوم:

ترکہ تقسیم کرتے وقت درج ذیل ترجیحات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے:

الف: سب سے پہلے میت کے حقوق ادا کیے جاتے ہیں، یعنی اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات (غسل، کفن اور قبر کی تیاری وغیرہ)، پھر اس کے قرض ادا کیے جاتے ہیں، اس کے بعد اگر کوئی وصیت ہو تو اسے نافذ کیا جاتا ہے۔

ب: موانعِ میراث کا لحاظ کرنا ضروری ہے، اور وہ تین ہیں:

  1. غلامی
  2. قتل
  3. دین کا اختلاف

ج: تقسیم میں ترجیح کا اصول یہ ہے کہ اصحابِ الفروض کو عصبہ پر مقدم رکھا جاتا ہے، چنانچہ پہلے اصحابِ فروض کو ان کے مقررہ حصے دیے جاتے ہیں، جیسا کہ شریعت نے متعین کیا ہے۔

د: حجب (محروم یا کم کر دینا) کے مسئلے کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، اور اس کی چند اقسام ہیں:

  1. حجبِ کلی: یعنی مکمل محرومی، مثلاً بیٹا پوتے کو محروم کر دیتا ہے، اور باپ دادا اور بھائیوں کو محروم کر دیتا ہے۔
  2. حجبِ جزوی، جس کی مختلف صورتیں ہیں:
    اولاً: فرض سے کم فرض کی طرف، جیسے وارث اولاد کی موجودگی میں بیوی کا حصہ چوتھائی سے کم ہو کر آٹھواں ہو جاتا ہے۔
    ثانیاً: فرض سے تعصیب کی طرف، جیسے بہنیں بھائی کی موجودگی میں فرض سے ہٹ کر تعصیب میں آ جاتی ہیں۔
    ثالثاً: تعصیب سے تعصیب کی طرف، اور یہ خاص طور پر بہنوں کے ساتھ ہے جب ان کے ساتھ بھائی موجود ہوں اور وہ بیٹیوں کے ساتھ عصبات بنیں، تو وہ پہلے اکیلے باقی مال لینے کے بجائے اپنے بھائیوں کے ساتھ اس باقی میں شریک ہو جاتی ہیں، اس اصول کے مطابق کہ مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملتا ہے۔

ھ: اگر نہ اصحابِ الفروض موجود ہوں اور نہ عصبہ، تو پھر ولاء (آزادی کے تعلق) کو دیکھا جاتا ہے۔

چہارم:

جہاں تک مذکورہ مسئلے کا تعلق ہے، تو ان تمام افراد میں سے صرف یہ لوگ وارث ہوں گے: باپ، ماں، بیویاں، بیٹے اور بیٹیاں؛ جبکہ باقی تمام مذکور افراد محجوب (محروم) ہیں۔

چنانچہ:
باپ کو چھٹا حصہ ملے گا۔
ماں کو چھٹا حصہ ملے گا۔
تین بیویاں آٹھواں حصہ لیں گی، جو ان کے درمیان برابر تقسیم ہو گا۔
پانچ بیٹے اور چھ بیٹیاں باقی مال لیں گے، اس اصول کے مطابق کہ مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملتا ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

وراثت

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android