جمعرات 7 ذو الحجہ 1445 - 13 جون 2024
اردو

دوران نماز عورت کے دوپٹے کے سوراخوں سے بالوں کا ظاہر ہونا

سوال

میں جب بھی نماز پڑھتی ہوں تو اپنے بالوں کو نماز کے لیے مختص لباس میں اچھی طرح ڈھانپ لیتی ہوں، لیکن بسا اوقات جب میں اپنے سر کی پچھلی جانب ہاتھ لگاتی ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے سر کے بال کانٹوں کی طرح  باہر نکلے ہوئے ہوتے ہیں، تو کیا ایسی صورت میں میری نماز صحیح ہے یا باطل ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

جمہور علمائے کرام کے ہاں مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں طور پر نماز میں ستر کو ڈھانپنا نماز کے صحیح ہونے کے لیے شرط ہے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (1046 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔  

نمازی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے مکمل تیاری کرے، اور ایسا لباس پہنے جس سے ستر چھپ جائے، اور ایسے لباس سے بچے جس سے دوران نماز ستر کھلنے کا خدشہ ہو۔

عورت کے بالوں کو ڈھانپ کر رکھنا ضروری ہے، اسی طرح چہرہ اور ہتھیلیوں کے علاوہ سارے جسم کو نماز میں ڈھانپنا لازمی ہے، اس لیے عورت اپنے تمام بالوں کو چادر سے ڈھانپنے کا خصوصی اہتمام کرے گی کہ نہ تو بال باہر آئیں اور نہ ہی کپڑا اتنا باریک ہو کہ اندر سے بال نظر آئیں، اسی طرح چادر میں سوراخ بھی اتنے بڑے نہ ہوں کہ جن سے بال باہر نکلیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی صحیح حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اللہ تعالی کسی بالغ لڑکی کی نماز چادر کے بغیر قبول نہیں فرماتا) ابو داود: (546)، نیز اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابو داود (596)میں صحیح قرار دیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر عورت اکیلے بھی نماز پڑھے تو اسے سر ڈھانپنے کا حکم ہے، ۔۔۔ چنانچہ معلوم ہوا کہ نمازی کو نماز کے دوران بسا اوقات ایسی چیز کو ڈھانپنے کا حکم بھی ہوتا ہے جو غیر نماز میں کھلی رکھنا جائز ہے۔" ختم شد
"مجموع الفتاوى" (22 /109)

دوم:

اگر چادر وغیرہ کے باریک مساموں سے بال باہر نکل بھی آئیں تو اس سے نماز باطل نہیں ہو گی؛ کیونکہ یہ بہت معمولی مقدار میں ہیں، اور جمہور اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ دوران نماز معمولی ستر عیاں ہو جائے تو یہ قابل معافی ہے۔

جیسے کہ ابن قدامہ رحمہ اللہ "المغنی"  (2/ 287)میں کہتے ہیں:  
"اگر معمولی سا ستر کھل جائے تو اس کی نماز باطل نہیں ہو گی، امام احمد نے اس کی صراحت کی ہے اور اسی کے امام ابو حنیفہ قائل ہیں ۔۔۔" ختم شد

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ "مجموع الفتاوى" (22/ 123) میں کہتے ہیں:
"اگر عورت کے بالوں یا جسم میں سے کچھ معمولی سا عیاں ہو جائے تو اسے دوبارہ نماز ادا نہیں کرنی ہو گی۔ اکثر اہل علم کا یہی موقف ہے  اور اسی کے ابو حنیفہ اور احمد قائل ہیں۔" ختم شد

ایسے ہی "كشاف القناع" (1/269) میں ہے کہ:
"غیر ارادی طور پر معمولی ستر کھلنے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔۔۔ چاہے معمولی ستر کافی لمبے وقت تک کے لیے کھلا رہے۔" ختم شد

اگر عیاں ہونے والے بال بہت زیادہ ہیں تو اس کی کچھ صورتیں ہیں:

پہلی صورت: عورت کو نماز کے بعد علم ہو  تو ایسی صورت میں  نماز باطل نہیں ہو گی۔

دوسری صورت: عورت کو دوران نماز علم ہو اور فوری بالوں کو ڈھانپ لے تو تب بھی نماز باطل نہیں ہو گی۔

جیسے کہ "المجموع شرح المهذب" (4/ 76) میں ہے کہ:
"اگر ہوا کی وجہ سے ستر کھل جائے اور نمازی فوری ستر ڈھانپ لے تو اس کی نماز باطل نہیں ہو گی؛ کیونکہ یہاں اس کا عذر قابل قبول ہے، اس لیے نماز منقطع نہیں ہو گی۔" ختم شد

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر بہت زیادہ ستر کھل جائے اور فوری اسے ڈھانپ لے تو نماز باطل نہیں ہو گی۔ اس کی صورت یوں بنے گی کہ: اگر نمازی رکوع کی حالت میں ہو اور ہوا چلنے سے ستر کھل جائے  اور فوری اسے ڈھانپ لے  تو مؤلف کی گفتگو سے محسوس ہوتا ہے کہ نماز باطل ہو جائے گی، لیکن صحیح یہ ہے کہ نماز باطل نہیں ہو گی؛ کیونکہ اس نے فوری ڈھانپ لیا ہے، اور جان بوجھ کر ستر نہیں کھولا، فرمانِ باری تعالی ہے:  فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ  ترجمہ: حسب استطاعت اللہ کے احکامات پر عمل کرو۔[التغابن:16]  " ختم شد
"الشرح الممتع" (2/75)

تیسری صورت:  عورت کو علم بھی ہو جائے اور پھر بھی ستر نہ ڈھانپے تو ایسی صورت میں نماز باطل ہو جائے گی اور اسے دوبارہ نماز ادا کرنا ہو گی۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ "مجموع الفتاوى" (22/ 123) میں کہتے ہیں:
"اگر بہت زیادہ ستر کھل جائے  تو ائمہ اربعہ سمیت اکثر اہل علم کے ہاں اسی وقت نماز کا اعادہ کرے گی، واللہ اعلم" ختم شد

سوال میں جس کیفیت کا ذکر کیا گیا ہے تو یہ معمولی سے بال تھے ان سے نماز باطل نہیں ہوتی۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب