ہفتہ 3 ذو الحجہ 1443 - 2 جولائی 2022
اردو

ایک لڑکی سماجی فوبیا میں مبتلا ہے، کیا کرے؟

سوال

میں اس وقت ذہنی بیماری اور سماجی خوف میں مبتلا ہوں، جس سال مجھے ذہنی بیماری لاحق ہوئی اسی سال مجھے انتہائی شدید دماغی تناؤ کا سامنا تھا، میں ایک یورپی ملک میں رہائش پذیر ہوں، یہاں پر سماجی فوبیا کا علاج ادویات اور سلوکیات کے ذریعے کیا جا رہا ہے، سلوکیات کے ذریعے علاج کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اسی طرح نفسیاتی امراض کے لیے دوا استعمال کرنے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا یہ ٹھیک ہو گا کہ میں دوا استعمال کیے بغیر قرآن کریم کے ذریعے علاج کرواؤں، یا پھر میرے لیے یہ لازمی ہے کہ دوا کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے ذریعے بھی علاج جاری رکھوں؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ نفسیاتی امراض کے مختلف درجے ہوتے ہیں، کچھ معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں جن کا علاج کسی دوا کے بغیر سلوکیات اور رہنمائی کے ذریعے ممکن ہے، لیکن کچھ امراض شدید نوعیت کے ہوتے ہیں جن میں دوا کی ضرورت ہوتی ہے جیسے کہ "Schizophrenia" شقاق دماغی کی صورت میں ہوتا ہے۔

ایسی صورت میں کسی ماہر امراض نفسیات سے رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے؛ کیونکہ امراض نفسیات کے ماہرین اس بارے میں زیادہ جانتے ہیں کہ ایسی صورت میں مریض کو اعتدال اور معمول کی زندگی کی طرف لانے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے اور مریض ذہنی تناؤ اور پیچیدگی سے کس طرح باہر آئے، ایسے میں ممکن ہے کہ کچھ ادویات بھی آپ کے لیے مفید ثابت ہوں، لہذا ماہر امراض نفسیات سے رجوع کرنے میں تذبذب کا شکار مت ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ذہن میں آنے والے وسوسوں اور وہموں کا علاج قبل از وقت نہ ہو تو ان کی وجہ سے کافی نقصان اٹھانا پڑ جاتا ہے۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ جدید سائنسی تحقیقات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ سماجی فوبیا کی صورت میں ماہر امراض نفسیات سے بات چیت اور گفتگو کا اثر خالی ادویات سے زیادہ اور اہم ہوتا ہے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ درج ذیل ربط ملاحظہ فرمائیں:
( http://bit.ly/2YJAgwI)

جبکہ شدید نوعیت کے نفسیاتی مسائل آخری مراحل کی طرف جا رہے ہوں تو پھر سلوکیات اور ادویات دونوں کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن یہ سب کچھ ماہر امراض نفسیات کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر : (90819 ) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

دوم:
اللہ تعالی نے قرآن کریم میں انسانی نفسیات پر بہت زیادہ تاثیر رکھی ہے، چنانچہ قرآن کریم تہذیب نفس اور اصلاح کا کام کرتا ہے، اسی طرح انسانی نفسیات کا علاج بھی کرتا ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ
ترجمہ: کہہ دیجیے یہ قرآن ایمان لانے والوں کے ہدایت اور شفا ہے۔ [فصلت: 44]

اسی طرح فرمایا:

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ 
ترجمہ: اور ہم اہل ایمان کے لیے رحمت اور شفا کا باعث قرآن نازل کرتے ہیں۔ [الإسراء :82]  
پھر قرآن کریم میں سے سورت البقرہ کو خاص مقام حاصل ہے؛ کیونکہ اس سے شیطان بھاگتا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سورت البقرہ کی تلاوت خصوصی اہتمام کے ساتھ کریں، اور مسلمانوں کے تحفظ کے لیے کتاب و سنت میں آنے والے اذکار کا اہتمام کریں۔

نیز اگر معالج کی جانب سے کچھ ادویات بھی تجویز کی جاتی ہیں تو انہیں استعمال کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، جیسے کہ پہلے بھی اس بات کی طرف اشارہ گزر چکا ہے، اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے ذریعے بھی علاج جاری رکھیں؛ کیونکہ دونوں ہی مفید ہیں۔

ہم آپ کو آخر میں یہ بھی کہیں گے کہ:
ضروری ہے کہ آپ اپنی زندگی کو مثبت اور روشن نگاہ سے دیکھیں، اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھیں، اللہ تعالی کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنائیں، کثرت اور الحاح کے ساتھ اللہ تعالی سے دعائیں مانگیں کہ اللہ تعالی آپ کی تکلیف کو دور کر دے، اللہ تعالی کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا، اللہ تعالی پر بھر پور انداز سے اعتماد کریں، اور یقین رکھیں کہ اللہ تعالی آپ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا، اور اللہ تعالی اپنے بندے کے ساتھ وہی معاملہ فرماتا ہے جیسا بندہ اللہ تعالی کے بارے میں گمان رکھتا ہے۔ ان وسوسوں کے پیچھے مت لگیں؛ کیونکہ ذہنی مسائل سے چھٹکارا پانے کا یہ بہت ہی اہم اور بڑا ذریعہ ہے۔

اللہ تعالی آپ کو کامیاب کرے، اور آپ کو کامل شفا کے ساتھ مکمل عافیت بھی نوازے۔
اللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب