بدھ 13 ذو الحجہ 1445 - 19 جون 2024
اردو

نجاست زائل کرنے کے متعلق سوالات

سوال

نجاست دھونے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ درج ذیل امور کی وضاحت فرما دیں: 1-اگر کوئی ہموار اور ٹھوس جگہ ہو یعنی ایسی جگہ جس میں مسام نہ ہوں تو اسے کیسے پاک کیا جائے گا؟ اور مسام والی جگہ کو کیسے پاک کریں گے؟ میں نے سنا ہے کہ بغیر مسام کے جگہ کو صاف کرنے کے لیے پانی کی ضرورت نہیں ہے، اسی طرح یہ بھی بتلائیں کہ کتنی مرتبہ جگہ کو دھونا چاہیے؟ 2- فوم کے گدے، تکیے اور دیگر موٹی تہہ والی چیزوں کو کس طرح پاک صاف رکھ سکتے ہیں؟ 3- پیشاب سے پاک کرنے کے لیے کپڑے کو کتنی بار دھونا ہو گا؟ یا غیر مرئی نجاست کو زائل کرنے کے لیے کتنی بار دھونا لازم ہوتا ہے؟ نیز یہ بھی بتلائیں کہ انہیں نچوڑنا لازم ہوتا ہے یا پھر کھلے پانی میں انہیں دھو لیں؟ 4-میں نے سنا ہے کہ کپڑوں کو ایسے برتن میں ڈبونا لازمی ہے جس میں پانی کی مقدار پیشاب کی مقدار سے تین گنا ہو، یعنی ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اگر پیشاب 100 ملی لیٹر ہے تو ہم اس پر 300 ملی لیٹر پانی بہا دیں، اور ہمیں اسے نچوڑنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یا ہم یوں کہیں کہ جب ہم پانی سے بھرے ہوئے باتھنگ ٹب میں کپڑے ڈبو دیں تو نجاست پانی پر بالکل بھی اثر انداز نہیں ہو گی؟ تو کیا یہ بات صحیح ہے؟ اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر غیر مرئی نجاست کے بارے میں کیا حکم ہو گا جسے ہم دیکھ ہی نہیں سکتے؟5- کیا نجاست سے کپڑوں کو پاک کرنے کے لیے واشنگ مشین کا استعمال صحیح ہے کہ واشنگ مشین سے دھلنے کے بعد کپڑوں پر نجاست کے اثرات نہیں ملتے۔ 6-میرا ایک اور سوال بھی ہے کہ کیا صابن وغیرہ صفائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ کس کس صابن میں جانوروں کی چربی وغیرہ استعمال کی گئی ہے اور کون سے صابن میں حرام جانور کی چربی استعمال ہوئی ہے، تو اگر صابن میں ناپاک اور حرام چربی استعمال کی گئی ہو تو اس سے میرے سارے کپڑے نجس ہو جائیں گے؟ یا یہ کہ ہر قسم کا صابن استعمال کرنا جائز ہے؛ کہ اس میں جانور کی چربی اپنی صفات اور خوبیاں کھو چکی ہے؟ مجھے ڈھیر سارے سوالات یک بارگی کرنے پر عجیب سا لگ رہا ہے، لیکن میں نے اپنے ان سوالات کا جواب ہر جگہ تلاش کیا ہے لیکن مجھے ان کا جواب نہیں ملا۔ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

راجح موقف کے مطابق ٹھوس اور پالش کی ہوئی چیزوں کو نجاست صاف کر کے پاک کیا جا سکتا ہے ، یہ موقف امام مالک اور ابو حنیفہ رحمہما اللہ کا ہے؛ کہ اصل اعتبار نجاست کو زائل کرنے کا ہوتا ہے۔

چنانچہ کاسانی رحمہ اللہ "بدائع الصنائع" (1/85) میں کہتے ہیں:

"اگر نجاست کسی ایسی ٹھوس جگہ پر لگ جاتی ہے جس پر پالش بھی کی گئی ہے، مثلاً: تلوار، شیشہ وغیرہ تو ایسی چیز سے نجاست کھرچنا ہی پاکیزگی کا باعث ہے۔ چاہے نجاست تر ہو یا خشک؛ کیونکہ نجاست کے ذرات اس ٹھوس چیز میں سرائیت نہیں کر سکتے، اس لیے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ مسح کرنے اور کسی بھی چیز سے کھرچ دینے سے جگہ پاک صاف ہو جائے گی۔" ختم شد

اسی طرح علامہ دسوقی مالکی فقیہ اپنے شرح الکبیر پر حاشیہ: (1/ 77) میں کہتے ہیں:
"خلاصہ یہ ہے کہ: کوئی بھی چیز جو ٹھوس اور پالش کی ہوئی ہو اور دھونے کی وجہ سے اس کے خراب ہونے کا خدشہ ہو ، جیسے کہ تلوار وغیرہ تو پھر اسے لگے ہوئے مباح دم کو دھونے کی ضرورت نہیں ہے چاہے خون بہت زیادہ ہی کیوں نہ ہو اس لیے کہ پانی لگنے سے تلوار کے خراب ہونے کا خدشہ ہے۔" ختم شد

علامہ نووی رحمہ اللہ المجموع (2/ 599) میں کہتے ہیں:
"اگر نجاست کسی پالش شدہ چیز کو لگ جائے مثلاً: تلوار، چھری، اور شیشہ وغیرہ تو پھر صرف نجاست صاف کرنے سے پاک نہیں ہو گی بلکہ اسے دھونا لازم ہو گا، جیسے دیگر چیزوں کو دھونا لازم ہوتا ہے، یہی موقف امام احمد اور داود کا ہے، جبکہ امام مالک اور ابو حنیفہ رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ صرف صاف کرنے سے پاک ہو جائے گی۔" ختم شد

الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"شیشہ اور تلوار وغیرہ کو لگی ہوئی نجاست صاف کرنے اور کھرچنے سے زائل ہو جائے گی؛ کیونکہ ایسی چیزیں نجاست کو اپنے اندر جذب نہیں کرتیں، تو صحیح موقف یہی ہے کہ ایسی چیزوں کو لگی نجاست صاف کرنے سے پاک ہو جائے گی۔

چنانچہ اگر شیشے پر نجاست لگ جائے اور آپ اسے اچھی طرح ایسے صاف کر دیں کہ اس پر کسی قسم کے اثرات باقی نہ رہیں تو شیشہ صاف ہونے پر پاک ہو جائے گا۔" ختم شد
"الشرح الممتع" (1/426)

دوم:
اگر نجاست تکیے، گدے، اور بڑے قالین وغیرہ کو لگ جائے تو اس کی طہارت کا طریقہ یہ ہو گا کہ نجاست لگی ہوئی جگہ پر اتنا پانی بہایا جائے کہ نجاست سے زیادہ پانی ہو جائے پھر پانی کو اسفنج وغیرہ کے ذریعے خشک کیا جائے یا کسی مشین سے پانی کھینچ لیا جائے، تو ایسے کرنے سے اگر نجاست زائل ہو جائے اور نجاست کے اثرات بھی باقی نہ رہیں تو ٹھیک ہے، اور اگر اثرات ابھی باقی ہوں تو پھر دوسری، اور تیسری بار بھی دھو سکتے ہیں، تا آں کہ نجاست کے زائل ہونے کا غالب گمان ہونے لگے، تو ایسی کوئی حد بندی نہیں ہے کہ پانی کو نجاست سے تین گنا زیادہ کر دیا جائے ، بلکہ اصل یہ ہے کہ نجاست کے اثرات باقی نہ رہیں، چنانچہ اگر پانی بہانے سے نجاست باقی نہ رہے تو اسے نچوڑنا یا ملنا ضروری نہیں ہے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (213577 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

سوم:
نجاست کو دھونے کے لیے شریعت میں کسی مخصوص تعداد کا خیال نہیں رکھا گیا، صرف کتے کی نجاست میں تعداد بیان کی گئی ہے کہ اسے سات بار دھویا جاتا ہے اور پہلی بار مٹی سے دھوتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ نجاستوں کو دھونے کے لیے کسی بھی مخصوص عدد کی ضرورت نہیں ہے، وہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ نجاست زائل ہو جائے چاہے ایک بار دھونے سے زائل ہو۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (163825 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

چہارم:
جس پانی کے ذریعے نجاست زائل کی جائے گی اس کی مقدار زیادہ ہونی چاہیے کہ نجاست کی رنگت یا بو وغیرہ باقی نہ رہے، اس کے لیے پانی کی مقدار مقرر کرنا درست نہیں ہے۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ "المغنی" (1/75)میں کتے اور خنزیر کی نجاست زائل کرنے کے بارے میں کہتے ہیں:
"کیا کسی خاص تعداد میں اسے دھونا لازم ہے؟ اس حوالے سے امام احمد سے دو روایات منقول ہیں: پہلی یہ ہے کہ مخصوص تعداد میں دھونا لازم ہے، یعنی کتے کی نجاست پر قیاس کرتے ہوئے ۔ دوسری روایت یہ ہے کہ مخصوص تعداد میں دھونا لازم نہیں ہے، بلکہ کافی سارا پانی مخصوص تعداد کے بغیر ڈالا جائے تا آں کہ نجاست زائل ہو جائے۔ یہی موقف امام شافعی کا ہے۔" ختم شد

تلاش بسیار کے بعد بھی ہمیں کسی اہل علم کا یہ قول نہیں ملا کہ انہوں نے نجاست زائل کرنے کے لیے پانی کی مقدار نجاست سے تین گناہ زیادہ بتلائی ہو، بلکہ محسوس ہوتا ہے کہ اتنی مقدار میں پانی نجاست زائل کرنے کے لیے نا کافی ہو گا، اور اتنی تھوڑی مقدار پانی میں نجاست کے اثرات غالب رہیں گے اور پانی کے اوصاف بدل جائیں گے۔

ہمیں یہ بات ملی ہے کہ: بعض علمائے کرام کہتے ہیں کہ زمین کو نجاست سے پاک کرنے کے لیے پانی کی مقدار کا نجاست سے 7 گناہ زیادہ ہونا ضروری ہے۔

تو یہ موقف پھر بھی سابقہ موقف سے قدرے بہتر لگتا ہے، اگرچہ یہ بھی قابل اعتبار نہیں ہے، کیونکہ ہمیں اس کی تائید میں بھی کوئی دلیل نہیں ملی۔

علامہ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"زمین سے جذب ہو جانے والی نجاست کو زائل کرنے کے لیے وافر مقدار میں پانی لازم ہے، اتنا پانی ہونا چاہیے کہ نجاست اپنا وجود پانی میں کھو دے۔۔۔
اسی حوالے سے ایک بات ہے کہ: پیشاب پر بہایا گیا پانی پیشاب سے سات گناہ زیادہ ہونا چاہیے۔۔۔ لیکن یہ موقف کمزور ہے، صحیح موقف پہلا موقف ہے۔" ختم شد
"المجموع" (2/611)

اس لیے معتبر موقف یہ ہے کہ پانی اتنا زیادہ ہو کہ جس سے نجاست زائل ہو جائے ، چنانچہ پانی کی مقدار مقرر کرنا صحیح نہیں ہے۔

پنجم:

اہل علم کے اقوال میں سے راجح موقف یہ ہے کہ جب نجاست پانی میں گر جائے تو پانی اس وقت تک نجس نہیں ہو گا جب تک پانی میں تبدیلی نہ آ جائے، یعنی پانی کی رنگت اور بو تبدیل نہ ہو جائے۔

یہی موقف مالکی فقہائے کرام اور امام احمد سے ایک روایت اسی کے مطابق منقول ہے، اسی کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ابن قیم رحمہ اللہ نے راجح قرار دیا ہے، یہی موقف معاصر فقہائے کرام میں سے ابن باز، اور ابن عثیمین سمیت دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام نے بھی اپنایا ہے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (224923 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔
اس لیے اگر آپ نجس کپڑوں کو باتھنگ ٹب میں ڈال دیتی ہیں اور اس میں موجود پانی کا کوئی بھی وصف تبدیل نہیں ہوتا تو پانی اپنی طہارت پر باقی ہے، نجس نہیں ہو گا، لیکن اگر پانی کی رنگت اور بو نجاست کی وجہ سے تبدیل ہو جائے تو پھر پانی نجس ہو گا۔

لیکن بہ ہر حال براہ راست کپڑوں کو باتھنگ ٹب میں نہ ڈالا جائے بلکہ الگ سے نجاست والی جگہ اچھی طرح دھوئی جائے، پھر اس پر کافی مقدار میں پانی بہایا جائے تا کہ کسی قسم کا شائبہ تک باقی نہ رہے، اور اہل علم کے اختلافی موقف سے بھی بچ جائیں۔

ششم:

اگر نجس کپڑے کو واشنگ مشین میں دھویا گیا اور نجاست کے اثرات اس سے زائل ہو گئے تو کپڑا پاک ہو گیا ہے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (163825 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

ہفتم:

صفائی کے لیے استعمال ہونے والے صابن وغیرہ کے بارے میں یہ ہے کہ اگر صابن جانوروں کی چربی سے بنایا گیا ہے تو اس میں کچھ تفصیل ہے:

چنانچہ اگر یہ چربی وغیرہ نجس جانوروں کی ہے، لیکن صنعتی مراحل سے گزرنے کے بعد چربی اپنی اصلی حالت میں باقی نہیں رہی بلکہ اس کے اصل ماخذ والی خوبیاں اور صفات تبدیل ہو چکی ہیں تو پھر اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

لیکن اگر اصل خوبیاں اور صفات مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوئیں، بلکہ ابھی بھی اصل نجس جانور والے خصائص وغیرہ باقی ہیں تو پھر ایسے صابن کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں نجس چیز پائی جا رہی ہے۔

اب چونکہ ہمیں صابن وغیرہ میں نجاست کے پائے جانے کا علم نہیں ہے تو ایسی مصنوعات کے متعلق ان کا اصل حکم برقرار رہے گا کہ وہ حلال اور پاک ہیں، لہذا تکلف کرتے ہوئے وسوسوں اور شکوک و شبہات کا دروازہ کھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اور عام طور پر ایسی چربی جو کسی مردار وغیرہ سے حاصل کی گئی ہو کہ جسے استعمال کرنا حلال نہ ہو تو ایسی چربی اپنی اصلی حالت کھو چکی ہوتی ہے، اور کسی اور مادے میں تبدیل ہو چکی ہوتی ہے۔ اس لیے ہم ایسی چیزوں کو بلا تامل استعمال کرتے ہیں۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (97541 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب