سوموار 13 شوال 1445 - 22 اپریل 2024
اردو

عیسائیت اور اسلام میں فرق

سوال

وہ کون کون سے اسباب ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں اور عیسائیوں میں تفریق پیدا ہوئی؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین تفریق اور اختلاف کا باعث بننے والے اسباب بہت زیادہ بھی ہیں اور اہمیت کے حامل بھی ہیں، ہمارے اور عیسائیوں کے عقیدے میں پائے جانے والے اختلافات کی وجہ سے دونوں باہمی قربت میں نہیں آ سکتے، ہاں ایک صورت ہے کہ عیسائی حضرات کفر و گمراہی پر مشتمل نظریات چھوڑ دیں ، اور ایک اللہ کو ماننے والوں کے ہمراہ چلیں، نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کی گواہی دیں، اور عیسی علیہ السلام کے بشر ہونے کا عقیدہ رکھیں تو باہمی قربت قائم ہو سکتی ہے۔

ذیل میں عیسائیت کے اندر پائے جانے والے ایسے واضح ترین فرق ذکر کیے جاتے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان خلیج وسیع تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔

1- عیسائیوں کا یہ ماننا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالی کے بیٹے ہیں۔

2- عیسائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام اللہ تعالی کے ہمراہ معبود ہیں، یعنی ان کے عقیدۂ تثلیث کا دوسرا اقنوم ہیں۔

3- عیسائی یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ لاہوت [الوہیت] ، ناسوت [انسانیت ] میں حلول کر چکی ہے۔

4-عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ 3 اقانیم کا مجموعہ ہے، اسی کو عقیدہ تثلیث بھی کہتے ہیں۔

5- عیسائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کو یہودیوں نے (Pontius Pilate) پونٹیئس پیلاطیس کے کہنے پر سولی چڑھا دیا تھا، اور آپ کی وفات سولی پر ہی ہوئی۔

6- عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ عیسی علیہ السلام کی موت صلیب پر بنی نوع انسان کے لیے تاوان اور گناہوں کے کفارے کے طور پر ہوئی۔

7- یہودیوں کے بارے میں عیسائیوں کا موقف جنہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کفر کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے انہیں صلیب پر چڑھایا اور انہیں قتل کر دیا، مزید انہی یہودیوں نے عیسی علیہ السلام کی والدہ مریم پر زنا کا الزام لگایا – حالانکہ آپ ایسی کسی بھی بات سے بالکل مبرا اور پاک تھیں- اس سب کے باوجود آج بھی عیسائی یہودیوں کے ساتھ حمایت اور وفاداری کا دم بھرتے ہیں، جبکہ یہی عیسائی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کی تعظیم کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ دشمنی اور لا تعلقی رکھتے ہیں!!۔

8- عیسائیوں نے اللہ تعالی کی کتاب انجیل میں تحریف کی، جو کہ الفاظ کو تبدیل کرنے یا کمی بیشی کرنے کی صورت میں بھی ہے اور معنوی تحریف کی صورت میں بھی ہے، عیسائیوں کی ان تحریفات کی وجہ سے اللہ تعالی اور دین الہی کی طرف نامناسب چیزیں بھی منسوب ہو گئیں حالانکہ ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔

9- فدیہ کا نظریہ، یعنی عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے اکلوتے بیٹے کو بنی نوع انسان کے باپ آدم علیہ السلام کے گناہ سے نجات دلانے کے لیے بھیجا، چونکہ اللہ تعالی کی طرف سے آدم علیہ السلام کے گناہ کی معافی نہیں ہو سکی، اس لیے اللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام کو بھیجا جو کہ اللہ تعالی کا اکلوتا بیٹا تھا اور اس کا کوئی گناہ نہیں تھا، انہوں نے آدم علیہ السلام کے گناہ کو مٹانے کے لیے اپنی جان کی قربانی پیش کی۔

 یہ عقیدہ اللہ رب العالمین کی تنقیص ہے اور اس حقیقت کا انکار ہے کہ آدم علیہ السلام نے توبہ کی تھی اور اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کی توبہ کو قبول فرمایا، مزید برآں یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح یعنی عیسی علیہ السلام کو قتل سے بھی محفوظ رکھا۔

10- عیسائی لوگ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خوش خبریاں عہد نامہ جدید اور قدیم دونوں میں ہیں۔

11- عیسائی آج کل کی تحریف شدہ تورات کو بالکل صحیح سمجھتے ہیں، حالانکہ اس تحریف شدہ تورات میں ذات باری تعالی کے متعلق نامناسب کلمات، اللہ تعالی کی ذات کی تنقیص ، انبیائے کرام اور رسولوں کے بارے میں ایسی باتیں ہیں کہ جن کو انسان زبان پر نہیں لا سکتا، لیکن پھر بھی ہم انہیں ذکر کرنے کی جسارت کریں گے تا کہ یہ بات واضح ہو کہ عیسائی کن کفریہ باتوں کو تسلیم کرتے ہیں۔

مثلاً: عیسائی اپنی تحریف شدہ تورات کی رو سے مانتے ہیں کہ اللہ تعالی کو نوح علیہ السلام کی قوم کو طوفان میں غرق کرنے کے بعد بہت رونا آیا، یہاں تک کہ اللہ تعالی کی آنکھیں درد کرنے لگیں اور فرشتوں نے اللہ تعالی کی تیمار داری بھی کی۔ اللہ تعالی ان کی بہتان بازیوں سے بالکل پاک ہے۔

عیسائی یہ بھی کہتے ہیں کہ لوط علیہ السلام نے -نعوذ باللہ- اپنی 2 بیٹیوں سے زنا کیا۔ نوح علیہ السلام نے شراب نوشی اتنی کی کہ مدہوش ہو گئے اور برہنہ ہو گئے۔ عیسائیوں کی اس قسم کی باتیں اور بھی بہت زیادہ ہیں۔

اس کے لیے آپ ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب: " هداية الحيارى في أوبة اليهود والنصارى " اور ڈاکٹر محمد بن عبد اللہ سحیم کی کتاب: " نقض النصرانية " کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب