بدھ 7 ذو الحجہ 1443 - 6 جولائی 2022
اردو

اگر نمازی تلاوت میں غلطی کر بیٹھے یا آیت ہی بھول جائے تو کیا کرے؟

سوال

میں جس وقت قرآن کریم پڑھتا ہوں تو بسا اوقات غلط آیت پڑھ جاتا ہوں یا بھول جاتا ہوں کیونکہ میری توجہ نہیں ہوتی، میں پھر تین مرتبہ "استغفر اللہ" کہہ کر سورت پڑھنے لگتا ہوں یا آیت دوبارہ پڑھتا ہوں، تو کیا میرا یہ عمل صحیح ہے؟ یا کہ مجھے آغاز سے سورت دوبارہ پڑھنی چاہیے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اگر نماز کے دوران تلاوت بھول جائے یا غلطی کر بیٹھے تو اگر غلطی سورت فاتحہ میں ہے تو اس کی تصحیح ضروری ہے، کیونکہ سورت فاتحہ کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی، اور اگر تلاوت میں غلطی ایسی تھی کہ اس سے معنی بدل رہا تھا، تو پھر اسے درست کیے بغیر نماز صحیح نہیں ہو گی۔

اور اگر غلطی سورت فاتحہ کے علاوہ تلاوت میں تھی تو اس کی نماز صحیح ہے؛ کیونکہ فاتحہ کے بعد والی تلاوت سنت ہے واجب نہیں ہے۔

جیسے کہ دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کہتے ہیں:
"سورت فاتحہ کے بعد والی تلاوت میں سے کوئی بھول جائے تو اس پر کچھ نہیں ہے چاہے وہ امام ہے یا مقتدی ہے یا اکیلا ہے، چاہے نماز فرض ہے یا نفل۔ یہ موقف علمائے کرام کے دو موقفوں میں سے صحیح ترین موقف ہے۔" ختم شد
دائمی فتوی کمیٹی: (7 / 146)

اگر سورت پڑھتے ہوئے کسی سے غلطی ہو جائے یا بھول جائے تو شرعی طور پر اس کے لیے استغفار کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ اپنی غلطی کی اصلاح کرے اور بھولے ہوئے حصے کو ذہن میں لانے کی کوشش کرے، اگر اصلاح نہ کر سکے تو وہ آگے والی آیت پر منتقل ہو جائے، یا اس سورت کو چھوڑ کر کوئی اور سورت شروع کر لے یا رکوع کر لے، اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔

چنانچہ دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کہتے ہیں:
"اگر کسی نمازی کے لیے کسی آیت کو پڑھنا مشکل ہو جائے ، اور ذہن میں لانا بھی ممکن نہ ہو تو پھر اس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ وہ اگلی آیت پڑھ لے، تاہم نماز میں وہی تلاوت کرے جو اسے اچھی طرح یاد ہو تا کہ غلطیاں نہ آئیں۔" ختم شد
دائمی فتوی کمیٹی: (5 /337)

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
اگر امام نماز پڑھاتے ہوئے تلاوت کر رہا ہو اور آیت کا آخری حصہ بھول جائے ، مقتدیوں میں سے کسی میں اسے بتلانے کی صلاحیت نہ ہو تو کیا امام تکبیر کہہ کر رکعت مکمل کر دے یا کوئی اور سورت پڑھے؟

تو انہوں نے جواب دیا:
"اس امام کو اختیار ہے چاہے تکبیر کہہ کر تلاوت ختم کر دے، اور اگر چاہے تو کوئی اور آیت پڑھ لے یا کوئی اور سورت پڑھ لے، اس کے لیے نمازوں میں کی جانے والی تلاوت کے متعلق احادیث کی تعلیمات کو مد نظر رکھے۔ تاہم سورت فاتحہ مکمل پڑھنی ہے؛ کیونکہ مکمل سورت فاتحہ کی تلاوت کرنا ضروری اور لازمی ہے اس لیے کہ سورت فاتحہ کی تلاوت نماز ارکان میں سے ایک رکن ہے۔" ختم شد
"مجموع فتاوى ابن باز" (12 /129)

اسی طرح شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
"اگر میں اکیلی نماز پڑھ رہی ہوں اور کسی آیت کو پڑھنے میں غلطی ہو گئی ، میں اس آیت کو درست نہ کر سکی، میں ایک آیت کو دوسری میں گڈ مڈ کرنے لگ گئی تو اب نماز کے دوران میں کیا کروں؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"آپ دو میں سے ایک کام کریں: یا تو آپ اس سے آگے والی آیت پڑھ لیں، یا پھر آپ رکوع کر لیں؛ کیونکہ اس مسئلے میں وسعت ہے۔" ختم شد
"فتاوى نور على الدرب" از ابن عثیمین: (141 /24)

ماخذ: الاسلام سوال و جواب