قالین اور موکٹ میں موجود سونے کی غیر معلوم مقدار کو بیچنا

سوال 106005

میرا سونے کے زیورات بنانے کا کارخانہ ہے، اور ہر سال میں وہاں موجود موکِٹ اور قالین فروخت کر دیتا ہوں، کیونکہ ان میں سونے کی کچھ مقدار موجود ہوتی ہے۔ میں یہ سامان کسی شخص کو ایک متعین قیمت پر فروخت کرتا ہوں جبکہ سونے کی مقدار معلوم نہیں ہوتی۔ کبھی خریدار کو نفع ہوتا ہے اور کبھی نقصان۔ کیا اس طرح کی بیع "بیعِ غبن" شمار ہو گی؟ اور کیا یہ شرعاً جائز ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:
سونا یا کوئی اور چیز اس وقت تک فروخت کرنا جائز نہیں جب تک اس کی مقدار اور وہ اوصاف جن سے قیمت میں فرق آتا ہے، معلوم نہ ہوں۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیعِ غرر سے منع فرمایا ہے)۔ (صحیح مسلم: 1513)

اور "بیعِ غرر" ہر وہ معاملہ ہے جس میں جہالت (یعنی غیر یقینی یا نامعلوم پہلو) پایا جائے۔

امام نووی رحمہ اللہ’’ شرح مسلم ‘‘  میں کہتے ہیں:
’’ بیعِ غرر سے ممانعت کا حکم تو کتاب البیوع کے عظیم اصولوں میں سے ایک اصل ہے، اور اس کے تحت بے شمار ایسے مسائل داخل ہوتے ہیں جن کی کوئی حد مقرر نہیں، جیسے معدوم چیز کی بیع، مجہول چیز کی بیع، ایسی چیز کی بیع جس کی حوالگی پر قدرت نہ ہو، اور ایسی چیز کی بیع جو ابھی فروخت کرنے والے کی ملکیت میں پوری طرح داخل نہ ہوئی ہو، اسی طرح کھلے اور وسیع پانی میں مچھلی کی بیع، تھن میں موجود دودھ کی بیع، پیٹ میں موجود بچے کی بیع، اور ان جیسے دیگر معاملات۔ یہ سب بیوع باطل ہیں، اس لیے کہ ان میں بلا ضرورت غرر پایا جاتا ہے۔

البتہ بعض صورتوں میں غرر کے باوجود بیع کی گنجائش ہو سکتی ہے، جب اس کی حاجت پیش آ جائے، جیسے مکان کی بنیاد کے بارے میں جہالت، اس لیے کہ بنیاد مکان کے ظاہر کے تابع ہوتی ہے، اور اس لیے بھی کہ حاجت اس کی متقاضی ہوتی ہے، کیونکہ بنیاد کو دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔

اسی طرح مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ بعض ایسی چیزیں جائز ہیں جن میں معمولی سا غرر پایا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے بھری ہوئی پوشاک  جیسے کہ جبہ وغیرہ کی بیع کے صحیح ہونے پر اجماع کیا ہے، اگرچہ اس کا بھرا ہوا حصہ دیکھا نہ گیا ہو، حالانکہ اگر اسی صورت میں یہ کہا جائے کہ جبے میں بھری ہوئی چیز فروخت کی جاتی ہے تو یہ جائز نہیں ہوگا۔ اور انہوں نے اس پر بھی اجماع کیا ہے کہ مکان، سواری، کپڑے اور ان جیسی چیزوں کو ایک ماہ کے لیے اجارے پر دینا جائز ہے، حالانکہ مہینہ کبھی تیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی انتیس دن کا۔ اور انہوں نے اس پر بھی اجماع کیا ہے کہ مشک یا سقاء سے معاوضے کے بدلے پانی پینا جائز ہے، باوجود اس کے کہ پینے کی مقدار مجہول ہوتی ہے اور پینے والوں کی عادتیں مختلف ہوتی ہیں۔

علمائے کرام کہتے ہیں کہ: غرر کی وجہ سے کسی معاملے کے باطل ہونے اور غرر کی موجودگی کے باوجود صحیح ہونے کا مدار اسی اصول پر ہے جسے ہم نے ذکر کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اگر غرر اختیار کرنے کی ضرورت پیش آ جائے، اور مشقت کے بغیر اس سے بچنا ممکن نہ ہو، اور غرر معمولی ہو، تو بیع جائز ہو گی، ورنہ نہیں۔ ‘‘ ختم شد مختصراً

چنانچہ معلوم ہوا کہ معمولی جہالت جس سے بچنا ممکن نہ ہو، قابلِ معافی ہے، لیکن بڑی جہالت (یعنی کثیر غرر) میں بیع صحیح نہیں۔

لہٰذا آپ کے ذکر کردہ معاملے میں چونکہ جہالت کی مقدار زیادہ ہے، اس لیے اس حالت میں بیع درست نہیں۔

آپ پر لازم ہے کہ سونے کی مقدار حتی الامکان متعین کرنے کی کوشش کریں، پھر اسی بنیاد پر بیع کریں۔ اگر اس کے باوجود تھوڑی بہت جہالت باقی رہ جائے جو معمولی ہو، اور خریدار نفع یا نقصان کی نیت سے یعنی جوا کی طرح داخل نہ ہو، تو امید ہے کہ اس میں آپ پر کوئی حرج نہیں ہو گا۔

اللہ تعالیٰ سب کو اپنی رضا کے کاموں کی توفیق دے۔
واللہ اعلم

حوالہ جات

حرام خرید و فروخت

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android