بدھ 10 رجب 1444 - 1 فروری 2023
اردو

کیا سودی بینک کی طرف سے نیلام کی جانے والی ایسی گاڑی خرید سکتا ہے جس کا مالک واجب الادا رقم دینے میں ناکام ہو گیا ہے؟

سوال

کیا سودی بینک کی نیلامی سے گاڑی خریدنا جائز ہے؟ بات یہ ہے کہ یہ بینک کچھ ایسی کاریں لاتے ہیں جن کے مالکان ان کی واجب الادا اقساط کی ادائیگی میں ناکام ہو جاتے ہیں، اس لیے وہ گاڑی کو ایک مدت تک اپنے پاس رکھتے ہیں، اس امید پر کہ مالک اپنے سستی ختم کر کے آئے اور اپنی قسطیں ادا کر کے گاڑی لے جائے۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ اسے نیلامی کے ذریعے بیچ دیتے ہیں۔ تو ایسی گاڑی کو نیلامی سے خریدنے کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

سودی بینک کی نیلامی سے گاڑی خریدنا جائز ہے، لیکن اس کی دو شرائط ہیں:

پہلی شرط: یہ کہ گاڑی کے مالک نے بینک کو اسے فروخت کرنے کی اجازت دی ہو، یا عدالت نے فیصلہ دیا ہو؛ کیونکہ بینک کے لیے گاہک کی اجازت کے بغیر رہن رکھی ہوئی گاڑی فروخت کرنا جائز نہیں ہے، الا کہ عدالتی حکم جاری کیا گیا ہو۔

جیسے کہ "زاد المستقنع" میں ہے کہ:
"جب قرض کی ادائیگی کا وقت قریب آ جائے اور مقروض ادائیگی نہ کر سکے، تو اگر مقروض قرض خواہ کو گروی رکھی ہوئی چیز فروخت کرنے کی اجازت دے دے تو اسے بیچ کر قرض پورا کر لے، وگرنہ سرکاری سطح پر اسے قرض ادا کرنے پر مجبور کیا جائے گا یا پھر قرض کی ادائیگی کے لیے گروی چیز فروخت کی جائے گی، اگر وہ خود ایسا نہ کرے تو سرکار خود فروخت کر کے قرض ادا کر دے گی۔" ختم شد

دوسری شرط: ان کی نیلامی مارکیٹ ریٹ کے مطابق کی جائے ، بالکل ایسے ہی جیسے اس جیسی دیگر استعمال شدہ کاروں کی قیمت لگائی جاتی ہے، کیونکہ اسے اس کے مالک کا قرض ادا کرنے کے لیے بیچا جا رہا ہے، اس لیے مالک کو نقصان دینا کسی صورت جائز نہیں، اور نہ ہی اس کی رضامندی کے بغیر اس میں سے [کمیشن وغیرہ کے نام پر ] کوئی رقم لینا جائز ہے۔

جیسے کہ "مغني المحتاج" (3/71) میں ہے کہ:
"کوئی بھی عادل شخص گروی رکھی ہوئی چیز کو فروخت نہیں کر سکتا الا کہ علاقائی کرنسی میں مارکیٹ ریٹ پر فروخت کرے، بالکل ایسے ہی جیسے کسی کا نمائندہ فروخت کرتا ہے۔ چنانچہ اگر وہ عادل شخص گروی چیز کی فروختگی میں کسی خلل کا باعث بنے تو بیع صحیح نہیں ہو گی۔ تاہم اتنی مقدار میں قیمت کی کمی بیشی روا ہو گی جو لوگوں کے ہاں عام طور پر قابل برداشت ہو؛ کیونکہ یہ اتنی مقدار میں کمی بیشی ہے جو لوگ برداشت کر لیتے ہیں۔" ختم شد

یہاں عادل سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس قرض خواہ اور مقروض متفقہ طور پر گروی چیز رکھوائیں اور وہ اس کی حفاظت کرے۔

لہذا اگر مذکورہ دونوں شرائط پائی جائیں تو نیلامی سے چیز خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اور نہ ہی اپنا سامان فروخت کرنے پر مجبور کیے جانے والے شخص سے خریداری کرنا مکروہ ہے۔

جیسے کہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ قرض کی ادائیگی کے لیے اپنی ملکیتی چیزیں فروخت کرنے پر مجبور کیے جانے والے شخص کے متعلق کہتے ہیں:
"کیا ایسے شخص سے خریداری کرنا مکروہ ہے؟ فقہائے کرام رحمہم اللہ کہتے ہیں کہ: اس سے خریداری کرنا مکروہ ہے؛ کیونکہ یہ مجبوری میں فروخت کر رہا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجبور شخص سے خریداری کرنے سے منع کیا ہے، اب یہ شخص بیچنے پر مجبور ہے۔ لیکن صحیح موقف یہ ہے کہ اس میں کوئی کراہت نہیں ہے؛ کیونکہ اگر ہم نے اس سے خریداری کو بھی مکروہ کہہ دیا تو یہ اس کے لیے مزید تکلیف کا باعث ہو گا، لہذا جب ہم کہیں گے کہ اس مجبور شخص سے مت خریدو، اور دوسری طرف قرض خواہ اس کے دروازے کے چکر صبح و شام لگا رہے ہیں کہ 50 اوقیہ قرض میں لی ہوئی چاندی ادا کرے تو اس طرح یہ شخص مجبور ہی رہے گا، نہ چیز فروخت ہو گی نہ اس کا قرض ادا ہو گا۔ اس لیے صحیح موقف یہ ہے کہ اس سے خریداری کرنا جائز ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس سے خریداری کرنا مستحب ہے تا کہ قرض سے جان چھوٹے تو اس موقف میں کافی وزن ہو گا۔ جبکہ مجبور شخص سے خریداری کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کسی ایسی چیز کا محتاج ہو جائے جو آپ کے ذمے اسے مہیا کرنا لازم ہو تو تب بھی آپ اسے قیمت کے بغیر نہ دیں۔ چنانچہ اس اعتبار سے حدیث کے عربی الفاظ "بيع المضطر" میں مصدر کی اضافت اس کے فاعل کی طرف نہیں بلکہ مفعول کی طرف ہے۔" ختم شد

"الشرح الممتع" (15/ 488)

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب