سوموار 11 جمادی اولی 1444 - 5 دسمبر 2022
اردو

ایسی کون سی مشقت ہے جس کی وجہ سے بیٹھ کر نماز ادا کرنا جائز ہے؟

سوال

مریض کے لیے کس وقت بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہو جاتا ہے؟ کیونکہ ایک مریض ایسا ہے کہ وہ کھڑے ہو کر نماز تو ادا کر سکتا ہے لیکن اسے بہت زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

پہلے سوال نمبر: (50684 ) کے جواب میں گزر چکا ہے کہ قیام فرض نماز کا رکن ہے، اس لیے اگر کوئی کھڑے ہو کر قیام کی استطاعت رکھتا ہو تو اس کی بیٹھ کر نماز صحیح نہ ہو گی، تاہم کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا بھی ایسے دیگر واجبات کی طرح ہے جو عذر کی صورت میں ساقط ہو جاتے ہیں۔

جیسے کہ امام نووی رحمہ اللہ "المجموع": (4/201) میں کہتے ہیں:
"امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص بھی فرض نماز میں کھڑے ہو کر قیام کرنے سے قاصر ہو تو وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے گا، اور اس پر دوبارہ نماز ادا کرنا لازم نہیں ہے۔ ہمارے فقہائے کرام کا کہنا ہے کہ: ایسے شخص کی بیٹھ کر ادا کی گئی نماز کا ثواب بھی کھڑے ہو کر ادا کی گئی نماز سے کم نہیں کیا جائے گا؛ کیونکہ اس شخص نے عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز ادا کی ہے۔ اور ویسے بھی صحیح بخاری میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جس وقت بندہ بیمار ہو یا سفر میں ہو تو اس کے لیے عمل اتنا ہی لکھا جاتا ہے جتنا وہ تندرستی اور مقیم ہونے کی حالت میں کرتا تھا۔)" ختم شد

جس عذر کی وجہ سے قیام معاف ہو جاتا ہے اور بیٹھ کر نماز ادا کرنا جائز ہو جاتا ہے وہ یہ ہے:

1- کھڑے ہونے کی طاقت ہی نہ ہو۔

2- کھڑے ہونے سے بیماری میں اضافے کا امکان ہو۔

3- کھڑے ہونے کی وجہ سے شفا یابی میں تاخیر کا امکان ہو۔

4- کھڑے ہونے کی وجہ سے اتنی زیادہ تکلیف ہو کہ خشوع ہی ختم ہو جائے، لیکن اگر تکلیف اس سے کم ہو تو پھر بیٹھنا جائز نہیں ہو گا۔

اس کی دلیل صحیح بخاری: (1117) میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : مجھے بواسیر کی شکایت تھی، تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے نماز کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (کھڑے ہو کر نماز ادا کرو، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر ، اور اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز ادا کر لو۔)

اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے الفاظ: "اگر اس کی طاقت نہ ہو تو" سے ان علمائے کرام نے دلیل اخذ کی ہے جو کہتے ہیں کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے کی سہولت اس وقت میسر ہو گی جب کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو، اس بات کو قاضی عیاض رحمہ اللہ نے امام شافعی سے بیان کیا ہے۔ جبکہ امام مالک، امام احمد، اور اسحاق رحمہم اللہ کہتے ہیں: بیٹھ کر نماز پڑھنے کے لیے عدم استطاعت شرط نہیں ہے بلکہ تکلیف ہونا شرط ہے۔ تاہم شافعی فقہائے کرام کے ہاں عدم استطاعت کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ قیام کرنے کی صورت میں شدید تکلیف ہو، یا بیماری میں اضافے کا خدشہ ہو، یا موت کا اندیشہ ہو، چنانچہ معمولی مشقت کافی نہیں ہو گی۔ چنانچہ شدید تکلیف میں یہ بھی شامل ہو گا کہ کشتی کا مسافر کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے کی وجہ سے سر چکرانے، یا پانی میں گر کر ڈوبنے کا خدشہ رکھتا ہو ۔۔۔ ۔
جمہور کے موقف کی تائید سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طبرانی میں موجود روایت سے بھی ہوتی ہے کہ : (کھڑے ہو کر نماز ادا کرے، اگر کھڑے ہونے سے تکلیف ہو تو بیٹھ کر نماز ادا کرے، اور اگر بیٹھ کر بھی تکلیف ہو تو لیٹ کر نماز ادا کرے۔)" ختم شد
ماخوذ از: فتح الباری

