رشوت وہ چیز ہے جو انسان اس لیے دیتا ہے تاکہ وہ ایسی چیز حاصل کر لے جو اس کا حق نہیں، یا اس کے ذریعے اپنے ذمہ لازم کسی حق سے بچ جائے۔
دیکھیے: ’’الموسوعۃ الفقہیۃ‘‘(24/256)
ابن عابدین رحمہ اللہ اپنے ’’حاشیہ‘‘ میں کہتے ہیں:
’’رشوت وہ ہے جو کوئی شخص حاکم یا کسی اور کو اس لیے دے کہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کرے، یا اسے وہ کام کرنے پر آمادہ کرے جو رشوت دینے والا چاہتا ہے۔‘‘
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ابن عابدین رحمہ اللہ نے اپنے حاشیہ میں ذکر کیا ہے کہ رشوت وہ ہے جو کوئی شخص حاکم یا کسی اور کو دے تاکہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کرے یا اسے اپنی مرضی کے مطابق کام پر آمادہ کرے۔ اس تعریف سے واضح ہے کہ رشوت صرف مال تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ منفعت بھی اس میں شامل ہے جو کسی کو مہیا کی جائے یا اس کے لیے پوری کی جائے۔ حاکم سے مراد قاضی ہے، اور اس کے علاوہ ہر وہ شخص بھی مراد ہے جس سے رشوت دینے والے کی کوئی غرض پوری ہونے کی امید ہو، خواہ وہ سرکاری عہدے داروں اور ملازمین میں سے ہو یا نجی معاملات انجام دینے والوں میں سے، مثلاً تاجروں، کمپنیوں اور جائیداد کے مالکان کے وکیل و نمائندے وغیرہ۔ اور رشوت دینے والے کے حق میں فیصلہ کرنے یا رشوت لینے والے کو اس کی مرضی پر آمادہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ رشوت دینے والے کی خواہش اور مقصد پورا کیا جائے، خواہ وہ حق ہو یا باطل۔‘‘
ماخوذ از: ’’مجموع فتاویٰ ابن باز‘‘(23/223-224)
اگر کسی شخص کو اپنا حق صرف رشوت دے کر ہی مل سکتا ہو تو اس کے لیے اپنا حق حاصل کرنے کی خاطر رشوت دینا جائز ہے، لیکن اس صورت میں گناہ صرف لینے والے پر ہو گا، دینے والے پر نہیں۔
مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر: (87688) ملاحظہ کریں۔
جبکہ ہبہ یا تحفہ:
یہ ہے کہ کسی شخص کو کوئی مال بلا معاوضہ اس کی ملکیت میں دے دیا جائے تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے۔
دیکھیے: ’’فتح القدیر‘‘(9/19)، ’’المغنی‘‘(5/379)
ہبہ ، ہدیہ کے معنی میں بھی آتا ہے، تاہم اس کا محرک مختلف ہو سکتا ہے، مثلاً: موہوب لہ سے محبت، اس کا اکرام مقصود ہونا، اس سے تعلق بڑھانا، اس پر صدقہ کرنا، یا اس کے کسی احسان کا بدلہ دینا۔
لہٰذا ہدیہ یا ہبہ کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ اس کے عوض انسان ایسی چیز حاصل کرے جو اس کا حق نہیں ہے؛ اور یہی چیز رشوت اور ہبہ کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے۔
شیخ ابن جبرین حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ ہبہ مستحب ہے۔ یہ لفظ ’ہبوبِ ریح‘، یعنی ہوا چلنے، سے ماخوذ ہے۔ کہا جاتا ہے: {هَبَّتِ الرِّيحُ} یعنی ہوا چلی؛ کیوں کہ ہوا لطیف ہوتی ہے اور اس کا چلنا بھی سبک ہوتا ہے۔ پھر ہبہ کو یہ نام اس لیے دیا گیا کہ یہ ہبہ دینے والے کے مال پر ہلکا ہوتا ہے۔ اہل علم ہبہ کی تعریف یہ کرتے ہیں کہ: کوئی چیز کسی کی ملکیت میں بلا عوض دے دینا۔ اسے فقہائے کرام کے ہاں ’’ ہبۂ تبرع‘‘ یا ’’ ہبۂ تبرر‘‘بھی کہا جاتا ہے، یعنی ایسا تحفہ جس میں دینے والا کسی بدلے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، بلکہ اس کا مقصد صرف اس شخص سے محبت اور تعلق پیدا کرنا ہوتا ہے ، اور یہ چاہتا ہے کہ دونوں کے درمیان محبت، الفت اور دلوں میں صفائی پیدا ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرمایا کرتے تھے اور اس کا بدلہ بھی دیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ دی گئی چیز تناول بھی فرماتے تھے، لیکن صدقہ اور زکاۃ وغیرہ نہیں کھاتے تھے، اور فرماتے تھے: (یہ آلِ محمد کے لیے حلال نہیں)۔ البتہ ہدیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبول بھی فرماتے اور اس کا بدلہ دیتے تھے۔‘‘ ختم شد
واللہ اعلم