جب آپ دونوں کے درمیان یہ طے ہو چکا ہے کہ جائیداد میں آپ کی اہلیہ کو ان کے خرچ کے بقدر حصہ حاصل ہوگا، اور وہ حصہ ایک تہائی بنتا ہے، تو حقوق کے تحفظ کے لیے اسے باقاعدہ سرکاری دستاویزات میں درج کر دینا چاہیے۔
لہٰذا مناسب یہی ہے کہ ملکیت کی دستاویز میں جائیداد کو آپ دونوں کے درمیان مذکورہ تناسب کے مطابق مشترک کر دیا جائے؛ چنانچہ دو تہائی حصہ آپ کا اور ایک تہائی حصہ آپ کی اہلیہ کا درج کیا جائے۔
دائمی فتویٰ کمیٹی کے علماء سے ایک شخص نے سوال کیا گیا کہ:
میں ایک عمرہ رسیدہ شخص ہوں۔ میں نے پہلے پچاسی ہزار ریال میں ایک زمین خریدی تھی۔ میرے دو بیٹے ہیں۔ پھر میں نے اور میرے بیٹوں نے مل کر اس پر عمارت تعمیر کی، اور تعمیراتی اخراجات ہم سب نے مشترکہ ادا کیے۔ میں نے دو لاکھ سترہ ہزار ریال ادا کیے، جبکہ میرے دونوں بیٹوں نے مجموعی طور پر ایک لاکھ پچھتر ہزار ریال ادا کیے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے جائز ہے کہ ان کی ادا کردہ مبلغ کے عوض انہیں عمارت کے نصف حصے میں شریک لکھ دوں؟ واضح رہے کہ میں اس پر راضی ہوں، اور میری بیٹیاں بھی ہیں۔
انہوں نے جواب دیا:
’’اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا آپ نے بیان کیا ہے تو اس عمارت کو اپنے اور اپنے بیٹوں کے درمیان ان کے ادا کردہ مال کے بقدر مشترک لکھنے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ انہوں نے یہ رقم آپ کو بطورِ ہبہ نہ دی ہو۔‘‘
ماخوذ از: ’’ فتاویٰ اللجنة الدائمة ‘‘ (14/303-304)
اسی طرح شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے سوال کیا گیا:
ہم سات بہن بھائی ہیں: چار بہنیں اور تین بھائی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک زرعی زمین خریدنے کی توفیق دی۔ ہم نے اپنی تمام جمع پونجی اکٹھی کی، یہاں تک کہ اپنی عورتوں کے زیورات بھی لے کر اس کی قیمت ادا کی۔ والد کی خوشنودی کے لیے ہم نے اس زمین کا نصف حصہ ان کے نام رجسٹر کرا دیا۔ پھر ان کا انتقال ہو گیا۔ ہم نے اپنی بہنوں کو اس میں سے کچھ نہیں دیا، اور انہوں نے بھی خریداری کے حالات اور معاشی مجبوریوں کو جانتے ہوئے کچھ مطالبہ نہیں کیا۔ اسی طرح ہم نے اپنی بیویوں کو بھی اس میں سے کچھ نہیں دیا، یہ بھی ان کی خوشی اور رضا مندی سے ہوا۔ آپ کی رائے میں اولاً ہماری بہنوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور ہماری بیویوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا ان کا اس میں کوئی حق بنتا ہے یا نہیں؟
انہوں نے جواب دیا:
’’جہاں تک بہنوں کا تعلق ہے، تو اگر تم نے زمین کا نصف حصہ اپنے والد کے نام اس معنی میں درج کیا تھا کہ تم نے وہ حصہ حقیقتاً انہیں دے دیا تھا، تو پھر وہ ان کا ترکہ شمار ہو گا اور ان کی وفات کے بعد ان کے تمام وارثوں میں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ وراثت کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔ اس بنا پر تمہاری بہنوں کا بھی اپنے والد کے ترکے میں حصہ ہوگا، اور انہیں اپنے والد کے حصے سے اس زمین میں وراثت ملے گی۔
اور جہاں تک آپ کی بیویوں کا تعلق ہے، تو اگر انہوں نے بھی زمین کی خریداری میں تمہارے ساتھ شرکت کی تھی، اور اپنے زیورات اس نیت سے دیے تھے کہ وہ خریداری میں تمہارے ساتھ شریک ہیں، تو ان کا بھی اس زمین میں حصہ ہوگا۔
البتہ اگر انہوں نے یہ زیورات تمہیں بطورِ ہبہ دیے تھے اور زمین خریدنے میں تمہاری مدد کے طور پر دیے تھے، تو پھر وہ حصہ تمہاری ہی ملکیت ہوگا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’ المنتقى من فتاوى الفوزان ‘‘ (2/54)