اتوار 17 ذو الحجہ 1445 - 23 جون 2024
اردو

ایک شخص دماغ پر چھا جانے والے جبری خیالات (OCD) کی وجہ سے لعن طعن کرنے لگتا ہے۔

سوال

مجھے دماغ پر چھا جانے والے جبری خیالات (OCD) کا نماز میں بہت زیادہ سامنا ہے، اور اگر میں تنہا بیٹھا ہوں تو کبھی کبھار اپنے آپ پر غصہ کرتے ہوئے لعن طعن بھی کرتا ہوں، یا اپنے والدین کو برا بھلا کہنے لگ جاتا ہوں، میں امید کرتا ہوں کہ مجھے اس کے علاج کا صحیح طریقہ بتلائیں۔ جزاکم اللہ خیرا

جواب کا متن

الحمد للہ.

دماغ پر چھا جانے والے جبری خیالات Obsessive-compulsive disorder (OCD)امراض کی ایک قسم ہے، اگر کسی کو اس بیماری کا سامنا ہو تو درج ذیل امور کے ذریعے اپنا علاج کرے:

1-خوب دل لگی کے ساتھ اللہ تعالی سے دعا کرے؛ کیونکہ اللہ تعالی مجبور اور لاچار کی دعائیں سنتا ہے اور اس کی مشکل کشائی بھی فرماتا ہے، جیسے کہ سیدنا ایوب علیہ السلام نے دعا کرتے ہوئے فرمایا تھا: وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ترجمہ: اور ایوب -علیہ السلام-نے جب اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچی ہے، اور تو ہی بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے۔[الانبیاء: 83] ایسے ہی نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اللہ تعالی نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی دوا بھی نازل کی ہے، جاننے والے اسے جان لیتے ہیں اور جاہل رہنے والے اس سے نابلد رہتے ہیں۔) مسند احمد: (3727)علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے غایۃ المرام: (292) میں اسے حسن قرار دیا ہے۔ لہذا بیماری کا علاج اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف سے ہے، اور شفا بھی اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، اس لیے الحاح کے ساتھ دعائیں کریں، اور سحری کے اوقات دعا کے لیے غنیمت سمجھیں؛ کیونکہ اللہ تعالی ہر رات جب آخری تہائی باقی رہ جاتی ہے تو آسمان دنیا تک نازل ہو کر فرماتا ہے: (کون ہے جو مجھ سے دعا کرے تو میں اس کی دعا قبول کروں، اور کون ہے وہ جو مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کروں۔ اور کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں اسے بخش دوں۔) اس حدیث کو امام بخاری: (6321) اور مسلم : (758) نے روایت کیا ہے۔

2-ایسے خیالات اور اُن کا سبب بننے والے امور سے دور رہیں، جس قدر ممکن ہو سکے اپنے آپ کو عبادت اور اطاعت میں مشغول رکھیں، اسی لیے نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے وسوسوں اور خیالات کے آنے پر فرمایا: (اللہ تعالی سے پناہ طلب کرو اور خیالات کی طرف توجہ نہ دو) اس حدیث کو امام بخاری: (3276) اور مسلم : (134) نے روایت کیا ہے۔ لہذا جب آپ کے دل میں سب و شتم کا خیال آنے لگے ، تو فوری تعوذ پڑھیں اور اللہ تعالی کے ذکر و تسبیح میں مشغول ہو جائیں، بلند آواز سے قرآن کریم کی تلاوت کریں، یا پھر اپنے دوست سے بات چیت میں مشغول ہو جائیں ۔

3-کثرت کے ساتھ اللہ تعالی کا ذکر کریں، خصوصاً استغفار کا اہتمام کریں؛ کیونکہ وسوسے شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں، یا شیطان ان وسوسوں کا سبب بنتا ہے، لیکن جب اللہ تعالی کا ذکر کیا جائے تو شیطان بھاگ جاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيع الْعَلِيمُ ترجمہ: اور شیطان کی طرف سے آپ کو کوئی وسوسہ آئے تو اللہ تعالی کی پناہ حاصل کریں؛ یقیناً وہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔[فصلت: 36]

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ:
"جناتی شیطان جس وقت دل میں وسوسہ ڈالے تو اس کا مقابلہ تعوذ کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے؛ اس لیے شیطان کو پیدا کرنے والی ذات اللہ تعالی کی پناہ حاصل کریں جس نے شیطان کو آپ پر مسلط کیا ہے، لہذا جب آپ اللہ تعالی کی پناہ حاصل کریں گے اور اللہ تعالی سے ہی التجا کریں گے تو اللہ تعالی شیطان کو آپ سے روک دے گا اور اس کی چالبازیاں آپ سے دور کر دے گا۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی جس وقت نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو فرمایا کرتے تھے: أَعُوْذُ بِاللهِ السَّمِيْعِ الْعَلِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهَ وَنَفَثِهِ یعنی: میں سننے والے اور جاننے والے اللہ کی پناہ حاصل کرتا ہوں شیطان مردود سے۔ شیطانی تکبر، اشعار اور جادو سے۔" ختم شد

اسی طرح صحیح مسلم: (2203) میں سیدنا عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ! نماز کے دوران شیطان مجھے تلاوت نہیں کرنے دیتا مجھے بہت زیادہ بھلاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (یہ شیطان ہے اسے خنزب کہا جاتا ہے، جب آپ کو اس کے آنے کا احساس ہو تو اس سے اللہ کی پناہ حاصل کریں، اور اپنی بائیں جانب تین بار تھوکے۔) سیدنا عثمان بن ابو العاص کہتے ہیں: میں نے ایسے ہی کیا تو اللہ تعالی نے اس کیفیت کو ختم فرما دیا۔ ایسے ہی سیدنا یحیی علیہ السلام نے اپنے صحابہ کو وصیت کرتے ہوئے کہا تھا: (میں تمہیں حکما کہہ رہا ہوں کہ: تم اللہ تعالی کا ذکر کرو، اور ذکرِ الہی کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس کا پیچھا دشمن تیزی سے کرے اور وہ ایک مضبوط قلعہ میں پہنچ کر اپنے آپ کو دشمن سے بچا لے ۔ ایسے ہی بندہ اپنے آپ کو شیطان سے اللہ کے ذکر کے بغیر نہیں بچا سکتا۔) اس حدیث کو ترمذی (2863)نے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح ترمذی میں صحیح قرار دیا ہے۔

4- کسی معتمد مسلمان معالج سے رجوع کریں؛ کیونکہ جیسے کہ پہلے بھی گزر چکا ہے کہ یہ ایک بیماری ہے، اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (علاج کرواؤ؛ کیونکہ اللہ تعالی نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی دوا بھی نازل کی ہے، سوائے بڑھاپے کے۔) مسند احمد: ( 17726) ، ابو داود: (3855) ترمذی: (2038) اور ابن ماجہ: (3436)نے اسے روایت کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح ابو داود میں صحیح قرار دیا ہے۔

5-یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ایسی بیماری میں مبتلا شخص اگر زبان سے کچھ نازیبا الفاظ کہہ دیتا ہے تو اس کی پکڑ نہیں ہو گی؛ کیونکہ وہ یہ الفاظ ارادی طور پر نہیں کہتا، نیز اسے خود بھی یہ الفاظ ناگوار گزرتے ہیں، بلکہ اگر وہ صبر کرے اور اللہ تعالی سے اجر کی امید رکھے تو اسے ثواب بھی ملے گا؛ کیونکہ وہ برے خیالات کو اچھا نہیں سمجھتا اور ان برے خیالات سے بچنا چاہتا ہے اس کوشش پر اسے اجر ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام میں سے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور آپ سے استفسار کیا: ہمیں دل میں ایسے خیالات آتے ہیں جنہیں ہم اپنی زبان پر لانا بہت گراں سمجھتے ہیں ! تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (کیا واقعی ایسا تمہارے ساتھ ہو رہا ہے؟) صحابہ کرام نے کہا: بالکل۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (یہی کیفیت واضح ایمان کی علامت ہے۔) مسلم: (132) نے اسے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔

علامہ نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
"یعنی دل میں آنے والے خیالات کو زبان پر نہ لانا اور اسے بہت گراں سمجھنا یہ واضح ایمان کی علامت ہے؛ کیونکہ ان خیالات کے مطابق اپنے نظریات بنانے کی بجائے انہیں اپنی زبان سے بیان کرنے سے ڈرنا اور اسے گراں سمجھنا تبھی ممکن ہے جب ایمان کے تمام اجزا کامل ہوں اور ایمانی امور میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ ہو۔" ختم شد
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (62839 ) اور (25778 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

ہم اللہ تعالی سے آپ کی شفا یابی اور اس بیماری سے عافیت کے دعا گو ہیں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب