بدھ 24 شوال 1443 - 25 مئی 2022
اردو

کار ٹھیک کروانے کے بعد انشورنس کمپنی نے قسط کی مقدار بڑھا دی تو اس کمپنی کو چھوڑنے کا کیا حکم ہے؟

سوال

ہمارے ہاں جرمنی میں گاڑیوں کی انشورنس کروانا لازمی ہے، میں انشورنس کے بغیر گاڑی نہیں چلا سکتا، گزشتہ سال مجھ سے گاڑی کا حادثہ ہو گیا تھا اور اس حادثے میں دوسری گاڑی کے نقصان کا ذمہ دار بھی میں تھا، میری انشورنس کمپنی نے دوسری گاڑی کی مکمل طور پر مرمت کروائی اور اس کے بعد مجھے بتلایا گیا کہ انشورنس کمپنی کی جانب سے قسط کی مقدار میں اضافہ کیا جا رہا ہے؛ کیونکہ میں حادثے کا سبب بنا تھا، تو اس صورت میں میرے لیے کیا حکم ہے کہ میں اپنی انشورنس کمپنی تبدیل کر لوں جس کی اقساط پہلی کمپنی سے سستی ہوں۔

الحمد للہ.

اول:

کمرشل انشورنس حرام ہے۔

کمرشل انشورنس دھوکے اور جوے پر مبنی ہوتی ہے، چنانچہ کمرشل انشورنس کی تمام تر صورتیں حرام ہیں، جیسے کہ پہلے سوال نمبر: (8889 ) اور (130761) کے جواب میں گزر چکا ہے۔

لیکن جب کسی کو انشورنس کروانے پر مجبور کر دیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، گناہ اسی پر ہو گا جس نے انشورنس لازمی قرار دی ہے۔

دوم:

معاہدے کی مدت کے دوران انشورنس کمپنی قسط میں اضافہ نہیں کر سکتی۔

انشورنس کا معاہدہ ایک محدود مدت کے لیے ہوتا ہے، اور انشورنس کروانے والے کی رغبت پر اس کی تجدید بھی ہو سکتی ہے، لیکن انشورنس کمپنی قسط کی مقدار میں معاہدے کی مدت کے دوران اضافہ نہیں کر سکتی، البتہ تجدید کے وقت اضافہ کیا جا سکتا ہے اور اس صورت میں انشورنس کروانے والا شخص اختیار رکھتا ہے کہ وہ تجدید کروائے یا کمپنی تبدیل کر لے۔

چنانچہ اگر انشورنس کے معاہدے کی مدت ایک سال ہو، اور انشورنس کی اقساط ہر ماہ ادا کی جائیں تو کسی بھی کمپنی کے لیے دوران معاہدہ قسط کی مقدار میں اضافہ کرنے کا حق نہیں ہے، اگر کوئی کمپنی ایسا کر دے اور آپ کے لیے کمپنی سے نکلنا ممکن ہو تو یہ آپ کے لیے جائز ہے۔

انشورنس کی قسط زیادہ کرنے کی یہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ انشورنس ہولڈر کار حادثے کا باعث بنا ہے؛ کیونکہ انشورنس کی بنیاد ہی یہی چیز ہے، انشورنس کمپنیاں حادثات ہی کی تو ذمہ داری ہوتی ہیں اور مرمت کے اخراجات برداشت کرتی ہیں، اور بچنے والی رقم کو منافع شمار کرتی ہے، تو اگر انشورنس ہولڈر شخص حادثے کا سبب بن بھی گیا ہے تو کون سی نئی بات ہوئی ہے؟ اسی چیز کے لیے انشورنس کمپنی بنائی گئی ہے!؟

خلاصہ کلام:

انشورنس کی مدت کے دوران قسط کی مقدار بڑھائی جائے تو انشورنس ہولڈر کے لیے اسے قبول کرنا لازمی نہیں ہے ؛ اگر اسے قبول کرنے پر مجبور کیا جائے اور وہ اس انشورنس کمپنی کی رکنیت سے نکل سکتا ہو تو اپنے مال کو بچانے کے لیے اس کی رکنیت چھوڑ دے۔

اور اگر کوئی انشورنس کمپنی اپنے معاہدے میں یہ چیز شامل کر لیتی ہے کہ اگر کوئی ممبر شپ ہولڈر معاہدے کی مدت کے دوران حادثے کا باعث بن جاتا ہے تو مخصوص مقدار میں قسط میں اضافہ کر دیا جائے گا، تو یہ انشورنس میں موجود دھوکے اور سود میں مزید اضافے کا باعث ہو گا، انشورنس ہولڈر کے لیے اس شرط کو پورا کرنا ضروری نہیں ہے، چنانچہ اگر حادثہ ہو بھی جائے تو کمپنی چھوڑنے کی صلاحیت رکھنے پر کمپنی چھوڑ دے؛ کیونکہ یہ فاسد شرط ہی ایسے فاسد معاہدے میں ہے جس میں شمولیت ہی مجبوری کی بنا پر کی گئی تھی۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب