بدھ 13 ذو الحجہ 1445 - 19 جون 2024
اردو

اس بات کے دلائل کہ : ایمان زبان سے اقرار، دل سے تصدیق اور اعضا سے عمل کا نام ہے۔

سوال

ہم اہل سنت والجماعت کہتے ہیں کہ: ایمان زبان سے اقرار، دل سے اعتقاد اور اعضا سے عمل کا نام ہے۔ تو اس موقف پر کتاب و سنت سے کون کون سے دلائل ہیں؟

جواب کا خلاصہ

تمام اہل سنت کا اجماع ہے کہ ایمان قول اور عمل دونوں پر مشتمل زبان سے اقرار، دل سے اعتقاد اور اعضا سے عمل کا نام ہے۔ اس اجماع کے کتاب و سنت میں بہت زیادہ دلائل ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ تمام ایمان کے اجزا ہیں، تفصیلات مکمل جواب میں ملاحظہ فرمائیں۔

الحمد للہ.

ایمان قول، فعل اور اعتقاد کا نام ہے۔

تمام اہل سنت کا اجماع ہے کہ ایمان قول اور عمل دونوں پر مشتمل زبان سے اقرار ، دل سے اعتقاد اور اعضا سے عمل کا نام ہے۔

امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "صحابہ ، تابعین ، تبع تابعین پھر ان کے بعد آنے والے اور جن کا زمانہ ہم نے پایا سب کے سب بالاجماع کہتے ہیں کہ: ایمان قول، عمل اور نیت کا نام ہے، ان تینوں اجزا میں سے ہر ایک کا موجود ہونا ضروری ہے؛ کوئی کسی کی طرف سے کفایت نہیں کرتا۔" ختم شد
"أصول اعتقاد أهل السنة " از امام لالکائی: (5/956) ، اثر نمبر: 1593، اسی طرح دیکھیں: "مجموع الفتاوى" لابن تيمية (7/209)۔

امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"میں نے ایک ہزار سے زائد اہل علم سے احادیث لکھی ہیں، اور میں نے صرف اسی سے حدیث لی ہے جو کہتا ہو: ایمان قول اور عمل کو کہتے ہیں۔ میں نے اس سے حدیث نہیں لکھی جو ایمان کو صرف قول تک محدود کرے۔" ختم شد
"أصول اعتقاد أهل السنة " از امام لالکائی: (5/959) ، اثر نمبر: 1597

ابو عبید القاسم بن سلام رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ ان اہل علم کے نام ہیں جو کہتے ہیں کہ: ایمان قول اور عمل کا نام ہے اور ایمان کم اور زیادہ بھی ہوتا ہے، -آپ نے 130 علمائے کرام کے نام ذکر کیے- اور پھر کہا: یہ سب کے سب اس بات کے قائل ہیں کہ ایمان قول اور عمل کا نام ہے نیز ایمان کم یا زیادہ ہوتا ہے، یہ اہل سنت کا موقف ہے اور ہمارے ہاں اسی پر عمل ہے۔ اللہ تعالی توفیق دے" اس اثر کو ابن بطہ رحمہ اللہ نے "الإبانة" (2/814- 826) میں اثر نمبر: (1117) کے تحت ذکر کیا اہے، نیز شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے "مجموع الفتاوى" (7/309) میں بھی نقل کیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید کہتے ہیں:
"اہل سنت اور محدثین کا کئی ایک علمائے کرام نے اجماع نقل کیا ہے کہ سب قول و عمل کے مجموعے کو ایمان کہتے ہیں۔" ختم شد
"مجموع الفتاوى" (7/330)

اس بات کے دلائل کہ قول و عمل کا نام ایمان ہے:

ایمان ؛ قول و عمل ہے اس پر اجماع کے کتاب و سنت میں بہت زیادہ دلائل ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ قول و عمل دونوں ہی ایمان کے اجزا ہیں، ان دونوں اجزا کی مزید جزئیات بنائی جائیں تو یہ چار بنتے ہیں:

  1. زبانی قول: یعنی زبانی تمام عبادات ایمان کا حصہ ہیں ، جبکہ کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنا ایمان کا رکن ہے، کلمہ پڑھے بغیر ایمان صحیح نہیں ہو گا۔
    زبانی اقوال کے ایمان میں شامل ہونے کے چند دلائل درج ذیل ہیں: فرمانِ باری تعالی ہے: قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ 
     ترجمہ: تم سب [زبان سے] کہہ دو: ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر بھی جو ہماری طرف نازل کیا اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اسباط پر نازل کیا گیا، اور جو موسی، عیسی ، اور دیگر انبیائے کرام کو اللہ تعالی کی طرف سے دیا گیا اس پر بھی ایمان لائے۔ ہم ان میں سے کسی نبی کے درمیان تفریق نہیں کرتے، اور ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔[البقرۃ: 136]
    اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہہ دیں، چنانچہ جس نے لا الہ الا اللہ پڑھ لیا تو اس نے مجھ سے اپنی جان اور مال محفوظ کر لی، ماسوائے اس کے مالی فرض [زکاۃ] کے، اور اس کا حساب اللہ تعالی پر ہے۔) اس حدیث کو امام بخاری: (2946) اور مسلم : (21) نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
    اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (ایمان کی 72 سے زائد یا 62 سے زائد شاخیں ہیں، ان میں سے افضل ترین زبان سے لا الہ الا اللہ کہنا ہے، اور سب سے نچلی شاخ راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنا ہے، اور حیا بھی ایمان کی شاخ ہے۔) اس حدیث کو امام بخاری: (9) اور مسلم : (35) نے روایت کیا ہے، یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
  2. قلبی قول: اس سے مراد قلبی تصدیق اور یقین ہے، اس بات کی دلیل کہ قلبی قول بھی ایمان کا حصہ ہے اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ ترجمہ: یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالی نے ایمان لکھ دیا۔[المجادلۃ: 22] اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ ترجمہ: یقیناً اہل ایمان وہ ہیں جو اللہ تعالی پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر شک نہیں کیا، اور اپنے اموال اور جانوں کے ذریعے راہِ الہی میں جہاد کیا، یہی لوگ [ایمان کے دعوے میں] سچے ہیں۔[الحجرات: 15] ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایمان کے متعلق فرمایا: (یہ کہ تو ایمان لائے اللہ تعالی پر، اس کے فرشتوں ،کتابوں، رسولوں اور آخرت کے دن پر اور تو اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھے۔) یہ الفاظ مسلم: (8) نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیے ہیں، جبکہ امام بخاری: (50) نے اسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
    ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیث شفاعت میں فرمایا: (۔۔۔ تو میں کہوں گا: پروردگار! میری امت ، میری امت۔ تو اللہ تعالی فرمائے گا: جا کر اُسے بھی جہنم سے نکال لو جس کے دل میں معمولی سے معمولی سے معمولی رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے اسے بھی جہنم سے نکال لو۔ تو میں انہیں نکالنے کے لیے چل پڑوں گا۔) اس حدیث کو امام بخاری: (7510) اور مسلم : (193) نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
  3. قلبی عمل: اس میں اخلاص، سرِ تسلیم خم کرنا، خوف، امید اور محبت جیسے قلبی افعال شامل ہوتے ہیں، ان چیزوں کے ایمان میں داخل ہونے کی دلیل فرمانِ باری تعالی ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (2) الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (3) أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ 
    ترجمہ: یقیناً مومن تو وہ لوگ ہیں جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل پگھل جاتے ہیں اور جب ان پر اللہ کی آیات تلاوت کی جائیں تو یہ آیات ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ [2] یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں [3] یہی لوگ ہیں جو سچے مومن ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ، مغفرت اور بہترین رزق ہے۔ [الانفال: 2 - 4] آیت کریمہ کا عربی لفظ{ وَجِلَتْ } قلبی عمل کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ قلبی عمل بھی ایمان کا حصہ ہے۔
    اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (ایمان کی 72 سے زائد یا 62 سے زائد شاخیں ہیں، ان میں سے افضل ترین زبان سے لا الہ الا اللہ کہنا ہے، اور سب سے نچلی شاخ راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنا ہے، اور حیا بھی ایمان کی شاخ ہے۔) اس حدیث کو امام بخاری: (9) اور مسلم : (35) نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
    اس حدیث کے مطابق حیا ایمان کا حصہ ہے جو کہ دل کا عمل ہے، نیز اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ زبانی قول اور جسمانی فعل بھی ایمان کا حصہ ہیں ، جیسے کہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔
    اسی طرح سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (تین چیزیں جس میں پائی جائیں تو ان کی وجہ سے انسان ایمان کی مٹھاس پاتا ہے: اللہ اور اس کے رسول اسے سب سے زیادہ محبوب ہوں، کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لیے محبت کرے، اور جب سے اللہ نے اسے کفر سے بچایا اسے کفر میں واپس لوٹنا اسی طرح ناپسند ہو جیسے اسے آگ میں پھینکا جانا ناپسند ہے۔) اس حدیث کو امام بخاری: (16) اور مسلم : (43) نے روایت کیا ہے۔
    اور یہ بات واضح ہے کہ محبت اور ناپسندیدگی دونوں ہی قلبی اعمال ہیں، اور حدیث مبارکہ نے ان اعمال کو صرف ایمان میں ہی شمار نہیں کیا ؛ بلکہ انہیں ان چیزوں میں شمار کیا جن سے ایمان کی مٹھاس حاصل ہوتی ہے۔
  4. جسمانی عمل: مثلاً: طہارت حاصل کرنا، نماز، روزہ، حج اور جہاد وغیرہ، اس بات کی دلیل کہ جسمانی اعمال ایمان کا حصہ ہیں فرمانِ باری تعالی ہے: وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ ترجمہ: انہیں صرف یہی حکم دیا گیا کہ وہ یکسو ہو کر اخلاص کے ساتھ صرف اللہ کی بندگی کے لیے عبادت کریں، نماز قائم کریں ، زکاۃ ادا کریں، یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔[البینہ: 5] اسی طرح فرمانِ باری تعالی: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ} ترجمہ: یقیناً اہل ایمان وہ ہیں جو اللہ تعالی پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر شک نہیں کیا، اور اپنے اموال اور جانوں کے ذریعے راہِ الہی میں جہاد کیا، یہی لوگ سچے مومن ہیں۔[الحجرات: 15] آیت میں مذکور جہاد جسمانی عمل ہے۔
    اسی طرح اللہ تعالی کا یہ فرمان بھی کہ: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (2) الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (3) أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ 
    ترجمہ: یقیناً مومن تو وہ لوگ ہیں جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل پگھل جاتے ہیں اور جب ان پر اللہ کی آیات تلاوت کی جائیں تو یہ آیات ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ [2] یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں [3] یہی لوگ ہیں جو سچے مومن ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ، مغفرت اور بہترین رزق ہے۔ [الانفال: 2 - 4] ان آیات میں مذکور نماز قائم کرنا اور زکاۃ ادا کرنا بدنی اعمال ہیں اور انہیں اللہ تعالی نے ایمان میں شمار کیا ہے۔
    اسی طرح اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان کہ: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ترجمہ: اور اللہ تعالی تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔[البقرۃ: 143] یہاں اللہ تعالی نے ایمان سے مراد بیت اللہ کے پاس پڑھی ہوئی نمازیں لیں ہیں۔
    مزید برآں یہ بھی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری: (1/16) میں اس آیت پر یہ عنوان قائم کیا ہے: "باب : نماز ایمان کا حصہ ہے۔"
    اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے وفد عبد القیس کے لیے فرمان میں بھی اس کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (میں تمہیں اللہ تعالی پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں، اور کیا تم جانتے ہو اللہ پر ایمان کیا ہے؟ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، اور میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو گے۔) اس حدیث کو امام بخاری: (7556) اور مسلم : (17) نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔

اس حوالے سے دلائل اور بھی بہت زیادہ موجود ہیں، اور اہل علم کے ذکر کردہ اجماع بھی بہت مشہور ہیں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب