منگل 12 جمادی اولی 1444 - 6 دسمبر 2022
اردو

ایک ماہ کے حمل سے ہے اور اسقاط کروانا چاہتی ہے؛ کیونکہ وہ خاوند سے طلاق لے گی۔

سوال

میری بہن کی شادی ایک شخص سے ہوئی تو وہ بے نمازی بھی تھا اور بیوی کو مارتا بھی تھا، تو اس نے اس سے خلع لے لیا، اور افسوس یہ ہے کہ اس سے ایک بیٹی بھی اس نے جنم دی، اب یہ بیٹی اپنی ماں کے لیے مشکل کا سبب بنی ہوئی ہے؛ کیونکہ سابقہ خاوند کی طرف سے ہمیشہ ہر عید تہوار جیسے خوشی کے موقع پر اس بچی کو لے جانے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ پھر میری بہن نے ایک اور آدمی سے شادی کر لی اور یہ شادی اس کے لیے مزید آزمائش کا ذریعہ بنی کہ وہ نفسیاتی مریض ہے، اور اب میری بہن کو خدشہ ہے کہ اس سے بھی بچہ پیدا ہو گیا تو پھر پہلے خاوند جیسی کیفیت کا مجھے سامنا کرنا پڑے گا، میری بہن ایک ماہ کے حمل سے ہے، تو پہلے مہینے میں اسقاط حمل کروانے کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

عورت اور ولی دونوں کو چاہیے کہ دینی اور اخلاقی اعتبار سے اچھا خاوند تلاش کریں، اس کے لیے لوگوں سے پوچھیں مشورہ کریں، اور ظاہری ٹیپ ٹاپ سے دھوکا مت کھائیں، یا محض دنیا داری مت دیکھیں۔

ہم اپنی اس بہن کے لیے اللہ تعالی سے صبر اور اجر کی دعا کرتے ہیں کہ انہیں بہترین متبادل عطا فرمائے۔

ہم اپنی بہن کو صبر کرنے کی تلقین کرتے ہیں امید ہے کہ اللہ تعالی اس کے خاوند کو شفا یاب فرمائے، اور اس کی حالت سنوار دے، تو یہ اس کے لیے اور جنین کے لیے بھی بہتر ہے۔

جبکہ 40 دن گزرنے سے قبل اسقاط حمل کے بارے میں فقہائے کرام کے ہاں مشہور اختلاف پایا جاتا ہے، جس کی وضاحت ہم متعدد سوالات میں کر چکے ہیں، اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (115954 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب