اتوار 16 محرم 1444 - 14 اگست 2022
اردو

زمین کی تجارت کے بارے میں تردد ہو تو اس میں زکاۃ نہیں ہے۔

سوال

میرے نام کچھ زمین ہے اس کی خریداری کے وقت 70 فیصد نیت یہی تھی کہ میں اس کو فروخت کر دوں گا، لیکن ساتھ ہی 30فیصد یہ نیت بھی تھی کہ اس پر مکان بناؤں گا اور اسے فروخت نہیں کروں گا۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

اس زمین کے بارے میں جب تک آپ پختہ عزم نہ کریں کہ یہ تجارت کے لیے ہے تو اس وقت تک اس پر زکاۃ واجب نہیں ہوتی؛ کیونکہ اصل یہی ہے کہ انسان ذاتی استعمال کے لیے چیز لیتا ہے، اس لیے تجارت کے لیے اسی وقت شمار کی جائے گی جب پختہ نیت ہو، اس لیے تردد کی حالت میں زکاۃ واجب نہیں ہو گی۔

جیسے کہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
ایک آدمی کے پاس زمین ہے اور اسے نہیں معلوم اس نے اس زمین کا کیا کرنا ہے، بیچ دے گا، یا مکان بنائے گا، یا کرائے پر دے گا، یا خود رہائش رکھے گا، تو ایسی صورت میں سال گزرنے پر زکاۃ ادا کرے گا؟

"اس زمین پر کوئی زکاۃ ہے ہی نہیں؛ کیونکہ اس کا پختہ عزم نہیں ہے کہ وہ اس زمین کو فروخت کرے گا؛ چنانچہ متردد ہونے کی وجہ سے اس زمین پر کوئی زکاۃ نہیں ہے، بلکہ اگر 100 فیصد میں سے ایک فیصد بھی تردد ہو تو اس میں کوئی زکاۃ نہیں ہے۔" ختم شد
"مجموع فتاوی ابن عثیمین" (18/232)

اسی طرح ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ:
"جب کوئی یہ کہے کہ: مجھے علم نہیں ہے کہ اس چیز کو فروخت کروں گا یا اپنے پاس رکھوں گا، مثلاً: ایک آدمی کے پاس زمین ہے وہ کہتا ہے کہ: مجھے نہیں معلوم کہ میں اسے فروخت کروں گا یا اپنے پاس رکھوں گا، یا بلڈنگ بناؤں گا، تو کیا ایسی صورت میں زکاۃ ہو گی یا نہیں؟
جواب: اس صورت میں زکاۃ نہیں ہے؛ کیونکہ  اصل یہ ہے کہ زکاۃ واجب نہ ہو، تا آں کہ تجارت کے ارادے کی نیت پختہ ہو جائے۔" ختم شد
"اللقاء الشهري" (3/5)

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب