کیا کوئی قبر کے دباؤ سے بچ سکتا ہے؟

سوال 131627

دینی موضوعات کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے یہ جملہ ملا: (قبر بھی دباتی ہے، اگر کوئی اس سے بچ سکتا تو سعد بن معاذ اس سے بچ جاتے۔)، اور ایک روایت میں ہے: (یہ وہ شخصیت ہیں جن کے لیے عرش ہل گیا، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے، اور ستر ہزار فرشتوں نے جنازے میں شرکت کی، پھر بھی انہیں قبر نے دبایا، پھر ان کے لیے کشادگی کر دی گئی۔) کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسانوں میں صرف سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہی قبر کے دباؤ سے محفوظ رہے؟ یعنی کیا قبر کا دباؤ ہر مسلمان پر لازم ہے، چاہے وہ ایسے اعمال کرے جو اسے عذابِ قبر سے بچا سکتے ہوں؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:
عالمِ برزخ میں میت کو سب سے پہلے قبر کا دباؤ پیش آتا ہے، اس کے ثبوت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد صحیح اور صریح احادیث وارد ہوئی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

1- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (بلاشبہ قبر کا ایک دباؤ ہوتا ہے، اور اگر کوئی اس سے بچ سکتا تو سعد بن معاذ اس سے بچ جاتے۔)
اسے امام احمد (6/55، 98)نے روایت کیا ہے۔ امام عراقی نے "تخریج الإحياء" (5/259) میں کہا ہے کہ : اس کی سند جید ہے۔ اور امام ذہبی نے "سیر اعلام النبلاء" (1/291) میں کہا: اس کی سند قوی ہے۔ اور شیخ البانی نے "سلسلہ صحیحہ" (1695) میں فرمایا: ’’خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث اپنے تمام طرق اور شواہد کے مجموعے سے بلا شبہ صحیح ہے۔‘‘ ختم شد ، نیز مسند احمد کے محققین (مؤسسہ الرسالہ، 40/327) نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔

2- سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کی وفات کے وقت فرمایا: (یہ وہ شخصیت ہیں جن کے لیے عرش ہل اٹھا، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے، اور ستر ہزار فرشتوں نے جنازے میں شرکت کی، پھر بھی انہیں ایک بار قبر نے دبایا، پھر ان کی قبر کو کشادہ کر دیا گیا۔)
اسے امام نسائی رحمہ اللہ نے "سنن نسائی" (4/100) حدیث نمبر: (2055) میں روایت کیا اور اس پر سکوت اختیار کیا، اور اس کے لیے باب قائم کیا: "قبر کا دباؤ اور اس کی سختی"۔ اور شیخ البانی نے "صحیح نسائی" میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

3- سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بچے کو دفن کیا گیا، تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اگر کوئی قبر کے دباؤ سے بچ سکتا تو یہ بچہ بچ جاتا۔‘‘
اسے طبرانی نے "المعجم الكبير" (4/121) میں روایت کیا، اور حافظ ابن حجر نے "المطالب العالية" (13/44) میں اس کے ہم معنی روایت کو صحیح کہا، نیز ہیثمی نے "مجمع الزوائد" (3/47) اور شیخ البانی نے "سلسلہ صحیحہ" (2164) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

امام قرطبی نے "التذكرة في أحوال الموتى وأمور الآخرة" (ص 323) میں "اس باب میں کہ قبر کا دباؤ نیک انسان پر بھی ہوتا ہے" کے تحت مزید نصوص ذکر کی ہیں، لیکن ان میں سے اکثر ضعیف اور منکر ہیں۔

اسی طرح ابن جوزی نے "الموضوعات" (3/231) میں بھی اس موضوع کے تحت بہت سی روایات ذکر کی ہیں، لیکن جو صحیح احادیث ہم نے ذکر کر دی ہیں، وہ کافی ہیں، ان شاء اللہ۔

دوم:
اہلِ علم کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ کیا مومن کو بھی قبر کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا نہیں؟ اور اگر پڑتا ہے تو اس کی کیفیت کیا ہوتی ہے؟ اس بارے میں دو قول ہیں:

پہلا قول:
ہر مومن کو قبر کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس پر سختی بھی ہوتی ہے، لیکن نیک مومن سے جلد ہی یہ سختی دور کر دی جاتی ہے اور اس کے لیے اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے، لہٰذا اس پر یہ تکلیف زیادہ دیر باقی نہیں رہتی۔ جبکہ فاسق کے لیے یہ دباؤ زیادہ سخت ہوتا ہے اور اس کی قبر کی تنگی اس کے گناہوں اور نافرمانی کے بقدر طویل ہو جاتی ہے۔

ابو القاسم سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’قبر کے دباؤ سے نہ کوئی نیک بچتا ہے اور نہ بد، البتہ مسلمان اور کافر کے درمیان فرق یہ ہے کہ کافر پر یہ تنگی مسلسل قائم رہتی ہے، جبکہ مومن کو یہ حالت اس وقت پیش آتی ہے جب وہ پہلی مرتبہ قبر میں اتارا جاتا ہے، پھر جلد ہی اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے۔ ‘‘ ختم شد

اور حکیم ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اس دباؤ کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص ایسا نہیں جس سے کسی نہ کسی درجے کا گناہ سرزد نہ ہوا ہو، تو یہ دباؤ اس کے بدلے میں اسے پیش آتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔‘‘ ختم شد

یہ دونوں اقوال امام سیوطی کی ’’سنن نسائی‘‘ پر حاشیہ (3/292) سے نقل کیے گئے ہیں، اور امام رملی نے بھی انہیں اپنی ’’فتاویٰ‘‘ (4/210) میں نقل کیا ہے۔

دوسرا قول:
نیک مومنوں کو بھی قبر کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن یہ دباؤ نرمی اور شفقت والا ہوتا ہے، اس میں نہ کوئی اذیت ہوتی ہے اور نہ تکلیف۔ جبکہ نافرمان مسلمانوں پر یہ دباؤ ان کے گناہوں اور برے اعمال کی کثرت کے مطابق ناراضی کے طور پر سخت ہو جاتا ہے۔

چنانچہ علامہ محمد تیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’کہا جاتا ہے کہ قبر کے دباؤ کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ زمین ان کی ماں ہے، اور اسی سے انہیں پیدا کیا گیا ہے، پھر وہ اس سے ایک طویل عرصہ تک غائب رہے، تو جب اولاد کو دوبارہ اس زمین کی طرف لوٹایا جاتا ہے تو زمین انہیں اس شفقت کرنے والی ماں کی طرح اپنے سینے سے لگا لیتی ہے، جس کا بچہ طویل عرصے بعد واپس آیا ہو۔، پس جو اللہ کا فرمانبردار ہوتا ہے اسے وہ نرمی اور شفقت کے ساتھ لپٹتی ہے، اور جو اللہ کا نافرمان ہوتا ہے اسے سختی اور ناراضی کے ساتھ لپٹتی ہے ۔‘‘ ختم شد

اسے امام سیوطی نے اپنی ’’سنن نسائی‘‘ پر حاشیہ (3/292) میں ابن ابی الدنیا کی روایت سے نقل کیا ہے، اور اپنی کتاب ’’بشرى الكئيب بلقاء الحبيب‘‘ (ص 5) میں ’’مومن پر قبر کے دباؤ میں تخفیف کا بیان‘‘ کے عنوان کے تحت بھی ذکر کیا ہے۔

اور اسی مفہوم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک مرفوع حدیث بھی روایت کی گئی ہے، آپ کہتی ہیں کہ: ’’میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب سے آپ نے مجھے منکر اور نکیر کی آواز، اور قبر کے دباؤ کے بارے میں بتایا ہے، تب سے کوئی چیز مجھے سکون نہیں دے سکی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! مومنوں کے کانوں میں منکر اور نکیر کی آواز ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے آنکھ میں سرمہ لگایا جاتا ہے، اور مومن پر قبر کا دباؤ اس مہربان ماں کی مانند ہوتا ہے جس کے پاس اس کا بیٹا سر درد کی شکایت لے کر آئے، تو وہ نرمی سے اس کے سر کو دبا دیتی ہے۔ لیکن عائشہ! اللہ کے بارے میں شک کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے، انہیں ان کی قبروں میں اس طرح دبایا جائے گا جیسے چٹان پر انڈا دبا دیا جائے۔‘‘

اسے بیہقی نے ’’إثبات عذاب القبر‘‘ (ص 85) حدیث نمبر: (116) اور دیلمی نے ’’مسند الفردوس‘‘ حدیث نمبر: (3776) میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں حسن بن ابی جعفر اور علی بن زید بن جدعان ہیں، اور یہ دونوں ضعیف ہیں، لہٰذا یہ حدیث ضعیف ہے۔ بعض اہلِ علم نے اسے ابن مندہ اور ابن نجار کی طرف بھی منسوب کیا ہے، لیکن مجھے وہاں یہ روایت نہیں ملی۔

حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’یہ دباؤ کسی بھی طرح عذابِ قبر میں شامل نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے مومن اسی طرح محسوس کرتا ہے جیسے دنیا میں اپنے بچے یا قریبی عزیز کی جدائی کا درد محسوس کرتا ہے، یا بیماری کی تکلیف، یا جان نکلنے کی تکلیف، یا قبر میں سوال و جواب اور آزمائش کی سختی، یا اہلِ خانہ کے رونے سے متاثر ہونے کا احساس، یا قبر سے اٹھنے کی مشقت، یا میدانِ حشر کی ہولناکی، یا جہنم کے پاس سے گزرنے کا خوف، اور اس جیسی دیگر کیفیات۔ یہ تمام ہولناک مراحل ایسے ہیں جو بندے کو پیش آ سکتے ہیں، لیکن یہ نہ تو عذابِ قبر میں سے ہیں اور نہ ہی جہنم کے عذاب میں سے۔ البتہ متقی بندے کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض یا تمام معاملات میں نرمی فرماتا ہے، اور مومن کے لیے اپنے رب سے ملاقات سے پہلے کوئی راحت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ ’’اور انہیں حسرت کے دن سے ڈرا دیجیے‘‘ (سورۃ مریم: 39) اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْآزِفَةِ إِذِ الْقُلُوبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ ’’اور انہیں قریب آنے والے دن سے ڈرا دیجیے جب دل حلق تک پہنچ جائیں گے‘‘ (سورۃ غافر: 18) پس ہم اللہ تعالیٰ تعالی سے معافی اور اس کی غیبی مہربانی کا سوال کرتے ہیں۔

ان تمام ہولناکیوں کے باوجود سعد — یعنی ابن معاذ رضی اللہ عنہ — ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں ہمیں یقین ہے کہ وہ اہلِ جنت میں سے ہیں، اور وہ بلند مرتبہ شہداء میں سے ہیں۔ گویا تم یہ سمجھتے ہو کہ کامیاب شخص کو دونوں جہانوں میں کوئی گھبراہٹ، خوف، تکلیف یا پریشانی پیش نہیں آتی؟! اپنے رب سے عافیت مانگو، اور یہ دعا کرو کہ وہ ہمیں سعد کے گروہ میں اٹھائے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’ سیر أعلام النبلاء ‘‘ (1/290-292)

اسی طرح مالکی فقیہ شیخ نفراوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’جہاں تک قبر کے دباؤ کا تعلق ہے تو اس سے بچاؤ ممکن نہیں، البتہ اس کی شدت درجات کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’ الفواکہ الدوانی ‘‘ (2/688)

اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’یہ حدیث — یعنی (قبر نے سعد کو ایک بار دبایا…) — اہلِ علم کے ہاں مشہور ہے، اور اگر اسے صحیح تسلیم کیا جائے تو مومن کے لیے زمین کا دباؤ رحمت اور شفقت کا دباؤ ہوتا ہے، جیسے ماں اپنے بچے کو سینے سے لگاتی ہے، جبکہ کافر کے لیے یہی دباؤ عذاب کا ہوتا ہے، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔

کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خبر دی ہے کہ جب انسان کو دفن کیا جاتا ہے تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس سے تین بنیادی سوالات کرتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور تیرا نبی کون ہے؟ تو مومن کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے، اور میرے نبی محمد ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میرا اور آپ کا جواب یہی ہو۔ جبکہ منافق یا مرتد — اللہ ہمیں اس سے بچائے — کہتا ہے: ہائے ہائے! مجھے معلوم نہیں، میں لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنتا تھا تو وہی کہہ دیتا تھا۔ پھر اس پر قبر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں، اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔ لہٰذا قبر کے دباؤ میں کافر یا مرتد اور مومن کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔‘‘ مختصراً ختم شد

ماخوذ از: ’’لقاءات الباب المفتوح‘‘ (نمبر 161، سوال نمبر 17)۔

اور بظاہر — واللہ اعلم — اس مسئلے میں پہلا قول ہی راجح معلوم ہوتا ہے؛ کیونکہ ظاہرِ سنت اسی پر دلالت کرتا ہے کہ کوئی مومن تو کیا، اس سے بڑھ کر کوئی بھی قبر کے دباؤ سے نہیں بچتا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دباؤ بڑا شدید ہے اور اس سے تکلیف بھی ہوتی ہے جو اس شخص کو محسوس ہوتی ہے جسے قبر دبائے، اگرچہ اس دباؤ میں لوگوں کے درمیان تفاوت ہوتا ہے، ہر ایک اپنے عمل اور حال کے مطابق دباؤ کا اثر پاتا ہے۔

اسی لیے ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے قبر کے دباؤ کو گناہوں کی مغفرت کے اسباب میں شمار کیا ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں:
’’آٹھواں سبب وہ ہے جو قبر میں فتنے، دباؤ اور گھبراہٹ کی صورت میں پیش آتا ہے، کیونکہ یہ چیزیں گناہوں کے کفارہ کا باعث بنتی ہیں۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: مجموع الفتاوى: (7/500)

مزید یہ کہ سوال میں مذکور حدیث اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ سعد رضی اللہ عنہ ہی وہ واحد شخص ہیں جو قبر کے دباؤ سے بچ گئے، جیسا کہ سوال کرنے والے نے سمجھا ہے، بلکہ یہ حدیث صراحت کے ساتھ بتاتی ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ بھی قبر کے دباؤ سے نہیں بچے، حالانکہ اگر کسی کے لیے قبر کے دباؤ سے بچ نکلنا ممکن ہوتا تو سب سے زیادہ اس کے مستحق سعد رضی اللہ عنہ ہی تھے۔

مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر (71175) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

عذاب قبراوراس کی نعمتیں

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android