منگل 2 ربیع الاول 1444 - 27 ستمبر 2022
اردو

ایک لڑکی اپنے والد کی وفات پر بہت افسردہ ہے، تو کیا یہ صبر کے منافی ہے؟

سوال

میرے والد تین ماہ قبل فوت ہو چکے ہیں -اللہ تعالی ان پر رحم فرمائے- مجھے ان کی عدم موجودگی کا بہت زیادہ احساس ہوتا ہے اور اس وجہ سے مجھے اپنی طبیعت میں اتار چڑھاؤ بھی دیکھنا پڑتا ہے، مجھے بسا اوقات دکھ کی وجہ سے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے والد صاحب کل ہی فوت ہوئے ہیں، کبھی مجھے زندگی اچھی نہیں لگتی، لیکن کبھی ایسے بھی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔۔۔ میں نے کچھ دینی علم بھی حاصل کیا ہوا ہے، میں نے متعدد دینی کتب بھی پڑھی ہیں، دینی خطابات اور لیکچرز میں عام طور پر سنتی رہتی ہوں، اور مجھے صبر کے مفہوم اور ثواب کا بھی علم ہے۔ میں اپنے والد صاحب کے لیے بہت زیادہ دعائیں کرتی ہوں، میں سونے سے پہلے اور عام طور پر اپنے دل ہی دل میں کثرت سے یہ کہتی ہوں کہ: یا اللہ! میں تیرے فیصلوں پر راضی ہوں، تو ہی دینے والا ہے اور تو ہی روکنے والا ہے، فیصلے تیرے ہی ہیں، میرے وہ گناہ بھی معاف فرما دے جو مجھے معلوم ہیں، یا مجھے معلوم نہیں۔ لیکن اس کے باوجود مجھے اپنے بارے میں پریشانی لاحق ہے، مجھے لگتا ہے کہ میں منافق ہو گئی ہوں؛ کیونکہ اگر میں سچی مسلمان ہوتی تو پھر اس تکلیف پر اتنی زیادہ تنگی محسوس نہ کرتی ۔۔۔ میرا سوال یہ ہے کہ جو کچھ میری کیفیت کے بارے میں بیان ہوا ہے کیا یہ صبر کے منافی ہے؟ اگر منافی ہے تو مجھے صبر کیسے مل سکتا ہے؟ میں نے اللہ تعالی کے اسم گرامی "السلام" پر غور و فکر کیا اور پھر ان آیات پر بھی غور و فکر کیا جن میں اللہ تعالی کا یہ اسم گرام آیا ہے، تو پھر میں نے اپنے والد کے لیے درج ذیل الفاظ میں دعا کرنا شروع کر دی: " اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت وتعاليت يا ذا الجلال والاكرام أسألك أن تسلم أبي في قبره وتسلمه يوم يبعث حيا " تو کیا میری دعا کے یہ خود ساختہ الفاظ درست ہیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

دنیا میں کوئی بھی دنیاوی مصیبتوں سے نہیں بچ سکتا، کبھی انسان ذاتی طور پر تکلیفوں میں گھر جاتا ہے، تو کبھی اہل خانہ پر مصیبت آ جاتی ہے، اور کبھی دوستوں میں یا کبھی مال و دولت وغیرہ تکالیف میں گھر جاتے ہیں۔

ایسے حالات میں مومن کی شان یہ ہے کہ جب بھی اسے کوئی تکلیف پہنچے تو صبر کرے، اور جب انسان اللہ تعالی کے فیصلوں کے بارے میں رضامندی کے درجے تک پہنچ جائے تو وہی شخص کامل، افضل اور بہت زیادہ ثواب کا مستحق ہے، ہم پہلے سوال نمبر: (219462) کے جواب میں صبر اور رضا کے درمیان فرق بیان کر چکے ہیں۔

بسا اوقات آپ کے خیالات میں جو منفی چیزیں آتی ہیں جب تک یہ خیالات ہی ہیں، ان خیالات کے شریعت سے متصادم اثرات زبان یا افعال پر رونما نہیں ہوتے تو یہ صبر کے منافی نہیں ہے، یعنی انسان نوحہ کرنے لگے یا اپنے کپڑے پھاڑنے لگے یا اسی طرح کی کوئی اور غیر شرعی حرکت کرے۔

انتہائی شدید نوعیت کا غم انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا، بالخصوص اگر فوت ہونے والا شخص انسان کو عزیز بھی ہو، جیسے کہ آپ نے اپنے سوال میں ذکر کیا ہے۔

تاہم ایسی حالت میں مسلمان سے مطلوب یہ ہے کہ غم کے زیر اثر زیادہ نہ آئے تا کہ اس کی عبادات اور زندگی پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں، اس کے لیے آپ تنہائی میں مت بیٹھیں، اس غم اور تکلیف کے بارے میں زیادہ نہ سوچیں، اپنے آپ کو مفید سرگرمیوں میں مصروف رکھیں، شیطان کی طرف سے بھڑکائے جانے والے ان غموں کی اسیر نہ بنیں کیونکہ شیطان تو چاہتا ہے کہ مسلمان غموں اور دکھوں میں گھرا رہے؛ اس لیے کہ شیطان مسلمان کو پریشان کر کے بہت خوش ہوتا ہے، جیسے کہ فرمان باری تعالی ہے:
 إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آَمَنُوا وَلَيْسَ بِضَارِّهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
 ترجمہ: یقیناً سرگوشی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے تا کہ ایمان والے غمگین ہوں، حالانکہ وہ اہل ایمان کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، تا آنکہ اللہ تعالی کا حکم ہو، اس لیے اہل ایمان کو اللہ تعالی پر ہی توکل کرنا چاہیے۔ [المجادلۃ:10]

اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اللہ تعالی کے فیصلوں پر رضا کے درجے تک پہنچ جائیں، وہ اس طرح کہ آپ یہی ہر وقت ذہن نشین کر کے رکھیں کہ یہ چیز اللہ تعالی نے آپ کے بارے میں لکھ دی تھی اور اس نے اس طرح ہو کر رہنا تھا، لہذا اب غمگین ہونے سے دکھ رفع نہیں ہو جائے گا، بلکہ غمگین ہونے سے ذاتی نقصان مزید ہو گا۔

آپ ہمیشہ اللہ تعالی کے فیصلوں پر راضی ہونے کا ثواب ذہن میں رکھیں کہ : (جو اللہ کے فیصلوں پر راضی ہو، اللہ اس پر راضی ہوتا ہے) اور جس سے اللہ راضی ہو جائے تو اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔

آپ نے اپنے والد کے لیے جن الفاظ میں دعا مانگنی شروع کی ہوئی ہے وہ الفاظ اچھے ہیں، ہم بھی اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپ کی دعا کو قبول فرمائے، اور جو کچھ بھی آپ کو دکھ پہنچا ہے اس کا بہترین صلہ دے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب