ایک شخص کو بد بو کا باعث بننے والا پسینہ بہت زیادہ آتا ہے اور ہر نماز کے لیے غسل کرنا اس پر دشوار ہے۔

سوال 129681

ایک شخص شدید پسینے کی بیماری میں مبتلا ہے، اور اسے ہر نماز کے لیے غسل کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ دوسرے نمازیوں کو اذیت نہ دے۔ تو کیا ایسے شخص کو بعض فرض نمازوں میں مسجد نہ جانے کی رخصت حاصل ہے یا نہیں؟ خصوصاً اس صورت میں کہ بعض اوقات مسلسل غسل کرنا دشوار ہو جاتا ہے، اور اس میں فجر کے وقت کی سردی بھی شامل ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اگر کسی شخص کو اس مرض کا سامنا ہو کہ اس کے جسم سے ناگوار بو آتی ہو، اور خوشبو یا اس جیسی چیزوں کے استعمال سے بھی اس بو کو چھپانا ممکن نہ ہو، تو وہ نماز با جماعت میں حاضر نہ ہونے پر معذور شمار ہو گا، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اس پر اجر عطا فرمائے گا۔ البتہ اگر غسل کرنے سے یہ بو ختم ہو جاتی ہو تو وہ اپنی استطاعت کے مطابق غسل کرے۔ اللہ تعالیٰ نے پانی گرم کرنے اور سردی سے بچنے کے اسباب بھی آسان فرما دیے ہیں، جیسے گرم پانی کا انتظام، سردی سے بچانے والے کپڑے پہننا، اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا وغیرہ انہیں حسبِ استطاعت اختیار کرے۔

فقہاء نے صراحت کی ہے کہ ناگوار بو کا پایا جانا جماعت چھوڑنے کا معتبر عذر ہے، بلکہ ایسے شخص کو مسجد میں داخل ہونے سے روکنا بھی جائز ہے، تاکہ وہ نمازیوں کو اذیت نہ دے۔

اس کی دلیل وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم (564) میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جس نے پیاز، لہسن یا سبز پیاز کھایا ہو، وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے؛ کیونکہ فرشتوں کو بھی اس چیز سے اذیت ہوتی ہے جس سے بنی آدم کو اذیت ہوتی ہے۔)

کتاب ’’مطالب أولي النهى‘‘ (1/699) میں ہے کہ:
’’پیاز، مولی، سبز پیاز یا ایسی ہی بد بو دار چیز کھانے والے کے لیے مسجد اور جماعت میں حاضر ہونا مکروہ ہے، یہاں تک کہ اس کی بو ختم ہو جائے۔ اسی حکم میں وہ شخص بھی ہے جس کے منہ یا بغل کی بد بو ناگوار ہو، اسی طرح وہ شخص ہے جو قصاب یا کسی اور بد بو دار پیشے والا شخص جس کے جسم سے ناگوار بو آتی ہو۔ اور اذیت سے بچانے کے لیے ایسے لوگوں کو (مسجد سے) نکال دینا مستحب ہے۔‘‘ ختم شد
اسی طرح ’’أسنى المطالب‘‘ (1/215) میں ہے:
’’مذکورہ باتوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس شخص کو مستقل منہ کی بد بو یا بغل کی شدید بد بو کا عارضہ لاحق ہو، وہ بدرجۂ اولیٰ معذور ہو گا۔‘‘ ختم شد
اسی مسئلے کے بارے میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ میرے والد عمر رسیدہ ہیں اور جمعہ کی نماز کے لیے نہیں جاتے، وہ کہتے ہیں کہ انہیں منہ کی بد بو اور ناگوار بو کی بیماری لاحق ہے، اور وہ نہیں چاہتے کہ اس بو سے لوگوں کو اذیت ہو، تو کیا ان کا یہ عمل درست ہے؟
تو آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا:
’’جی ہاں، یہ شرعی عذر ہے۔ اگر منہ کی بد بو شدید ہو اور اسے دور کرنے کی کوئی صورت میسر نہ ہو تو یہ معتبر عذر ہے، جیسے پیاز اور گندنا کھانا عذر شمار ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی دوا یا تدبیر ایسی مل جائے جو اس بو کو ختم کر دے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے اختیار کرے، تاکہ جمعہ اور جماعت کی نماز سے محروم نہ ہو۔ تاہم جب وہ اس سے عاجز ہو جائے اور کوئی صورت ممکن نہ رہے تو وہ معذور ہے، بلکہ اس کا عذر پیاز کھانے والے کے عذر سے بھی زیادہ قوی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ شدید بد بو ارد گرد کے لوگوں کے لیے اذیت کا باعث بنتی ہے۔‘‘
’’نور على الدرب‘‘ (کیسٹ نمبر 219، منٹ 11)۔

اور ہم اللہ تعالیٰ سے آپ کے لیے شفا اور کامل عافیت کے لیے دعا گو ہیں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

نماز با جماعت

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android