جمعہ 14 محرم 1444 - 12 اگست 2022
اردو

مادہ منویہ کو مصنوعی طریقے سے بار آور کروانے کیلئے رمضان میں دن کے وقت مشت زنی کی ، اس پر کیا عائد ہوگا؟

222234

تاریخ اشاعت : 01-06-2015

مشاہدات : 6252

سوال

سوال: میں نے مادہ منویہ کو مصنوعی طریقے سے بار آور کروانے کیلئے رمضان میں دن کے وقت مشت زنی کی، اب مجھ پر کیا لازم آتا ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

پہلے سوال نمبر: (2571) میں یہ گزر چکا ہے کہ رمضان میں دن کے وقت مشت زنی حرام ہے، چنانچہ جس شخص نے مشت زنی کی اور منی خارج ہوگئی تو اسکا روزہ فاسد ہو جائے گا۔

آپ کیلئے مناسب یہ تھا کہ آپ یہ عمل رات تک کیلئے مؤخر کر دیتے، تا کہ بغیر کسی عذر کے روزہ فاسد نہ ہوتا، تاہم اگر ایسا کرنا آپ کیلئے ممکن نہیں تھا تو آپ پر کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اس کی جگہ آپ قضا دیں گے ۔

دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی -پہلا  ایڈیشن-(24/436)میں ہے:
"بانجھ پن سے متعلق ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری میں مشت زنی کی اجازت  دینے کے بارے میں سوالات ہیں، اس طرح کہ لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لئے مادہ منویہ کا نمونہ منی کے خارج ہونے کے دس منٹ کے اندر اندر وصول کیا جاتا ہے، اور منی خارج ہونے  کے بعد طویل وقت گزر جانے کی صورت میں کیونکہ منی ٹیسٹ کے قابل نہیں رہتی ہے، اس لئے ہم آپ  سے بانجھ پن یا دیگر امراض سے چھٹکارا پانے کی غرض سے لیبارٹری  میں مادہ منویہ کا طبی ٹیسٹ کرانے کیلئے مشت زنی  سے متعلق فتاوی لینا چاہتے ہیں۔

دائمی فتوی کمیٹی نے مسئلہ پر کافی غور و خوض کے بعد یہ جواب دیا کہ:  اس کی سخت ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے، اور مشت زنی سے حاصل ہونے والے نقصان کے مقابلے میں امید کی جانے والی مصلحت زیادہ سود مند ہے، اس لیے ایسا کرنا جائز ہے" انتہی

مزید استفادے کیلئے آپ سوال نمبر: (27112) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

اسی طرح دائمی فتوی کمیٹی کے  فتاوی -پہلا  ایڈیشن- (10/261) میں ہے کہ:
"میں آپکو بتانا چاہتا ہوں کہ ماہ رمضان سن  1410ہجری کو مجھے ایک ہسپتال میں طبیب سے مشورے کے لئے وقت ملا، یہ وقت ایسے لمحات میں ملا تھا کہ اس کے علاوہ میرے پاس کوئی اور وقت ہی نہیں تھا، چنانچہ جب میں معالج کے پاس حاضر ہوا تو اس نے مجھ سے مادہ منویہ نکال کر دینے کو کہا، اور معالج کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں ہے، جس کی وجہ سے میں مجبور ہوگیا، اور میں نے اسے لیبارٹری ٹیسٹ کیلئے اپنا مادہ منویہ دے دیا، یہ رمضان  میں دن کا وقت تھا، منی خارج کرنے کیلئے میں نے مشت زنی سے کام لیا، یا د رہے کہ میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور وقت نہیں تھا کہ دوبارہ ہسپتال  آتا ، اور جس دن میں ہسپتال آیا تھا اسی دن مجھے ہسپتال کی طرف سے وقت دیا گیا تھا، اس وقت میں میرے اور میری بیوی کے ٹیسٹ ہونے تھے۔

محترم سماحۃ الشیخ! مجھے اس بارے میں فتوی دیجئے! کیا مجھ پر قضا کے ساتھ کفارہ ادا کرنا بھی ضروری ہے؟"

جواب:  "اگر صورتِ حال ایسی ہی ہے جیسے کہ آپ نے ذکر کی ہے تو آپ پر اس ایک دن کی قضا  واجب ہے جس میں مشت زنی کی تھی، تاہم آپ پر کفارہ نہیں ہے" انتہی

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب