سوموار 13 شوال 1445 - 22 اپریل 2024
اردو

جمعہ کے دن گردنیں پھلانگنے سے مراد کیا ہے اور اس کا کیا حکم ہے؟

سوال

میرا سوال جمعہ کے دن مسجد میں گردنیں پھلانگنے سے متعلق ہے، مثلاً: اگر میں امام کے منبر پر آنے سے پہلے مسجد میں آ جاؤں تو کیا میرے لیے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے پہلی صفوں میں جانا جائز ہے؟ واضح رہے کہ درمیان میں کھلی جگہیں ہوتی ہیں جہاں سے گزر کر مسجد کے اگلے حصے میں پہنچنا ممکن ہوتا ہے، بسا اوقات جب میں جلدی مسجد میں چلا جاؤں تو کبھی کبھار 10 لوگ بھی مسجد میں نہیں ہوتے، جن میں سے کوئی مسجد کے درمیان میں بیٹھے ہوتے ہیں، تو کیا ان کو پیچھے چھوڑ کر مسجد کے اگلے حصے میں جانا میرے لیے جائز ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دوران جمعہ لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانے سے منع فرمایا ہے؛ کیونکہ اس سے بیٹھنے والوں کو اذیت ہو تی ہے۔

چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : "جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آیا، تو نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے فرمایا: (بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف دی ہے۔)" اس حدیث کو ابو داود: (1118) ، نسائی: (1399) نے روایت کیا ہے جبکہ ابن ماجہ: (1115) نے اسے روایت کرتے ہوئے یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے فرمایا: (اور تم تاخیر سے آئے ہو)، نیز البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح ابو داود میں صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث کے الفاظ: (اور تم تاخیر سے آئے ہو) کا مطلب یہ ہے کہ تم وقت پر نہیں آئے ہو [یعنی اگر تمہیں اگلی صفوں میں جگہ چاہیے تو جلدی آؤ۔ مترجم]

گردنیں پھلانگنے کا مطلب یہ ہے کہ: لوگوں کے درمیان میں سے گزرنے والا شخص اپنا پاؤں بیٹھے ہوئے لوگوں کے کندھوں سے بھی بلند کرے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"لوگوں کے درمیان سے پھلانگتے ہوئے انسان اپنے دونوں پاؤں لوگوں کے سر یا کندھوں سے بھی اونچا اٹھاتا ہے اور اس سے ممکن ہے کہ پاؤں میں لگی ہوئی کوئی چیز لوگوں کے کپڑوں کو لگ جائے۔" ختم شد
"فتح الباری" از: ابن حجر (2/ 392)

اسی طرح " نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج" (2/ 338) میں ہے کہ:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیث میں لوگوں کی گردنوں کا ذکر کیا ہے۔ تو یہاں گردنوں کے تذکرے سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ پھلانگنے سے مراد یہ ہے کہ انسان لوگوں کے درمیان میں سے گزرتے ہوئے اپنا پاؤں اتنا اونچا کرے کہ بیٹھے ہوئے شخص کے کندھے کے برابر ہو جائے۔
اس بنا پر: اگر کوئی شخص لوگوں کے درمیان میں سے گزرتے ہوئے پہلی صف کی جانب پہنچنا چاہتا ہے تو یہ لوگوں کے درمیان سے پھلانگنے میں نہیں آتا، بلکہ اگر صف میں سے گزرنے کی جگہ نہ ہو تو صف چیر کر آگے جانے کے زمرے میں آتا ہے۔" ختم شد

جبکہ بیٹھے ہوئے لوگوں کے درمیان اگر خالی جگہ یا گزرنے کی جگہ موجود ہو وہاں سے گزر کر جانا ممنوع نہیں ہے۔

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جب دو بیٹھے ہوئے افراد کے درمیان خالی جگہ ہو کہ وہاں سے گزرتے ہوئے پاؤں اٹھا کر پھلانگنے کی ضرورت نہ پڑے تو لوگوں کے درمیان میں سے گزرنا جائز ہے، اور اگر بیٹھے ہوئے لوگوں کے گھٹنے آپس میں ملے ہوئے ہیں کہ درمیان میں ان کے گھٹنوں سے اوپر پاؤں اٹھائے گزرنا ممکن نہ ہو تو یہ مکروہ ہے، اور اگر دو افراد نماز پڑھ رہے تھے اور گزرنے والا ان کے درمیان میں سے کسی کو بھی دھکا دئیے بغیر گزر جاتا ہے، اذیت نہیں پہنچاتا، نہ ہی کسی کو دھکیلتا ہے تو جائز ہے، وگرنہ جائز نہیں ہے۔" ختم شد
"فتح الباری" از ابن رجب (8/ 206)

تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ سوال میں مذکور کیفیت لوگوں کی گردنیں پھلانگنے میں نہیں آتی، اور نہ ہی یہ کیفیت منع ہے؛ کیونکہ اگر بیٹھے ہوئے لوگوں کے درمیان اتنی جگہ ہو کہ گزرنے والا گزر جائے تو یہ پھلانگنے کے زمرے میں نہیں آتا۔

گردنیں پھلانگنے کا معاملہ تب ہو گا جب بیٹھے ہوئے لوگوں کے درمیان جگہ اتنی تھوڑی ہو دونوں کے درمیان سے گزرنا ممکن نہ ہو، اور گزرنے کے لیے اپنا پاؤں اتنا اوپر اٹھائے کہ بیٹھے ہوئے لوگوں کے کندھوں سے اونچا ہو جائے۔

دوم:
گردنیں پھلانگنے کے معاملے میں امام کو استثنا حاصل ہو گا کہ اگر منبر یا محراب تک جانے کے لیے گردنیں پھلانگ کر ہی جایا جا سکتا ہو تو امام کے لیے گنجائش ہے۔

جیسے کہ علامہ مرداوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر گزرنے والا امام ہے تو اس کے لیے ضرورت پڑنے پر گردنیں پھلانگ کر جانا بھی مکروہ نہیں ہے، یہی [حنبلی ]فقہی موقف ، اور یہی مجد [ابن تیمیہ] کی تاکیدی رائے ہے۔" ختم شد
"الإنصاف" (6/288)

نیز بعض اہل علم نے اس صورت کو بھی مستثنی رکھا ہے کہ اگر بیٹھے ہوئے لوگوں کے سامنے خالی جگہ موجود ہو تو بعد میں آنے والا شخص ان کی گردنوں کو پھلانگ کر خالی جگہ تک پہنچ سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے بعض نے یہ شرط عائد کی ہے کہ اس کی اجازت امام کے منبر پر آنے سے پہلے تک ہے، بعد میں ایسا کرنے سے خطبہ متوجہ ہو کر سننے میں رکاوٹ پیدا ہو گی۔
دیکھیں: "المدونة" (1/239) ، "أسنى المطالب" (1/268) ، "شرح المنتهى" (1/321)

اگرچہ اس صورت میں بھی محتاط یہی ہے کہ حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس حالت میں گردنیں نہ پھلانگی جائیں۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ "الشرح الممتع" (5/96) میں کہتے ہیں:
"اگر پہلی صفوں میں خالی جگہ موجود ہو تو گردنیں پھلانگ کر خالی جگہ تک پہنچنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ: حدیث تو عام ہے کہ: (بیٹھ جاؤ، تم نے تکلیف دی ہے) نیز یہ بھی کہ حدیث میں مذکور شخص کی کیفیت بتلا رہی ہے کہ وہ شخص بھی خالی جگہ دیکھ کر ہی لوگوں کی گردنیں پھلانگ رہا تھا، کیونکہ ایسا نہیں ہوتا کہ جگہ بھی نہ ہو اور انسان گردنیں بھی پھلانگتا جائے!

تاہم فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اس مسئلے کو مستثنی قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ: چونکہ آگے خالی جگہ موجود ہے تو یہ بیٹھنے والوں کی غلطی ہے کہ انہوں نے خالی جگہ کیوں چھوڑی ہے؟ اس لیے کہ مسجد میں آنے والوں کو یہی تعلیمات دی گئی ہیں کہ پہلے اگلی صفیں مکمل کریں، تو اگر پہلی صفوں میں جگہ خالی ہے تو انہوں نے تعلیمات کی مخالفت خود ہی کی ہے، چنانچہ یہاں کوتاہی خالی جگہ سے پیچھے بیٹھنے والوں سے ہوئی ہے نہ کہ گردنیں پھلانگنے والے سے ۔

لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ: اگر پہلی صفوں میں جگہ ہو بھی سہی تو گردنیں مت پھلانگے؛ کیونکہ اذیت کی شکل میں ممانعت کی علت موجود ہے ، اور رہی یہ بات کہ سامنے خالی جگہ موجود ہے تو اس کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں، مثلاً: پہلے جگہ زیادہ نہیں تھی لیکن نمازی تھوڑے سے سمٹ گئے تو جگہ زیادہ ہو گئی، تو ایسی صورت میں پیچھے بیٹھنے والوں کی کوئی کوتاہی نہیں ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ حدیث کے عموم پر عمل کرتے ہوئے خالی جگہ پر جانے کے لیے گردنیں نہ پھلانگے، ہاں اگر اچھے سلیقے سے گزرے، بیٹھے ہوئے لوگوں کی اجازت سے آگے خالی جگہ کی جانب بڑھے تو امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔" ختم شد
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (41731 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب