جمعہ 6 محرم 1446 - 12 جولائی 2024
اردو

توحید ربوبیت کا تعارف اور اس کے منکرین

سوال

توحید ربوبیت کسے کہتے ہیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

توحید ربوبیت کا مطلب یہ ہے کہ: اللہ تعالی کو اللہ تعالی کے افعال مثلاً: تخلیق، ملکیت، کائنات کا انتظام و انصرام، رزق عطا کرنا، زندہ کرنا اور مارنا، بارش نازل کرنا وغیرہ دیگر لا محدود کاموں کے کرنے میں یکتا اور منفرد سمجھنا، چنانچہ انسان اس وقت تک موحد بن ہی نہیں سکتا جب تک یہ اقرار نہ کرے کہ اللہ تعالی ہر چیز کا رب ، مالک، خالق اور رازق ہے۔ وہی زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے، وہی نفع پہچانے والا ہے اور وہی نقصان پہنچانے والا ہے، وہی تن تنہا دعائیں قبول فرماتا ہے، تمام امور اسی کے کنٹرول میں ہیں، اسی کے ہاتھ میں ساری خیر ہے، وہ جو چاہے کرنے پر قادر ہے، اسی طرح توحید ربوبیت میں اچھی بری تقدیر پر ایمان بھی شامل ہے۔

توحید کی اس قسم سے ان مشرکوں نے بھی اختلاف نہیں کیا تھا جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو بھیجا گیا تھا، وہ مشرک بھی اجمالی طور پر اس توحید ربوبیت کے قائل تھے، جیسے کہ اللہ تعالی نے ان کے بارے میں فرمایا:
وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ 
ترجمہ: اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ تو وہ ضرور کہیں گے: انہیں غالب اور جاننے والی ذات نے پیدا کیا ہے۔[الزخرف: 9]
تو معلوم ہوا کہ وہ مشرکین بھی اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالی ہی تمام معاملات کو چلانے والا ہے، وہی ذات ہے جس کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ پھر اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ محض اللہ تعالی کے رب ہونے کا اقرار بندے کے مسلمان ہونے کے لیے ناکافی ہے، چنانچہ مسلمان ہونے کے لیے توحید ربوبیت کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی لازم ہے اور وہ ہے توحید الوہیت یعنی اقرار ربوبیت کے بعد عبادت بھی صرف ایک اللہ ہی کی کی جائے۔

بنی آدم میں سے کوئی ایسا شخص علم میں نہیں آ سکا جس نے توحید ربوبیت کا انکار کیا ہو، چنانچہ مخلوق میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ: اس کائنات کو پیدا کرنے والے دو یکساں خالق ہیں۔ اس لیے یہ بات واضح ہے کہ کسی نے بھی توحید ربوبیت کا انکار نہیں کیا؛ البتہ ملعون فرعون نے غرور اور ضد کرتے ہوئے ربوبیت کا دعوی کیا تھا، اللہ تعالی نے اس کا جھوٹا دعوی ذکر کرتے ہوئے فرمایا: فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى ترجمہ: فرعون نے کہا: میں تمہارا بڑا رب ہوں۔[النازعات: 24] اسی طرح ایک اور جگہ پر فرعون کی بات ذکر کی اور فرمایا: مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرِي ترجمہ: مجھے تمہارے لیے اپنے علاوہ کسی معبود کا علم نہیں ہے۔[القصص: 38] یہ دعوی محض عناد کی وجہ سے تھا کیونکہ آل فرعون کو بھی پتہ تھا کہ فرعون رب نہیں ہے، اللہ تعالی نے یہ بات بھی ذکر کی اور فرمایا: وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ترجمہ: انہوں نے ظلم اور تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان آیات کا انکار کیا حالانکہ ان کے دل ان پر مکمل یقین کر چکے تھے۔[النمل: 14] اسی طرح اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ السلام کی فرعون سے مناظرانہ گفتگو بیان کرتے ہوئے فرمایا: لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنْزَلَ هَؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ترجمہ: فرعون تو جان چکا ہے کہ یہ نشانیاں صرف آسمانوں اور زمین کے رب نے ہی نازل کی ہیں۔[بنی اسرائیل: 102] ، یعنی فرعون خود بھی اندرونی طور پر اس بات کا اقرار کرتا تھا کہ رب صرف اللہ تعالی کی ذات ہے۔

غیر اللہ کو اللہ کا شریک بناتے ہوئے مجوسیوں نے بھی توحید ربوبیت کا انکار کیا، مجوسیوں کا کہنا ہے کہ: اس کائنات کے دو الہ ہیں اندھیرا اور اجالا، تاہم انہوں نے ان دونوں کو یکساں قرار نہیں دیا، کیونکہ مجوسی بھی یہ کہتے ہیں کہ اجالا اندھیرے سے بہتر ہے؛ کیونکہ اجالا خیر کو پیدا کرتا ہے، اور اندھیرا برائی کو پیدا کرتا ہے، اور خالقِ خیر؛ خالقِ شر سے بہتر ہے، اسی طرح ان کے ہاں اندھیرا محض عدم ہے یعنی اندھیرا روشن نہیں ہوتا، جب کہ اجالا وجود ہے یعنی اجالا روشن ہوتا ہے اس لیے اجالا فی نفسہ کامل ہے۔

ان تفصیلات کے بعد: مشرکین کے توحید ربوبیت کے اقرار کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ انہوں نے توحید ربوبیت کا اقرار کر کے مکمل طور پر عقیدہ توحید اپنا لیا تھا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے توحید ربوبیت کا اجمالی طور پر اقرار کیا تھا جیسے کہ مندرجہ بالا آیات میں ان کے بارے میں اجمالی طور پر اللہ تعالی نے وضاحت فرمائی ہے؛ ساتھ ہی یہ بھی کہ مشرکین ایسے کاموں میں ملوث ہو جاتے تھے جن سے توحید ربوبیت میں خلل اور کمی پیدا ہوتی تھی، مثلاً: وہ لوگ بارش نازل ہونے کی نسبت تاروں کی طرف کرتے تھے، مشرکین یہ سمجھتے تھے کہ کاہن اور جادو گر غیب جانتے ہیں اسی طرح ربوبیت میں شرک کی اور بھی صورتیں ان میں پائی جاتی تھیں لیکن یہ صورتیں توحید الوہیت میں شرک کی بہ نسبت بہت ہی تھوڑی تھیں، یعنی مشرکین توحید الوہیت میں بہت زیادہ شرک کے مرتکب ہوتے تھے۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھے ۔

واللہ اعلم

مزید کے لیے دیکھیں: (تیسیر العزیز الحمید: /33 ، اور اسی طرح : القول المفيد 1/ 14)

ماخذ: الاسلام سوال و جواب