جمعہ 24 ذو القعدہ 1443 - 24 جون 2022
اردو

ہونٹوں کی جلد منہ میں لے کر نگل جانے والے شخص کے روزے کا حکم

سوال

میں نے گزشتہ رمضان میں روزے رکھے تو میں اپنے ہونٹ کو چباتی تھی، مجھے دل ہی دل میں خیال آتا تھا کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، لیکن شیطان نے مجھے اس مسئلے کے بارے میں تحقیق اور جستجو نہ کرنے دی، رمضان گزر جانے کے بعد میں اس مسئلے کو تلاش کیا تو مجھے علم ہوا کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ : کیا میں مکمل ماہ رمضان کے روزے رکھوں؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

روزے کی حالت میں اپنے ہونٹوں کی جلد کاٹنے والے پر لازم ہے کہ اسے تھوک دے؛ لیکن اگر وہ بھول کر نگل جائے، یا اسے احساس ہی نہ ہو ، یا اس کے لیے اس جلد کو تھوکنا ممکن نہ رہے، تو وہ لعاب کے ساتھ ہی اسے نگل جائے تو پھر اس کا روزہ صحیح ہے۔

لیکن اگر باہر پھینکنے کا امکان بھی تھا لیکن پھر بھی وہ عمداً نگل جاتا ہے تو اس کا روزہ کالعدم ہے۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ "المغنی" (3/126)میں کہتے ہیں:
"کوئی شخص صبح کے وقت محسوس کرے دانتوں کے درمیان کھانے کے ذرات ہیں، تو اب دو ہی صورتیں ہیں: پہلی صورت: اتنے معمولی کھانے کے ذرات ہوں کہ انہیں تھوکنا ممکن نہیں تو وہ انہیں نگل جاتا ہے، ایسی صورت میں اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا؛ کیونکہ اس سے بچنا ممکن ہی نہیں ہے، تو پھر اس کا حکم تھوک والا ہی ہے۔ اس کے بارے میں ابن المنذر کہتے ہیں: اہل علم کا اس پر اجماع ہے۔
دوسری صورت: یہ ہے کہ کھانے کے ذرات زیادہ ہوں اور انہیں تھوکنا ممکن ہو ، تو تھوک دینے کی صورت میں اس پر کچھ نہیں ہے، لیکن اگر عمداً نگل جاتا ہے تو اکثر اہل علم کے ہاں اس کا روزہ فاسد ہو گیا۔

تاہم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا؛ کیونکہ لازمی بات ہے کہ انسان کے دانتوں کے درمیان کچھ نہ کچھ چیز پھنسی رہ جائے۔ اور اس سے بچنا ممکن نہیں ہے اس لیے جس طرح تھوک سے بچنا ممکن نہیں اسی طرح اس سے بھی بچنا ممکن نہیں۔

ہماری دلیل یہ ہے کہ: اس شخص نے کھانے کے ایسے ذرات نگل لیے ہیں جنہیں باہر تھوکنے کا مکمل اختیار تھا، پھر اسے اپنے بارے میں یہ بھی پتہ تھا کہ وہ روزے سے ہے، اس لیے اس کا روزہ ٹوٹ گیا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے یہ کھانا کھا لیتا، اور لعاب کا معاملہ کھانے کے ذرات سے ہٹ کر ہے؛ کیونکہ ہر بار لعاب کو تھوکنا ممکن نہیں ہے" ختم شد

تو اگر آپ باہر پھینکنے کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی ہونٹ کی جلد کو نگل جاتی تھیں تو آپ کا روزہ صحیح نہیں ہے، اور آپ ان دنوں کی قضا دیں گی جن میں آپ نے یہ کام کیا تھا۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب