جمعرات 13 محرم 1444 - 11 اگست 2022
اردو

طلاق دينے والے خاوند سے اتفاق كيا كہ وہ اپنے خاوند سے طلاق لينے كے بعد اس كے پاس واپس آ جائيگى

125781

تاریخ اشاعت : 03-01-2010

مشاہدات : 6772

سوال

ايسى بيوى كے حقوق كيا ہيں جس كے اپنے پہلے خاوند سے تعلقات ثابت ہو جائيں جس نے اسے طلاق دے دى تھى اور اس نے نئے خاوند سے طلاق لے كر پہلے خاوند كے پاس جانے كا اتفاق بھى كر ليا ہو ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

يہ صرف گمان اور خيال نہ ہو بلكہ ايسا ثابت ہو جائے تو اس كے خاوند كے ليے اپنى بيوى پر سختى كرنے ميں كوئى حرج نہيں تا كہ وہ اس سے خلع لينے كے ليے فديہ دينے پر آمادہ ہو جائے اور اس كا ادا كردہ مہر اور شادى كے اخراجات واپس كرے اور اسى طرح باقى حقوق يعنى باقى مانندہ مہر بھى چھوڑے اور پھر خاوند اسے طلاق دے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

اور انہيں اس ليے روك كر نہ ركھو كہ جو تم نے دے ركھا ہے اس ميں سے كچھ لے لو، ہاں يہ اور بات ہے كہ وہ كوئى كھلى برائى اور بے حيائى كريں النساء ( 19 ).

سعدى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور جب وہ واضح بےحيائى كا كام كريں مثلا زنا اور فحش كلام، اور اپنے خاوند كو اذيت دينا، كيونكہ اس حالت ميں خاوند كے ليے جائز ہے كہ وہ اس كے اس عمل كى پاداش ميں بطور سزا اسے روك كر ركھے تا كہ وہ عورت اسے فديہ دے كر چھٹكارا حاصل كرے، ليكن يہ روكنا عدل كے ساتھ ہو " انتہى

ديكھيں: تفسير السعدى ( 72 ).

اور ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اور انہيں اس ليے روك كر نہ ركھو كہ جو تم نے دے ركھا ہے اس ميں سے كچھ لے لو

يعنى: تم ان پر معاشرت ميں تنگى مت كرو تا كہ وہ آپ كو سارا يا كچھ مہر واپس كر دے، يا آپ پر جو اس كے حقوق ہيں ان ميں سے كچھ چھوڑ دے، يا ناراض ہو كر كچھ چھوڑ دے.

اور فرمان بارى تعالى:

ہاں يہ اور بات ہے كہ وہ كوئى كھلى برائى اور بے حيائى كريں

ابن مسعود اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہم وغيرہ كہتے ہيں: اس سے مراد زنا ہے، يعنى اگر وہ زنا كرے تو آپ كے ليے اس سے مہر واپس لينا جائز ہے، اور اس كو تنگ كرنا حتى كہ وہ تم سے خلع لے لے.

اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كا يہ بھى كہنا ہے:

" واضح بےحيائى سے مراد نافرمانى اور بات نہ ماننا ہے "

اور ابن جرير رحمہ اللہ نے اختيار كيا ہے كہ يہ اس سے بھى عام ہے جس ميں زنا اور نافرمانى، اور بات نہ ماننا اور زبان درازى كرنا وغيرہ سب شامل ہيں.

يعنى ان سب اسباب كى بنا پر اس كو تنگ كرنا جائز ہے حتى كہ وہ اپنے سارے حقوق يا كچھ حقوق چھوڑ دے، اور خاوند اسے چھوڑ دے، اور يہ قول اچھا ہے, اللہ اعلم" انتہى مختصرا.

ديكھيں: تفسير القرآن العظيم ابن كثير ( 1 / 608 ).

آپ كے ليے اس ميں كوئى حرج نہيں كہ اس سے سارا مہر واپس ليں يا اس سے زيادہ يا كم؛ كيونك اللہ سبحانہ و تعالى كا عمومى فرمان ہے:

اور تمہارے ليے حلال نہيں كہ تم نے انہيں جو كچھ ديا ہے اس ميں سے كچھ بھى لو، ہاں يہ اور بات ہے كہ دونوں كو اللہ كى حدود قائم نہ ركھ سكنے كا خوف ہو، اس ليے اگر تمہيں ڈر ہو كہ يہ دونوں اللہ كى حديں قائم نہ ركھ سكيں گے تو عورت رہائى پانے كے ليے كچھ دے ڈالے البقرۃ ( 229 ).

تو يہاں فرمان بارى تعالى:

"چنانچہ عورت رہائى پانے كے ليے كچھ دے ڈالے "

يہ خلع پر دلالت كرتا ہے چاہے وہ قليل يا كثير چيز پر ہو.

فقہ اربعہ كے آئمہ كرام ابو حنيفہ مالك شافعى اور احمد رحمہم اللہ كا يہى كہنا ہے.

ديكھيں: المغنى ابن قدامۃ ( 10 / 269 ).

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب