سوموار 27 ذو القعدہ 1443 - 27 جون 2022
اردو

eBayپر فروخت کے لیے ایسی چیز پیش کرنے کا حکم جو پہلے سے ہی Amazon پر موجود ہے، اسے صارفین کو ڈراپ شپنگ (Dropshiping)کے ذریعے فروخت کرنا۔

289386

تاریخ اشاعت : 03-03-2022

مشاہدات : 474

سوال

میں اس حدیث سے بخوبی واقف ہوں جس میں اس چیز کو بیچنے سے منع کیا گیا ہے جو آپ کے پاس نہیں ہے، اور میں نے اس موضوع کے تمام جوابات آپ کی ویب سائٹ پر پڑھے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ جس نے بھی اس کے بارے میں پوچھا اس نے اس مسئلے کی صحیح وضاحت نہیں کی۔ اس لیے میں اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لیے اس بارے میں سب کچھ بیان کروں گا، چنانچہ اگر پھر بھی حرام ہوا تو میں اسے چھوڑ دوں گا۔ مثلاً: ڈراپ شپنگ (Dropshiping) کے لیے ایک Amazon ایمیزون نامی ایک آن لائن اسٹور ہے، جس پر لوگ حقیقی معنوں میں اپنی مصنوعات فروخت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کپڑے فروخت کرنے والا شخص ہے ۔ تو دوسری طرف ای بے eBay نامی ایک اور آن لائن اسٹور ہے، یہ اسٹور بھی اپنی اشیا فروخت کرنے کی اجازت دیتا ہے، جیسے کہ پہلی ویب سائٹ اجازت دیتی ہے، لیکن دوسری ویب سائٹ کے گاہک زیادہ ہیں اور اس پر لوگوں کی توجہ بہت ہے۔ اس لیے ڈراپ شپنگ (Dropshiping)کی صورت میں، کوئی شخص دوسری ویب سائٹ پر اپنے لیے ایک اسٹور کھول لیتا ہے، جو پہلی ویب سائٹ پر موجود لباس کو تھوڑی زیادہ قیمت پر فروخت کے لیے پیش کر سکتا ہے۔ جب کوئی گاہک کوئی چیز خریدتا ہے تو میں اس کے پیسے لے کر Amazon سے کپڑے خریدتا ہوں، اور انہیں براہ راست گاہک کے پتے پر بھیج دیتا ہوں، پھر قیمت میں آنے والا فرق خود رکھ لیتا ہوں۔ یہاں تک تو معاملہ حرام ہے ۔ لیکن اب میں وہ نکتہ بیان کرنا چاہتا ہوں جو اس مسئلے پر حتمی فیصلہ دینے میں مدد گار ہو سکتا ہے: جب گاہک ادائیگی کرتا ہے تو میں اس رقم کو حاصل نہیں کر پاتا کہ میں اس کی رقم سے مطلوبہ سامان خرید سکوں، تمام مشائخ یہی سمجھتے ہیں کہ یہ ایسے ہوتا ہے۔ حالانکہ رقم ویب سائٹ کے پاس ہی رہتی ہے، اور ابتدا میں پہلی ویب سائٹ سے اپنے پیسے سے سامان خریدتا ہوں، اور اسے خریدار کو بھیج دیتا ہوں۔ جب یہ اس تک پہنچتا ہے تو مجھے وہ رقم ملتی ہے جو گاہک نے ویب سائٹ پر بھیجی تھی۔ مثال کے طور پر، ایمیزون پر دس ڈالر میں ایک جیکٹ ہے، اور میں اسے ای بے eBay پر بارہ ڈالر میں رکھتا ہوں۔ ایک گاہک ای بے eBay پر جا کر جیکٹ پسند کر لیتا ہے، اور وہ اسے بارہ ڈالر میں خریدتا ہے، لیکن میں یہ رقم ویب سائٹ سے اس وقت تک نہیں نکال سکتا جب تک کہ ڈیل ہو جائے اور گاہک کو جیکٹ نہ مل جائے۔ اس لیے میں جیکٹ اپنے پیسے سے خریدتا ہوں، جس کا مطلب ہے کہ میں اس کا مالک بن جاتا ہوں، اور میں اسے براہ راست خریدار کے پتے پر بھیج دیتا ہوں۔ جب یہ اس تک پہنچتا ہے تو سودا ہو جاتا ہے۔ اس طرح یہ رقم میرے لیے ای بے eBay میں موجود رہتی ہے، لیکن خریدار کے حقوق کے تحفظ کے لیے میں اسے ایک ہفتے کے بعد ہی لے سکتا ہوں، تاکہ گاہک کو موقع دیا جائے کہ وہ چاہے تو چیز واپس کر دے۔ یہ طریقہ کار گاہک کو دھوکا دہی سے بچانے کے لیے مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کیا اس طریقے سے لین دین کرنا حلال ہے یا حرام؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

کسی کے لیے غیر موجود چیز فروخت کرنا جائز نہیں، صرف بیع سلم (آرڈر پر کسی چیز کو بنوانا) میں جائز ہے۔

اور ہم سوال نمبر : (259320)کے جواب میں وضاحت کر آئے ہیں کہ جب تک رقم آن لائن مڈل مین کے پاس موجود ہے اور آپ اسے نہیں لے سکتے تو بیع سلم بھی درست نہیں ہے، کیونکہ بیع سلم کے درست ہونے کی شرط یہ ہے کہ رقم معاہدے کی نشست کے دوران مکمل وصول کر لی جائے۔ اس کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اگر رقم آپ کے اکاؤنٹ میں جمع ہو جائے اور آپ اسے براہ راست نکال سکیں۔ لیکن سوال میں بیان کردہ لین دین میں ایسا نہیں ہے۔

مطالب اولی النھی: (3/20) میں ہے کہ : دکاندار کے پاس کوئی معین چیز نہ ہو تو اس کی فروخت جائز نہیں ہے یا اسے بیچنے کی اجازت نہیں دی گئی، کیونکہ حکیم بن حزام کی مرفوع حدیث ہے: وہ چیز نہ بیچو جو تمہارے پاس نہیں ہے۔" اسے ابن ماجہ اور ترمذی نے روایت کیا ہے، اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔

تاہم اگر کسی چیز کی صفات بیان کر دی گئیں ہیں معین نہیں کی گئی، تو اس میں بیع سلم جائز ہے؛ کیونکہ اس صورت میں وہ تصرف کر سکتا ہے کہ جب وہ مجلس عقد میں اس چیز کو اپنے قبضے میں لے لے گا یا اس چیز کی قیمت وصول کرے گا۔ اگر اس وقت اس نے وہ چیز حاصل نہ کی ہو یا پوری قیمت وصول نہ کی ہو تو یہاں بیع سلم بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ قرض کے بدلے بیچنے کے مترادف ہے جو کہ منع ہے" ختم شد

اس بنا پر جو چیز سوال میں مذکور ہے اس کے مطابق آپ کے لیے اس چیز کو بیچنا جائز نہیں ہے جس پر آپ نے ابھی تک قبضہ نہیں کیا ۔

جس چیز کا مالک نہ ہو اسے بیچنے کی ممانعت کی بنیادی دلیل سنن نسائی (4613)، ابو داود (3503) اور ترمذی (1232) نے حکیم بن حزام سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میرے پاس ایک آدمی آ کر مجھے کوئی ایسی چیز فروخت کرنے کا کہتا ہے جو میرے پاس نہیں ۔ کیا میں اس کے ساتھ سودا کروں پھر جا کر اس کے لیے بازار سے خرید لوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اسے نہ بیچو) اس حدیث کو البانی نے صحیح نسائی میں صحیح قرار دیا ہے۔

دوم:

انٹرنیٹ پر غیر مملوکہ چیز کو فروخت کرنے کے لیے دو طریقے ہو سکتے ہیں:

پہلا طریقہ:

خریداری کا آرڈر کرنے والے کے لیے منافع رکھ کر خریداری کرنا۔ اس صورت میں یہ ہو گا کہ آپ مطلوبہ چیز کے خریدار سے معاہدہ کریں کہ آپ اس کے لیے یہ چیز خرید رہے ہیں اور اس پر مخصوص تناسب سے نفع لیں گے۔ اس صورت میں یہ صرف ایک وعدہ ہو گا جو کسی بھی فریق پر لازم نہیں ہو گا، لہذا کامل بیع بھی نہیں ہے۔

تاہم اس صورت میں آپ کو یہ حق نہیں ہے کہ آپ مکمل قیمت، یا اس کا کچھ حصہ پہلے سے بطور ضمانت لیں کہ وہ سنجیدہ خریدار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مطلوبہ چیز خریدنے سے پہلے گاہک سے یہ رقم لینا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کے درمیان معاہدہ محض بیع کا وعدہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک پختہ عزم ہے، اور یہ رقم در حقیقت اس عزم کی تصدیق اور ضمانت کے لیے ہے۔

یہ اس شرط کے خلاف ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے کہ بیع کا وعدہ دونوں فریقوں یا ان میں سے کسی ایک پر لازم نہیں ہونا چاہیے۔

اس کی وضاحت پہلے سوال نمبر: (229091 )کے جواب میں بھی بیان ہو چکی ہے۔

یہ بھی شرط ہے کہ گاہک کے ساتھ معاہدہ کرنے سے پہلے آپ کو چیز خریدنی چاہیے اور اسے اپنے قبضے میں لینا چاہیے۔

لہذا جب آپ نے وہ چیز خرید لی اور اس پر قبضہ کر لیا تو آپ کے لیے اسے گاہک کو بیچنا جائز ہے۔

ہم نے شرط لگائی کہ تم اس پر قبضہ کر لو، کیونکہ حکیم بن حزام کی حدیث کے بعض الفاظ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: " جب تم کوئی چیز خریدو تو اسے فروخت نہ کرو جب تک کہ تم اس پر قبضہ نہ کر لو۔" اسے احمد (15399) اور نسائی (4613) نے روایت کیا ہے۔ البانی نے صحیح الجامع: (342) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

نیز امام دارقطنی اور ابوداود (3499) نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی چیز کو خریدی ہوئی جگہ پر بیچنے سے منع فرمایا، یہاں تک کہ تاجر اسے اپنے گھر میں منتقل کر لیں۔ اس حدیث کو البانی نے صحیح ابو داود میں حسن قرار دیا ہے۔

اس بنا پر، یہ آپ کے لیے درست نہیں ہے کہ آپ ایمیزون سے گاہک کو مطلوبہ چیز بھیجنے کا کہیں۔ بلکہ آپ پہلے اسے ایمیزون Amazon سے وصول کریں ، یا آپ کا نمائندہ اس چیز کو آپ کی طرف سے وصول کرے، پھر اس کے بعد آپ اسے کسٹمر کو فروخت کر سکتے ہیں۔

دوسرا طریقہ: فیس کے بدلے میں بطور نمائندہ کام کریں۔

اس صورت میں آپ صارفین کی جانب سے ایک ایجنٹ کے طور پر کام کریں، ان کے لیے وہ مصنوعات خریدیں جو ایمیزون پر دستیاب ہیں، اور ان کی قیمت وہی ہو جو ویب سائٹ پر بیان کی گئی ہے اس میں اضافہ نہیں کریں گے، تاہم اپنی محنت کا عوض بطور کمیشن لیں گے، یہاں یہ شرط ہے کہ آپ پروڈکٹ کو گاہک کے پیسوں سے خریدیں گے، اپنے پیسوں سے نہیں۔

اس صورت میں یہ شرط نہیں ہو گی کہ پہلے آپ چیز خریدیں یا پہلے اسے اپنے قبضے میں لیں، بلکہ آپ براہ راست گاہک کے لیے ہی چیز خریدیں گے، اور ایمیزون وغیرہ سے کہیں کہ وہ گاہک کی طرف پارسل کر دے۔

لیکن در حقیقت گاہک کی جانب سے ادا کردہ رقم ویب سائٹ کے پاس ہی رہتی ہے اور آپ اپنے ذاتی پیسوں سے مطلوبہ چیز خریدتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ آپ جو قیمت ادا کرتے ہیں وہ آپ کی ذاتی رقم ہے، اور وہ آپ کی طرف سے گاہک کو قرض کے طور پر دی گئی ہے، اور شریعت میں بیک وقت قرض خواہ بننا اور معاوضہ لیکر نمائندگی کرنا منع ہے۔ اس لیے کہ جمہور فقہائے کرام کے ہاں قرض اور معاوضہ لے کر کوئی کام کرنا دونوں کو بیک وقت جمع نہیں کیا جا سکتا۔

مقرر نفع کی بنیاد پر کاروبار کرنے کے بارے میں اسلامی فقہ اکادمی کی قرارداد میں کہا گیا:

"دوم: اگر مڈل مین گاہک پر یہ شرط لگائے کہ وہ اسی کے ذریعے تجارت کرے، تو اس سے قرض اور دلالی یک جا ہو جائے گی، جو کہ قرض کو لین دین کے ساتھ جمع کرنے کے تحت آتا ہے، اور یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ممنوع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرض کو خریدوفروخت کے ساتھ ملانا جائز نہیں۔“ اس حدیث کو ابوداؤد (3/384) اور ترمذی (3/526) نے روایت کیا ہے۔ نیز امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔

اس طرح دلال اپنے قرض سے فائدہ اٹھائے گا اور فقہا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کوئی بھی قرض جو فائدہ پہنچاتا ہو سود کے تحت آتا ہے جو کہ حرام ہے" ختم شد

مندرجہ بالا تفصیلات کی روشنی میں: صرف پہلا طریقہ ہی اپنی تمام شرائط وضوابط کے ساتھ ایسا طریقہ ہے جسے آپ اپنا سکتے ہیں ۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب