جمعرات 12 محرم 1446 - 18 جولائی 2024
اردو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا سونے کا طریقہ

سوال

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم کس طرح سوتے تھے، کیا آپ صلی اللہ علیہ و سلم چارپائی وغیرہ پر سوتے تھے یا زمین پر؟ اور کیا سوتے وقت کوئی مخصوص دعا بھی پڑھتے تھے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بسا اوقات بستر پر سوتے تھے، کبھی چمڑے پر، تو کبھی چٹائی پر، اور کبھی زمین پر، آپ کا چارپائی پر سونا بھی ثابت ہے، اسی طرح آپ باریک بجری اور بالوں کی کالی چادر پر سو جاتے تھے۔

جیسے کہ عباد بن تمیم اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا آپ نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھا ہوا تھا۔" اس حدیث کو امام بخاری: (475) اور مسلم : (2100) نے روایت کیا ہے۔

آپ کا بستر چمڑے کا بنا ہوا تھا جس میں پتے بھرے گئے تھے۔ آپ کا ایک ٹاٹ بھی تھا جسے ڈبل کر کے بچھایا جاتا تھا۔

یعنی مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم بستر پر سوتے وقت اپنے اوپر لحاف لے لیا کرتے تھے ، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیویوں سے کہا: (میرے پاس جبریل کبھی بھی اس وقت نہیں آئے جب میں تم میں سے کسی کے ساتھ لحاف میں ہوں، سوائے عائشہ کے۔) بخاری: (3775)

آپ کا تکیہ چمڑے کا بنا ہوا تھا جس میں پتے بھرے گئے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم جس وقت سونے کے لیے بستر پر تشریف لاتے تو فرماتے: اَللَّهُمَّ بِاسْمَكَ أَحْيَا وَأَمُوْتُ یعنی: یا اللہ! میں تیرے نام کے ساتھ ہی زندہ ہوتا ہوں اور مرتا ہوں۔ اس حدیث کو بخاری: (7394) نے روایت کیا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم جس وقت سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اکٹھا کر کے ان میں پھونک مارتے ، پھر سورت اخلاص، سورت الفلق اور سورت الناس پڑھ کر دونوں ہتھیلیوں کو جہاں تک ہاتھ پہنچتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے، ہاتھ پھیرنے کا آغاز سر، چہرے اور جسم کے سامنے والے حصے سے کرتے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ عمل تین بار کرتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے دائیں پہلو پر لیٹتے تھے اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں گال کے نیچے رکھتے اور پھر کہتے: اَللَّهُمَّ قِنِيْ عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ترجمہ: یا اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا مجھے تیرے عذاب سے محفوظ فرما۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم جس وقت بستر پر لیٹتے تو فرماتے:  اَلْحَمْدُ للهِ الَّذِيْ أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا، پلایا اور ہمیں ہر چیز مہیا کی اور جائے پناہ بھی عطا کی، کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا کوئی کفایت کرنے والا یا جگہ دینے والا نہیں ہے۔ یہ دعا امام مسلم ؒنے بیان کی ہے، امام مسلم رحمہ اللہ نے مزید یہ بھی ذکر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے بستر پر آ کر یہ بھی کہا کرتے تھے: اَللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِيْ شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنْ الْفَقْرِ ترجمہ: یا اللہ! اے آسمانوں اور زمین کے رب اور عرش عظیم کے رب، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب، دانے اور گٹھلیوں کو چیر کر اگا دینے والے! تورات، انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے! میں ہر شر والی چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے، اے اللہ! تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی شے نہیں، اے اللہ! تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کوئی شے نہیں ہے، تو ہی ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی شے نہیں ہے، تو ہی باطن ہے، تجھ سے خفیہ کوئی شے نہیں ہے، ہماری طرف سے (ہمارا) قرض ادا کر اور ہمیں فقر میں غنا عطا فرما۔ اس حدیث کو صحیح مسلم: (2713) نے روایت کیا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم جس وقت نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے: اَلْحَمْدُ للهِ الَّذِيْ أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُوْرُ ترجمہ: اللہ کے لیے حمد و شکر کہ جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف دوبارہ جی اٹھنا ہے۔ صحیح بخاری: (6312) پھر اس کے بعد مسواک کرتے اور بسا اوقات سورت آل عمران کی آخری دس آیات پڑھتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ بھی فرماتے:  اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلهِيْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ترجمہ: یا اللہ! تیرے لیے ہی تمام تعریفات ہیں تو ہی آسمانوں و زمین اور ان میں موجودات کا نور ہے ۔ اور تیرے لیے ہی ہر طرح کی تعریف ہے تو آسمان اور زمین اور ان میں رہنے والی تمام مخلوق کا سنبھالنے والا ہے ۔ اور تو ہی سچا ہے، تیرا وعدہ سچا، تیری ملاقات سچی، جنت سچ ہے، دوزخ سچ ہے، انبیاء سچے ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم سچے ہیں، اور قیامت سچ ہے۔ یا اللہ! میں تیرا ہی فرماں بردار ہوں اور تجھی پر ایمان رکھتا ہوں، تجھی پر بھروسا ہے، اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں، تیرے ہی عطا کئے ہوئے دلائل کے ذریعہ بحث کرتا ہوں اور تجھی کو فیصل بناتا ہوں۔ پس جو خطائیں مجھ سے پہلے ہوئیں اور جو بعد میں ہوں گی ان سب کی مغفرت فرما، خواہ وہ ظاہر ہوئی ہوں یا پوشیدہ۔ تو ہی میرا معبود بر حق ہے ، تیرے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے۔ صحیح بخاری: (1120)

آپ صلی اللہ علیہ و سلم رات کے اول حصے میں نیند کرتے تھے اور آخری حصے میں بیدار ہو جاتے تھے، بسا اوقات رات کے پہلے حصے میں بھی مسلمانوں کے اجتماعی مسائل پر گفتگو کے لیے بیدار رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی آنکھیں تو سو جاتی تھیں لیکن آپ کا دل نہیں سوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم جب سوتے تو کوئی بھی آپ کو بیدار نہیں کرتا تھا تا آں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم خود ہی بیدار ہو جاتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم اگر رات کے کسی لمحے میں دوران سفر کہیں رکتے تو اپنی دائیں جانب لیٹ جاتے تھے، اور اگر طلوع فجر سے پہلے کہیں پر پڑاؤ کرتے تو امام ترمذی رحمہ اللہ کے مطابق اپنا بازو زمین پر گاڑ کر سر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی نیند معتدل ترین نیند تھی، یہ نیند طبی ماہرین کے مطابق بھی بہترین نیند ہے، ان کا کہنا ہے کہ دن اور رات کی ایک تہائی نیند ہونی چاہیے، یعنی 8 گھنٹے۔

واللہ اعلم

ماخذ: زاد المعاد (1/155)