کیا بیوی شوہر کے ذکر کو ہاتھ لگائے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

سوال 134956

اگر بیوی اپنے شوہر کے ذکر کو چھو لے تو کیا بیوی کا وضو ٹوٹ جائے گا؟ اور کیا شوہر کا وضو بھی ٹوٹے گا؟ چاہے کپڑے وغیرہ کے اوپر سے ہو یا براہِ راست، خواہ شہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت؟ اور کیا بیوی کو چھونا یا اس سے مصافحہ کرنا وضو توڑ دیتا ہے، چاہے شہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت؟ اور کیا بوسہ لینے سے بیوی یا شوہر، یا جس نے بوسہ دیا اس کا وضو ٹوٹ جائے گا؟ جزاکم اللہ خیراً۔

جواب کا خلاصہ

اگر بیوی شوہر کے ذکر کو شہوت کے ساتھ چھوئے تو بیوی کا وضو ٹوٹ جائے گا، لیکن اگر بغیر شہوت کے چھوئے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اور اگر کپڑے وغیرہ کے اوپر سے چھوئے تو وضو نہیں ٹوٹے گا، چاہے شہوت کے ساتھ ہو۔

متعلقہ جوابات

جواب کا متن

کیا آلہ تناسل کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

اہلِ علم کے مابین اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ کیا مردانہ عضو خاص کو چھونے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟ اس کی تفصیل سوال نمبر (82759) کے جواب میں گزر چکی ہے، اور راجح یہ ہے کہ اگر شہوت کے ساتھ چھوا جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

کیا بیوی اپنے شوہر کے ذکر کو ہاتھ لگائے تو اس  سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

اگر عورت اپنے شوہر کے ذکر کو شہوت کے ساتھ چھوئے تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، اور اگر بغیر شہوت ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔
عليش  رحمہ اللہ ’’منح الجليل شرح مختصر خليل‘‘ (1/113) میں لکھتے ہیں:
’’کسی دوسرے کے ذکر کو ارادۃً چھونا لمس کے حکم میں ہے، یعنی اگر لذت پائی تو وضو ٹوٹ جائے گا۔‘‘

بیوی کے اپنے شوہر کے آلہ تناسل کو  کپڑے کے اوپر سے چھونے کا حکم:

اگر ہم اس رائے کو اختیار کریں کہ لمس (چھونے) سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو اس کے لیے شرط یہ ہے کہ درمیان میں کوئی حائل (رکاوٹ) نہ ہو۔ یہ جمہور علماء کا قول ہے۔ پس اگر عورت اپنے شوہر کے ذکر (آلہ تناسل) کو کسی کپڑے یا پردے کے اوپر سے چھوئے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، چاہے شہوت کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی دلیل وہ حدیث ہے جو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ سے اپنے شرمگاہ کو بغیر کسی آڑ کے چھوئے تو اسے وضو کرنا چاہیے۔‘‘  (مسند شافعی 1/12، شیخ البانی نے ’’صحیح الجامع‘‘ میں اسے صحیح کہا ہے)

مزید کے لیے دیکھیں: حاشية الدسوقي (1/120)، مغني المحتاج (1/1، 2)، مطالب أولي النهى (1/143)

اپنی بیوی سے مصافحہ کرنے  کے بعد وضو کا حکم

اگر مرد اپنی بیوی سے مصافحہ کرے یا بوسہ دے، یا بیوی اسے بوسہ دے، تو اس سے دونوں کا وضو نہیں ٹوٹے گا، چاہے شہوت کے ساتھ ہو، جب تک کوئی مادہ خارج نہ ہو۔ اس کی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے:  ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیویوں میں سے ایک کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لیے گئے اور وضو نہیں کیا۔‘‘ (ترمذی 86، نسائی 1/104، ابن ماجہ 502)

شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اور ان اقوال میں سے راجح اور درست بات یہ ہے کہ عورت کو چھونے سے وضو بالکل بھی نہیں ٹوٹتا، خواہ مرد عورت کو چھوئے یا بوسہ دے، اس سے وضو نہیں ٹوٹتا — یہی اقوال میں سے صحیح ترین قول ہے۔   اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج مطہرات کو بوسہ دیا، پھر نماز ادا فرمائی اور وضو نہیں فرمایا۔   اسی طرح اصل یہ ہے کہ وضو اور طہارت برقرار رہتی ہے، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ وضو کسی چیز سے ٹوٹ گیا ہے، جب تک اس پر کوئی واضح اور معارضت سے خالی دلیل قائم نہ ہو۔   اور یہاں ایسی کوئی مضبوط دلیل موجود نہیں جو یہ بتائے کہ عورت کو چھونے سے مطلقاً وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ‘‘  ختم شد
ماخوذ از: مجموع فتاویٰ : (17/219)

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (14321)، (12822) اور (22757)کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

نواقض وضو

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android