کھانے پینے میں اسراف کی مذمت کے بارے میں نبوی احادیث

سوال 102374

برائے مہربانی ان دو احادیث کی صحت کے بارے میں بتا دیں: عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’اس امت میں اپنے نبی کے بعد سب سے پہلی آزمائش پیٹ بھر کر کھانا ہے؛ کیونکہ جب لوگوں کے پیٹ بھر گئے تو ان کے جسم موٹے ہو گئے، دل کمزور ہو گئے اور خواہشات بے قابو ہو گئیں۔‘‘ یہ روایت بخاری نے بیان کی ہے۔

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں یہ بھی نصیحت فرمائی ہے کہ ہم ہر وہ چیز نہ کھائیں جس کی نفس خواہش کرے۔ چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اسراف میں سے یہ بھی ہے کہ انسان ہر وہ چیز کھائے جو اس کا دل چاہے۔ ‘‘ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

کیا شریعت میں کوئی ایسی چیز موجود ہے جو مسلمان کو کھانے میں اسراف سے روکتی ہو، یا اس بات سے منع کرتی ہو کہ انسان اپنے کھانے پر قابو نہ رکھ سکے اور ہر وقت کھاتا رہے؟ کوئی حدیث، آیت یا ایسی کتاب بتا دیں جس میں ان امور سے روکا گیا ہو، یا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے کھانے پینے کے طریقے اور آپ کی سنت کا ذکر ہو۔

اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

پیٹ کی خواہش (کھانے کی شہوت) ہلاکت کا باعث بننے والی بڑی چیزوں میں سے ہے، اور بہت سی جسمانی اور دل کی بیماریوں کی جڑ بھی یہی ہے۔ کیونکہ اس کے بعد شرمگاہ کی خواہش پیدا ہوتی ہے، پھر جسمانی اور قلبی دونوں خواہشات کو پورا کرنے کے لیے انسان میں مال اور عزت و شہرت کی طلب بڑھتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دل کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، جیسے ریاکاری، حسد، فخر، تکبر اور دنیا میں حد سے زیادہ مشغول ہو جانا۔ اور اکثر یہی چیزیں انسان کو برائی اور بے حیائی تک لے جاتی ہیں۔ یہ سب اسی ایک خواہش (پیٹ کی خواہش) کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسی لیے عربوں کا ایک پرانا مقولہ ہے: ’’معدہ بیماریوں کا گھر ہے، اور پرہیز علاج کی بنیاد ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
ترجمہ:’’اور کھاؤ اور پیو، مگر حد سے نہ بڑھو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (الأعراف: 31)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت میں بھی کھانے میں اعتدال کی بہت تاکید اور زیادہ کھانے کی مذمت آئی ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’آدمی نے اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ آدم کے بیٹے کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھ سکیں۔ اور اگر لازماً زیادہ کھانا ہی ہو تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے رکھے۔‘‘ اس حدیث کو ترمذی (2380)نے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے ’’ سلسلہ صحیحہ ‘‘(2265) میں صحیح قرار دیا ہے۔

اور نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک کسی مسکین کو لا کر اپنے ساتھ نہ بٹھا لیتے۔ ایک مرتبہ میں ایک ایسے شخص کو لے آیا جو ان کے ساتھ کھانے لگا اور اس نے بہت زیادہ کھایا۔ اس پر انہوں نے کہا: ’’اے نافع! آئندہ اسے میرے پاس نہ لانا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری: (5393) اور مسلم : (2060) نے روایت کیا ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث: (14/25)کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’علمائے کرام کہتے ہیں کہ اس حدیث کا مقصد دنیا سے کم تعلق رکھنا، دنیا سے بے رغبتی (زہد) اختیار کرنا اور قناعت کی ترغیب دینا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ کم کھانا انسان کے اچھے اخلاق میں شامل ہے، جبکہ زیادہ کھانا اس کے برعکس ہے۔ جہاں تک ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول کا تعلق ہے کہ ’’اس شخص کو میرے پاس نہ لانا‘‘، تو انہوں نے یہ اس لیے کہا کہ وہ آدمی اپنے عمل میں کافروں سے مشابہ ہو گیا تھا، اور جو شخص کافروں جیسا ہو جائے اس کے ساتھ بلا ضرورت میل جول ناپسند کیا جاتا ہے۔ نیز ایک آدمی جتنا زیادہ کھا رہا تھا، اسی مقدار سے کئی لوگوں کی ضرورت پوری ہو سکتی تھی۔‘‘ ختم شد

اس مسئلے سے متعلق ہماری ویب سائٹ پر دیگر احادیث بھی بیان کی جا چکی ہیں، اس کے لیے آپ سوال نمبر: (71173) کا جواب ملاحظہ کریں۔

دوم:

ابن قیم رحمہ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے کھانے پینے کے طریقے کا صحیح احادیث کی روشنی میں خلاصہ کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں، چنانچہ آپ رحمہ اللہ ’’زاد المعاد‘‘ (1/147) میں لکھتے ہیں:

’’کھانے کے معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جو چیز موجود ہوتی اسے رد نہیں فرماتے تھے، اور جو چیز موجود نہ ہوتی اس کے حصول کی تکلف بھی نہیں فرماتے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے جو بھی پاکیزہ چیز پیش کی جاتی آپ اسے تناول فرما لیتے، لیکن اگر طبیعت اسے پسند نہ کرتی تو اسے چھوڑ دیتے، تاہم اسے حرام قرار نہیں دیتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے کو برا نہیں کہا؛ اگر پسند آتا تو کھا لیتے، اور اگر پسند نہ آتا تو چھوڑ دیتے۔ جیسے سانڈا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے نہیں کھایا کہ آپ کو اس کی عادت نہیں تھی، مگر آپ نے اسے امت پر حرام بھی قرار نہیں دیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھائی اور شہد بھی تناول فرمایا اور آپ کو یہ دونوں چیزیں پسند تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کا گوشت، بھیڑ کا گوشت، مرغی، حبارى پرندے کا گوشت، نیل گائے کا گوشت، خرگوش اور سمندری جانوروں کا کھانا بھی تناول فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھنا ہوا گوشت بھی کھایا، اور تازہ کھجور اور خشک کھجور بھی تناول فرمائیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی پاکیزہ چیز کو رد نہیں فرماتے تھے اور نہ ہی اس کے حصول میں تکلف کرتے تھے، بلکہ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جو چیز میسر آ جاتی وہی کھا لیتے۔ اور اگر کچھ میسر نہ ہوتا تو صبر فرماتے، یہاں تک کہ کبھی بھوک کی شدت سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے۔ اور کبھی ایسا ہوتا کہ ایک کے بعد ایک تین چاند گزر جاتے مگر آپ کے گھر میں آگ نہ جلتی۔‘‘ مختصراً ختم شد

سوم:
علمائے کرام نے کھانے میں اعتدال اور اسراف سے بچنے کے بہت سے فوائد بیان کیے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

1۔ دل کی صفائی، ذہن کی تیزی اور بصیرت کی قوت پیدا ہوتی ہے؛ کیونکہ زیادہ کھانا سستی اور کند ذہنی پیدا کرتا ہے اور دل کو اندھا کر دیتا ہے۔ اسی لیے حکمت کی ایک بات مشہور ہے: ’’جو شخص اپنے پیٹ کو بھوکا رکھتا ہے اس کی فکر بلند اور اس کا دل زیادہ بیدار ہوتا ہے۔ ‘‘

2۔ انسان میں عاجزی اور انکساری پیدا ہوتی ہے، اور تکبر، غرور اور فخر ختم ہوتا ہے، یہی فخر سرکشی اور اللہ تعالیٰ سے غفلت کا سبب بنتا ہے۔

3۔ انسان اللہ کی آزمائش اور عذاب کو نہیں بھولتا اور مصیبت زدہ لوگوں کو بھی یاد رکھتا ہے؛ کیونکہ پیٹ بھر کر کھانے والا بھوکے کو اور بھوک کو بھول جاتا ہے، جبکہ سمجھدار بندہ جب دوسروں کی تکلیف دیکھتا ہے تو اسے آخرت کی سختیوں کی یاد آتی ہے۔

4۔ ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے گناہوں کی خواہشات ٹوٹ جاتی ہیں اور نفسِ امّارہ پر قابو حاصل ہوتا ہے؛ کیونکہ تمام گناہوں کی جڑ خواہشات اور نفسانی قوتیں ہیں، اور ان خواہشات کی غذا دراصل کھانا ہی ہوتا ہے۔ ذو النون نے کہا: ’’میں جب بھی پیٹ بھر کر کھاتا ہوں تو یا کسی گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہوں یا گناہ کا ارادہ کرنے لگتا ہوں۔‘‘

5۔ اس سے نیند کم آتی ہے اور بیداری زیادہ رہتی ہے؛ کیونکہ جو شخص زیادہ کھاتا ہے وہ زیادہ پیتا ہے، اور جو زیادہ پیتا ہے وہ زیادہ سوتا ہے۔ زیادہ سونا عمر کے ضائع ہونے، تہجد کے فوت ہونے، طبیعت کی سستی اور دل کی سختی کا سبب بنتا ہے۔ حالانکہ عمر سب سے قیمتی چیز ہے اور یہی بندے کا سرمایہ ہے جس سے وہ آخرت کی تجارت کرتا ہے۔ نیند ایک طرح کی موت ہے، اور اس کی کثرت عمر کو کم کر دیتی ہے۔

6۔ اس سے جسم کی صحت برقرار رہتی ہے اور بیماریوں سے بچاؤ ہوتا ہے؛ کیونکہ بیماریوں کا ایک بڑا سبب زیادہ کھانا اور معدے میں مختلف اخلاط کا جمع ہونا ہے۔ اسی لیے اطباء کہتے ہیں: ’’زیادہ کھانا بیماریوں کی جڑ ہے اور پرہیز علاج کی بنیاد ہے۔‘‘

یہ خلاصہ ’’إحياء علوم الدين‘‘ (3/104-109) سے لیا گیا ہے۔

چہارم:

سوال میں مذکور دونوں احادیث میں سے کوئی بھی صحیح ثابت نہیں۔

پہلی حدیث:

عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے وصال کے بعد اس امت میں سب سے پہلی آزمائش پیٹ بھر کر کھانا ظاہر ہوئی؛ کیونکہ جب لوگوں کے پیٹ بھر گئے تو ان کے جسم موٹے ہو گئے، ان کے دل سخت ہو گئے اور ان کی خواہشات بے قابو ہو گئیں۔‘‘ اس روایت کو امام بخاری نے ’’الضعفاء‘‘ میں ذکر کیا ہے، جیسا کہ امام ذہبی نے ’’ميزان الاعتدال‘‘ (3/335) میں اس کی نسبت امام بخاری کی طرف کی ہے۔ اسی طرح اسے ابن ابی الدنیا نے ’’الجوع‘‘ (حدیث نمبر 22) میں بھی روایت کیا ہے۔

یہ روایت غسان بن عبید الأزدی الموصلی کے طریق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے حمزہ بصری نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت نقل کی۔

میں کہتا ہوں: یہ سند بہت ہی ضعیف ہے، کیونکہ اس میں غسان بن عبید موجود ہے۔ اس کے حالات زندگی میں ’’لسان الميزان‘‘ (4/418) میں ذکر ہے:
’’امام احمد بن حنبل کہتے ہیں: ہم نے اس سے احادیث لکھیں، وہ ہمارے پاس یہاں آیا، پھر میں نے اس کی حدیث کو جلا دیا۔ ابن عدی کہتے ہیں: اس کی احادیث میں ضعف واضح ہے۔ — اور یحییٰ بن معین سے ایک روایت میں ہے — کہ وہ ضعیف ہے۔‘‘
پھر ابن عدی نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہی روایت اس کی منکر روایات میں شمار کی ہے۔

اسی وجہ سے شیخ البانی نے ’’ضعيف الترغيب‘‘ (1239) میں کہا ہے:
’’یہ منکر اور موقوف روایت ہے۔‘‘

تنبیہ:

سوال میں اس حدیث کی نسبت امام بخاری کی طرف کی گئی ہے، اور یہ بڑی غلطی ہے؛ کیونکہ جب یہ کہا جائے کہ ’’اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔‘‘ تو عام طور پر اس سے مراد ’’صحیح بخاری‘‘ ہوتی ہے۔ حالانکہ امام بخاری کی اس کے علاوہ بھی بہت سی کتابیں ہیں جن میں وہ اپنی سندوں کے ساتھ احادیث ذکر کرتے ہیں، مگر ان میں صحت کی شرط لازم نہیں ہوتی۔

ان کتابوں میں ’’الضعفاء الصغير‘‘ بھی شامل ہے جو مطبوع ہے۔ اسی طرح ان کی ایک کتاب ’’الضعفاء الكبير‘‘ بھی ہے، جس کا ذکر ابن الندیم اور بروکلمان نے ’’تاريخ الأدب‘‘ (ص 65) میں کیا ہے، اور بتایا ہے کہ وہ اب بھی ہندوستان کے شہر ’’پٹنہ‘‘ کی ایک لائبریری میں مخطوطہ کی صورت میں موجود ہے۔

لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ امام بخاری نے کسی حدیث کو اپنی کسی کتاب میں روایت کیا ہے جو ’’صحیح بخاری‘‘ کے علاوہ ہو —صحیح بخاری اسلام کی سب سے عظیم کتب حدیث میں سے ایک ہے — تو نسبت کرتے وقت یہ واضح کرنا چاہیے کہ اسے امام بخاری نے ’’التاريخ‘‘ میں روایت کیا ہے، یا ’’الضعفاء‘‘ میں، یا ’’الأدب المفرد‘‘وغیرہ میں ۔ پھر اس حدیث کی سند کی تحقیق کی جائے گی کہ آیا وہ صحیح ہے یا نہیں، جیسا کہ دیگر کتابوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا والی یہ روایت غالباً ’’الضعفاء الكبير‘‘ میں ہے، کیونکہ ہم نے اسے ’’الضعفاء الصغير‘‘ میں تلاش کیا مگر نہیں پایا۔ ویسے بھی ’’الضعفاء الصغير‘‘ میں عموماً احادیث اور ان کی سندیں کم ہی ذکر کی جاتی ہیں۔ واللہ اعلم

دوسری حدیث:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اسراف میں سے یہ بھی ہے کہ انسان ہر وہ چیز کھائے جو اس کا دل چاہے۔)

اس روایت کو ابن ماجہ (3352)، ابو یعلیٰ نے ’’المسند‘‘ (5/154) میں، ابو نعیم نے ’’الحلية‘‘ (10/213) میں اور بیہقی نے ’’شعب الإيمان‘‘ (5/46) میں روایت کیا ہے، اور دیگر محدثین نے بھی اسے بقیہ بن ولید کے طریق سے روایت کیا ہے، محدثین کہتے ہیں: ہم سے یوسف بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے نوح بن ذکوان سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً یہ روایت بیان کی۔

لیکن یہ سند بہت ہی ضعیف ہے، اس میں کئی علتیں ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

1۔ یوسف بن ابی کثیر: ابن حجر نے ’’تهذيب التهذيب‘‘ (11/421) میں اس کے بارے میں کہا ہے:
’’یہ بقیہ بن ولید کے ان شیوخ میں سے ہے جو معروف نہیں ہیں۔‘‘

2۔ نوح بن ذکوان: یہ منکر الحدیث ہے۔ اس کے ترجمہ میں ’’تهذيب التهذيب‘‘ (10/484) میں ذکر ہے:
’’ابن عدی کہتے ہیں: اس کی احادیث محفوظ نہیں ہیں۔ ابن حبان کہتے ہیں: یہ بہت زیادہ منکر الحدیث ہے، اس کی روایت سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ابو نعیم کہتے ہیں: اس نے حسن بصری سے مرسل روایات بیان کی ہیں، اور اس کے پاس حسن بصری کے واسطے سے انس رضی اللہ عنہ کا ایک صحیفہ ہے، مگر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔‘‘ مختصراً ختم شد

اسی وجہ سے بہت سے اہلِ علم نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، جن میں ابن حبان ’’المجروحين‘‘ (3/47)، ابن عدی ’’الكامل‘‘ (8/299)، ابن الجوزی ’’الموضوعات‘‘ (3/182)، بوصیری ’’مصباح الزجاجة‘‘ (2/188) اور سخاوی ’’المقاصد الحسنة‘‘ (515) شامل ہیں۔
اور شیخ البانی نے ’’السلسلة الضعيفة‘‘ (241) میں اسے موضوع اور من گھڑت قرار دیا ہے۔

اس سے پہلے ذکر کی گئی صحیح احادیث ان دونوں ضعیف احادیث سے بے نیاز کر دیتی ہیں۔ اور جو شخص اس موضوع کا مزید مطالعہ کرنا چاہے وہ ابن ابی الدنیا کی کتاب ’’الجوع‘‘، ابن قدامہ کی ’’مختصر منهاج القاصدين‘‘، ابن القیم کی ’’زاد المعاد‘‘ اور شیخ ابن عثیمین کی ’’شرح رياض الصالحين‘‘ کی طرف رجوع کرے۔

اسی طرح سوال نمبر (6503) کا جواب بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

صحیح احادیث
ضعیف احادیث
کھانے پینے کے آداب

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android