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی ذکر کردہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہیثمی رحمہ اللہ نے "مجمع الزوائد" (2897) میں ذکر کی اور کہا:
"اس روایت کو امام طبرانی نے معجم الاوسط میں بیان کیا ہے اور کہا: اس روایت کو ابن جریج رحمہ اللہ سے صرف حلس بن محمد ضبعی نے روایت کیا ہے اور مجھے حلس کے حالات زندگی نہیں مل سکے، حلس کے علاوہ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔" ختم شد

ابن قدامہ رحمہ اللہ "المغنی" (1/443)میں کہتے ہیں:
"اگر نمازی کے لیے قیام کرنا ممکن ہو، لیکن اس کی وجہ سے بیماری میں مزید اضافے کا امکان ہو، یا شفا یابی میں تاخیر ممکن ہو ، یا بہت زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو پھر اس کے لیے بیٹھ کر نماز ادا کرنا جائز ہے۔ یہی موقف امام مالک اور اسحاق نے اپنایا ۔۔۔ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ 
ترجمہ: اور اس نے تم پر دینی معاملات میں کوئی تنگی نہیں بنائی۔[الحج: 78]
اب مذکورہ صورت حال میں قیام لازم کرنا تنگی کا باعث ہے۔
مزید برآں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی بیٹھ کر نماز ادا کی تھی جب آپ کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا تھا، اور یہاں یہ واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کلی طور پر قیام کرنے سے عاجز نہیں تھے، لیکن چونکہ آپ کے لیے کھڑے ہونا تکلیف کا باعث تھا تو اس حالت میں قیام معاف ہو گیا۔" ختم شد

اسی طرح امام نووی رحمہ اللہ "المجموع": (4/201) میں کہتے ہیں:
"ہمارے فقہائے کرام کا کہنا ہے کہ: اس صورت میں مکمل طور پر قیام سے عاجز آنا شرط نہیں ہے، اور نہ ہی معمولی سی مشقت بیٹھ کر نماز پڑھنے کا عذر بن سکتی ہے، بلکہ بالکل واضح تکلیف بیٹھ کر نماز پڑھنے کا عذر بنے گی، اگر نمازی کو شدید تکلیف ، یا مرض میں اضافے، یا اسی طرح کے کسی منفی نتیجے کا خدشہ ہو ، یا کشتی کے مسافر کا کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے کی وجہ سے سر چکرائے، یا پانی میں گر کر ڈوبنے کا خدشہ ہو تو وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے گا، اور اسے دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔ امام الحرمین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ بیٹھ کر نماز ادا کرنے کا عذر بننے والی تکلیف ایسی تکلیف ہے جس سے خشوع ختم ہو جائے؛ کیونکہ خشوع نماز کا اصل ہدف اور مقصود ہے۔" ختم شد

جس موقف کو امام الحرمین نے اختیار کیا ہے اسی کو شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے راجح قرار دیا ہے؛ کیونکہ آپ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ایسی تکلیف کے لیے ضابطہ یہ ہے کہ جس سے خشوع زائل ہو جائے، اور خشوع حاضر قلبی اور اطمینان کا نام ہے، چنانچہ اگر کسی شخص کو کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے سے اتنی زیادہ تکلیف ہو کہ نمازی تمنا کرنے لگے کہ جلدی سے سورت فاتحہ ختم ہو جائے اور وہ رکوع کر لے تو یہ شخص سخت تکلیف کا سامنا کر رہا ہے، یہ شخص بیٹھ کر نماز ادا کرے گا۔" ختم شد
"الشرح الممتع" (4/326)

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب