اتوار 10 جمادی اولی 1444 - 4 دسمبر 2022
اردو

کیا مومن جنت میں داخل ہو کر فرشتوں، انبیائے کرام ، آسمانوں کے دروازوں اور افلاک کو دیکھے گا؟

359103

تاریخ اشاعت : 20-08-2022

مشاہدات : 321

سوال

جس وقت ہم جنت میں داخل ہو ں گے -اللہ تعالی ہم سب کے نصیب میں شامل فرمائے- کیا ہم جنت سے باہر جا سکیں گے کہ آسمانوں میں گھومیں، اور ایسی مخلوقات دیکھیں جن کے بارے میں ہمیں ابھی معلوم نہیں ہے، ایسے ہی فرشتوں کو ان کی اصل شکل میں دیکھیں؟ مجھے پتہ ہے کہ میرا سوال تھوڑا عجیب سا ہے، لیکن بات یہ ہے کہ مجھے فلکیات میں کافی لگاؤ ہے، اور مجھے یہ بھی علم ہے کہ موجودہ علم فلکیات آسمانی معلومات میں سے بالکل تھوڑا سا علم رکھتا ہے، میری شدید خواہش ہے کہ آسمانوں کے دروازوں کی شکل دیکھوں، سیدنا عیسی اور دیگر انبیائے کرام کہاں ہیں؟ اسی طرح وہ کون کون سے جہان ہیں جن کے بارے میں ہمیں ابھی علم نہیں ہے؟ اگر ہمیں جنت میں ہر من چاہی نعمت ملے گی اور ان میں سب سے بڑی نعمت دیدار الہی ہے، تو کیا ہم اللہ تعالی کی ساری مخلوقات دیکھ سکیں گے؟ آسمانوں میں اڑ سکیں گے؟ کہکشاؤں اور تاروں کو دیکھ سکیں گے؟ میرا دل چاہتا ہے کہ ہم فرشتوں کے ساتھ بیٹھیں، دیگر مخلوقات کے ساتھ روابط استوار کریں اور ان سے دوستی لگائیں، کیا یہ سب ممکن ہو گا؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

انسان جنت میں داخل ہونے کے بعد باہر نہیں نکلے گا، اور نہ ہی وہاں سے باہر جانے کے بارے میں سوچے گا چاہے کتنی لمبی مدت ہی وہاں پر رہے؛ کیونکہ جنتی ہمیشہ کے لیے جنت میں جائے گا، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا * خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا

ترجمہ: یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے فردوس کے باغات مہمان نوازی کے طور پر ہوں گے٭ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے وہاں سے وہ جانے کا کبھی نہیں سوچیں گے۔[الكهف: 107، 108]

ابن کثیر رحمہ اللہ ان آیات کی تفسیر میں کہتے ہیں:
"اللہ تعالی اپنے خوش بخت بندوں کے بارے میں بتلاتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، رسولوں کی لائی ہوئی وحی کی تصدیق کرتے رہے ان کے لیے فردوس کے باغات ہیں۔۔۔
 خَالِدِينَ فِيهَا  یعنی وہ ان باغات میں رہیں گے، اور وہاں سے کبھی بھی کوچ نہیں کریں گے۔
 لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا   یعنی وہ فردوس کے باغات کو چھوڑ کر کسی اور جگہ کو پسند نہیں کریں گے، نہ ہی کسی اور جگہ جانا اچھا سمجھیں گے، بالکل ایسے ہی جیسے ایک شاعر نے کہا:
{ فَحَّلْت سُوَيدا القَلْب لَا أنَا بَاغيًا ... سِوَاهَا وَلَا عَنْ حُبّها أتَحوّلُ ...}
یعنی: وہ سودائے قلب میں اتر چکی ہے، میں اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا اور نہ ہی اس کی محبت سے منہ موڑوں گا۔

فرمان باری تعالی: {لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا } میں جنتیوں کے بارے میں وضاحت ہے کہ ان کا دل اس جنت میں ہی لگا رہے گا، وہ اس جنت سے محبت کریں گے؛ کیونکہ ایسا ممکن ہے کہ کوئی انسان کسی ایک ہی جگہ رہے تو وہاں رہ ، رہ کر اکتا جائے، اس لیے اللہ تعالی نے بتلایا کہ وہ دائمی اور سرمدی جنت میں رہنے کے باوجود وہاں سے کہیں بھی جانا پسند نہیں کریں گے۔" ختم شد

لیکن اللہ تعالی اہل جنت کو ان کی من چاہی چیزیں عطا فرمائے گا، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: الَّذِينَ آمَنُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا مُسْلِمِينَ (69) ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُونَ (70) يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِصِحَافٍ مِنْ ذَهَبٍ وَأَكْوَابٍ وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ وَأَنْتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ 
 ترجمہ: جو لوگ ہماری آیات پر ایمان لائے اور وہ مسلمان تھے [69] تم اور تمہاری بیویاں جنت میں ہشاش بشاش ہو کر داخل ہو جاؤ [70] ان کے سامنے سونے کی پلیٹوں اور ساغر کا دور چلے گا اور وہاں وہ سب کچھ موجود ہو گا جو دلوں کو بھائے اور آنکھوں کو لذت بخشے اور تم وہاں ہمیشہ رہو گے۔ [الزخرف:69- 71]

اسی لیے اگر کسی کو اولاد کی خواہش ہو گی تو اسے فوری اولاد مل جائے گی اور جس کو فصلوں کی چاہت ہو گی تو اسے فوری فصل مل جائے گی۔

جیسے کہ جامع ترمذی: (2563) میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جنت میں مومن اولاد کی خواہش کرے گا تو حمل، زچگی اور عمر کا بڑھنا سب ایک ہی گھڑی میں ہو جائے، جیسے وہ چاہے گا۔) اس حدیث کو البانی نے صحیح الجامع: (6649) میں صحیح قرار دیا ہے۔
حدیث میں مذکور "عمر کا بڑھنا" کا مطلب یہ ہے کہ 30 سال کی عمر، نیز حدیث میں ہے کہ: " جیسے وہ چاہے گا " کا مطلب یہ ہے کہ اسے بیٹا چاہیے یا بیٹی، یا اسی طرح کی کوئی بھی خواہش ہے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (111777 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

صحیح بخاری: (2348) میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: (نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں ایک دن خطاب فرما رہے تھے، اور آپ کے پاس دیہات سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بھی بیٹھا تھا: آپ نے فرمایا: اہل جنت میں سے ایک شخص اپنے رب سے کاشتکاری کی اجازت چاہے گا۔ اللہ تعالی اس سے فرمائے گا: کیا اپنی موجودہ حالت پر راضی نہیں ہے؟ وہ کہے گا کیوں نہیں ! لیکن میرا دل کرتا ہے کہ کاشتکاری کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اس نے بیج ڈالا۔ تو وہ فوری اگ گیا اور پھر پک بھی گیا اور کاٹ بھی لیا گیا۔ اور اس کے دانے پہاڑوں کی طرح ہوئے۔ اب اللہ تعالی فرماتا ہے: اے ابن آدم ! اسے رکھ لے، تجھے کوئی چیز آسودہ نہیں کر سکتی۔ یہ سن کر دیہاتی نے کہا کہ قسم خدا کی وہ تو کوئی قریشی یا انصاری ہی ہو گا۔ کیوں کہ یہی لوگ کاشتکاری کرنے والے ہیں۔ ہم تو کھیتی ہی نہیں کرتے۔ اس با ت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مسکرا دیئے۔)

اس بنا پر یوں کہا جا سکتا ہے کہ: اگر کوئی شخص آسمانوں کے دروازے ، یا فرشتے دیکھنا چاہتا ہے اسے یہ مل جائے گا۔

جبکہ افلاک اور اجرام فلکی کے بارے میں یہ ہے کہ جنت میں ہوتے ہوئے کیا ان کے بارے میں خیال آئے گا؟ جنت میں اتنا کچھ ہو گا کہ ان چیزوں کے بارے میں سوچ ہی پیدا نہیں ہو گی۔

جبکہ انبیائے کرام اور دیدار الہی کے بارے میں یہ ہے کہ مومن کے بارے میں امید کی جا سکتی ہے کہ اسے یہ حاصل ہو گا، اور انبیائے کرام کے ہمراہ ہی ہو گا، جیسے کہ طبرانی معجم الاوسط: (477) میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم مجھے آپ سے اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبت ہے، آپ میرے نزدیک میرے اہل خانہ، اور بچوں سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ میں جب گھر میں ہوتا ہوں اور آپ کی یاد آتی ہے تو میں آپ کے بغیر رہ نہیں پاتا، اور آپ کی طرف چل پڑتا ہوں اور آپ کو دیکھ کر ہی سکون پاتا ہوں۔ لیکن جب مجھے اپنی اور آپ کی موت یاد آتی ہے تو مجھے معلوم ہے کہ آپ کو تو نبیوں کے ساتھ بہت بلند اور عالی شان مقام مل جائے ، اور میں جب جنت میں جاؤں گا تو مجھے خدشہ ہے کہ وہاں میں آپ کو نہ دیکھ سکوں!! تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس شخص کی بات کا کوئی جواب نہ دیا، یہاں تک کہ جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے:  وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ  ترجمہ: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والا ہی انبیائے کرام اور صدیقین کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ تعالی نے انعامات کیے ہیں۔[النساء: 69] )
اس حدیث کو البانی نے سلسلہ صحیحہ: (2933) میں حسن قرار دیا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ:
جنت کی نعمتیں بہت عظیم ہیں، جنت میں ایسی نعمتیں ہیں جو ابھی تک کسی بشر کے خیال میں بھی نہیں آئیں، اس لیے مومن کو صرف جنت میں جانے کی کوشش ہی کرنی چاہیے باقی چیزوں کی طرف توجہ نہ دے؛ کیونکہ اگر جنت میں انسان داخل ہو گیا تو اب اس سے کوئی چیز چوک نہیں سکتی، اور نہ ہی اسے کسی نعمت پر حسرت ہو گی۔
واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب